کہا تھا نا مت ناچو - صہیب جمال

سنیں ! آپ جب کنٹینر سے کی گئی تقریروں پر لمبے دعوؤں پر ناچ رہے ہوتے تھے تو ہم آپ کو کہتے تھے یہ جھوٹ ہے جھوٹ پر مت ناچو ، جب الیکشن میں بڑے بڑے وعدے کیے جا رہے تھے تو آپ لوگ اتنا اچھل رہے تھے کہ لوگوں کی چائے گر رہی تھی ، ہم آپ کو بتا رہے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر بیٹھ کر جو پارٹیاں وجود پاتی ہیں ان کو یہ حکومت دے کر جتنا ذلیل کرتے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ،

ہم جونیجو سے اور اب خان صاحب کی حکومت تک وہی کھیل دیکھ رہے ہیں ۔ ہم نے نواز شریف کو بھی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر چڑھ کر احتساب کے دعوے کرتے دیکھا ہے ، جب نوّے میں بینظیر کی حکومت توڑی گئی تو اس وقت ہم بہت خوش تھے کہ اب احتساب ہوگا ، مسٹر ٹین پرسنٹ کو سزا ہوگی ، بس کچھ مہینوں میں کھیل سامنے آگیا ، اس اسٹیبلشمنٹ سے نواز شریف نے بہت کوشش کی کہ جان چھڑا لے مگر یہ وہ جن ہے جو قبر تک جاتا ہے ۔ نواز شریف کے دوسرے دور میں 96ء میں احتساب کا ایک شور مچایا گیا ، خوب گرفتاریاں ہوئیں مگر نتیجہ نکلا مشرف کا مارشل لاء اور اس دور میں بھی سب کے ساتھ ڈیل کی گئیں یوں پوری سیاسی قیادت ملک سے باہر بھیج دی گئی ۔ آپ سب نئے سیاسی بچونگڑے ہو ، آپ سب کی خرابی یہ ہے کہ کمزور معلومات کے ساتھ ساتھ شدید حد تک ڈھیٹ بھی ہو اور خوش فہم بھی ، آپ جس بھی پارٹی اور سیاستدان کے خلاف کوئی بھی دلیل لاتے ہو وہ ساری خرابیاں آپ کی پسندیدہ پارٹی میں موجود ہیں وہ مگر وہ حلال ہے یہاں حرام

آپ اپوزیشن میں رہ کر وہ سارے کام کرچکے ہو جو اب ہو رہے ہیں اور حکومت میں رہ کر آپ کی پارٹی جو کام کر رہی ہے وہ سارے کا پچھلے حکمران کر چکے ہیں ۔
وہ سب کچھ اب بھی ہو رہا ہے جو پہلے ہوتا تھا ، اب اس لیے بدتر ہو رہا ہے کیونکہ ملک