ایک خانقاہ میں گزرے چند گھنٹے- خورشید ندیم

کہاں سیاست کا ہنگامہ اور کہاں خانقاہ کا سکوت! قدرت مگر چاہے تو صحرا میں پھول کھل اٹھیں۔ زندگی کی ہر ساعت اضطراب میں نہیں گزر سکتی۔ سفینۂ حیات کو سکون چاہیے کہ مسلسل سفر تھکا دیتا ہے۔ کوئی پڑاؤ، کوئی سرائے کہ کچھ دیر کو دم لے لیں۔ مسافر کو نسبت سفر اور راستے سے ہے۔ پڑاؤ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ تازہ دم ہو جائے اور نئی توانائی کے ساتھ پھر عازمِ سفر ہو۔

سرائے کا خیال تھکاوٹ کے احساس کو کم کر دیتا ہے۔ سر راہ کوئی پناہ گاہ، کوئی شجر سایہ دار۔ میں بھی ایسے ہی ایک پڑاؤ کا ذکر کرنے چلا ہوں۔ سیاست کے اضطراب سے دور، ایک خانقاہ کا سکون: یوں تو ہے رنگ زرد مگر ہونٹ لال ہیں - صحرا کی وسعتوں میں کہیں گلستان تو ہے
تین سماجی ادارے ہیں جنہوں نے ہمارے اسلامی تہذیبی ورثے کی حفاظت کی: مسجد، مکتب اور خانقاہ ۔ انہی کے دم سے یہ ورثہ ایک ثقافتی روایت میں بدل گیا۔ اگر اس روایت کو میں اس خطے کے مقامی پس منظر میں دیکھوں تو صرف مسجد کی جگہ کوئی دوسرا معبد ہو گا‘ دیگر اجزائے ترکیبی وہی رہیں گے۔ مکتب اور خانقاہ پر کسی ایک مذہب کی اجارہ داری نہیں رہی۔ ہند میں بدھ مت کی روایت چونکہ زیادہ تر ہندو مت میں بدل گئی، اس لیے بدھ مذہب کے ماننے والے تبت جیسے علاقوں تک محدود ہو گئے۔ خطہ پوٹھوہار میں بدھ مت کی روایت بہت مضبوط تھی، اس لیے ڈاکٹر دانی جیسے اہلِ تحقیق کا خیال ہے کہ ٹیکسلا، اسلام آباد اور نواع کی بہت سی خانقاہیں دراصل تاریخی اعتبار سے بدھ مت کا ورثہ ہیں جنہیں بعد میں مسلمانوں نے آباد کیا۔

خانقاہ مذاہب کا مشترکہ ثقافتی ورثہ ہے۔ اس کی ایک وجہ ہے۔ مذہب ایک ما بعدالطبیعاتی تصور ہے اور 'مذہبِ انسانیت‘ (Humanism) کے ظہور سے پہلے، کم و بیش اجماع ہے کہ انسانی اخلاقیات کی بنیادیں بھی ما بعدالطبیعاتی ہیں۔ انسان کے مادی وجود کے مطالبات اس کا حصار کیے رہتے ہیں۔ یوں اس کا اخلاقی وجود، جو ما بعدالطبیعاتی ہے، مسلسل خطرات میں گھرا رہتا ہے۔ مذاہب ان خطرات سے محفوظ رہنے یا ان کے علاج کے لیے ایک نسخہ تجویز کرتے ہیں۔
مذہب کے نزدیک، انسان کی اخلاقی صحت کے لیے لازم ہے کہ وہ کچھ وقت مادی مطالبات سے بے نیاز ہو کر، ایک ایسے ماحول میں گزارے جہاں اس کے اخلاقی وجود کی تطہیر کا اہتمام ہو اور اس کا ربط اس ما بعدالطبیعاتی نظام سے قائم رہے جس کی اساس ایک ایسی ہستی پر ایمان ہے جو ماورائے اسباب تصرف کی قوت رکھتی ہے۔ عبادات کا نظام اسی کی تذکیر ہے۔ خانقاہ اس سارے عمل کی سماجی تشکیل ہے۔ خانقاہ کا یہ سماجی کردار متقاضی ہے کہ یہ انسانی بستیوں سے ہٹ کر آباد کی جائیں۔ جہاں انسان فطرت کے قریب ہو اور کچھ دیر کے لیے زندگی کے ہنگاموں سے دور ہو جائے۔

اسے اپنے اخلاقی وجود کی اہمیت کا اندازہ ہو اور وہ اس کی پاکیزگی کے بارے میں سوچے۔ خانقاہ انسانی نفسیات کے گہرے ادراک سے پھوٹا ہوا تصور ہے۔ اسی وجہ سے روایتی طور پر یہ شہروں سے دور آباد کی جاتی تھی۔ انسان کو لوٹنا تو زندگی کے ہنگاموں کی طرف ہی ہے لیکن خانقاہ اس سفرِ حیات میں ایک پڑاؤ ہے۔ آدمی یہاں کچھ دیر قیام کرتا ہے تاکہ اخلاقی طور پر تازہ دم ہو کر زندگی کی طرف لوٹے۔جس مذہب کے پیروکار خانقاہ کو آباد کریں گے، اس کے ماحول پر اسی مذہب کا رنگ غالب ہو گا؛ تاہم خانقاہ کی روایت میں مذہبی تعصب کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ صوفیا کی ساری شاعری اس تعصب کی مذمت میں ہے۔ یوں ان خانقاہوں پر ہر مذہب کے لوگ آتے ہیں۔ پاکستان جس خطے کا نام ہے، یہاں مسلمانوں کا غلبہ ہے۔ کم و بیش ستانوے فی صد آبادی مسلمان ہے۔ اس لیے یہاں پیر مسلمان ہیں اور مرید بھی۔ سندھ میں چونکہ مذہبی تنوع نسبتاً زیادہ ہے، اس لیے سندھ کی خانقاہوں کے زائرین کی ایک بڑی تعداد ہندوئوں پر مشتمل ہے، اگرچہ یہ خانقاہیں مسلمان صوفیا سے منسوب ہیں۔ یہی معاملہ بھارت کی خانقاہوں کا بھی ہے۔

یہاں تصوف کا اعتقادی یا فلسفیایہ پہلو زیرِ بحث نہیں۔ میں خانقاہ کو ایک سماجی ادارے کے طور پر دیکھ رہا ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ ادارہ ہر معاشرے کی ناگزیر سماجی ضرورت ہے۔ معاشرے کے اکثر مسائل، انسان کے مادی وجود کے مطالبات سے پھوٹے ہیں۔ لالچ، خود غرضی، دوسروں کی تذلیل، جھوٹ، عدم برداشت، یہ تمام اخلاقی رذائل مادی بقا سے جڑے ہوئے ہیں۔ معاشروں میں ایسے مراکز ضرور ہونے چاہئیں جہاں انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اصلاً ایک اخلاقی وجود ہے اور یہ رذائل، وہ عوارض ہیں جو اس کے اخلاقی وجود کو بیمارکرتے اور بعض اوقات اسے مار دیتے ہیں۔ چند روز پہلے، قدرت مجھے ایسے ہی ایک مرکز تک لے گئی۔
یہ بگھار شریف کی خانقاہ ہے۔ بگھار کہوٹہ کی نواحی بستی ہے، اسلام آباد سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر۔ محل وقوع دیکھ کر خیال ہوتا ہے کہ قدرت نے اسے کسی خانقاہ ہی کیلئے بنایا ہے۔ سرسبز پہاڑوں میں گھری پیالہ نما وادی، جہاں فطرت نے فیاضی سے اپنے رنگ بکھیر دیے ہیں۔ بل کھاتی ہوئی ایک سڑک مسلسل بلندی کی طرف جاتی ہے جیسے کوئی سالک، سلوک کی منزلیں طے کر رہا ہو۔

خاموشی کی دبیزتہہ، جسے فطرت سے سرگوشیاں کرتی، کوئی مترنم آواز گاہے بلندآہنگ ہوکر توڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ کبھی ہوا کی سرسراہٹ کی صورت کبھی کسی پرندے کی چہچہاہٹ کی شکل میں۔ خانقاہ کے قرب میں راستہ ایک برساتی نالے سے ہم آغوش ہو جاتا ہے۔ پانی کی شفافیت میں فطرت کا حسن جھلکتا ہے۔
ڈاکٹر صاحبزادہ ساجدالرحمن، یہاں آنے والے زائرین کے میزبان ہیں۔ ان سے میرا برسوں کا تعلق ہے۔ وہ خانقاہی روایت میں ڈھلی ہوئی ایک شخصیت ہیں۔ شفیق، مہربان اور دل آویز۔ دل بے ساختہ ان کی طرف کھچا چلا جاتا ہے۔ ان کے والد گرامی مولانا محمد یعقوب نے شعوری کوشش کی کہ اس جگہ کو علم اور اخلاق کا ایک مرکز بنایا جائے۔ صاحبزادہ صاحب نے اس روایت کو بہت سلیقے کے ساتھ آگے بڑھایا۔ یہاں آنے کا سبب دارالعلوم یعقوبیہ کی سالانہ تقریب تھی۔ یہ ادارہ دینی اور دنیاوی علوم کا ایک مرکز ہے۔ اس کی بنیاد وحدتِ علم کے تصور پر رکھی گئی ہے۔ یہاںعلم کے طالبوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ تسخیرِِ کائنات کا پہلا مرحلہ اپنی ذات کی تسخیر ہے۔ یہ مرحلہ اخلاقی تطہیر کے بغیر طے نہیں ہو سکتا اور تطہیر و تزکیہ نفس کا یہ عمل احساسِ بندگی سے عبارت ہے۔

مجھے یہاں آ کر خیال ہوا کہ خانقاہی فضا یہ احساس پیدا کرنے کی فطری تجربہ گاہ ہے۔ ایک خانقاہ کی ہمسائیگی بڑی حد تک وہ کام کر دیتی ہے جو علما کے مواعظ اور سکالرز کے خطبات نہیں کر سکتے۔ واپسی کے سفر میں، مجھے کہوٹہ میں اس لا کالج کی عمارت دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا جو کم و بیش مکمل ہو چکی اور جہاں قانون کی تعلیم کا ایک اعلیٰ ادارہ قائم ہو رہا ہے۔ صاحب زادہ ساجدالرحمن صاحب نے اس کی بنیاد رکھی۔ اس خطے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے جسے مستقبل میں قانون کی تعلیم کے ساتھ ساتھ سماجی علوم میں اعلیٰ درجے کا تحقیقی ادارہ بھی بنانا مقصود ہے۔ بگھار شریف جا کر، میں چند گھنٹوں کے لیے اس اضطراب سے نکل آیا جو سیاسی ماحول کی عطا ہے۔ کچھ دیر کے لیے فطرت سے ہم کلام ہونے کا موقع ملا۔ روحانی اعتبار سے بھی اور حواس کی معرفت بھی۔ بگھار ایک دوسرے اعتبار سے بھی مجھے منفرد لگا۔ ہماری خانقاہی روایت، ہر دوسری روایت کی طرح برباد ہو چکی۔ یہ اب مادی اسباب جمع کرنے کے مراکز ہیں۔ روحانیت اور اخلاقی تربیت اب قصہ پارینہ ہوئے۔ پیروں کی اولادیں ملکیت کے لیے جھگڑ رہی ہیں جیسے تاجروں کے بچے دکانوں اور فیکٹریوں پر لڑتے ہیں۔

میں صاحبزادہ صاحب کو برسوں سے جانتا ہوں۔ میں ان کے بچوں سے بارہا ملا ہوں۔ میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ ان کے بچے باپ دادا کی اخلاقی روایات کے وارث ہیں۔ وہ شعوری طور پر اس کا احساس رکھتے ہیں کہ باپ کی وراثت علم اور تعلق باللہ ہے۔ میں اس پُرمسرت احساس کے ساتھ بگھار شریف سے لوٹا کہ
صحرا کی وسعتوں میں کہیں گلستاں تو ہے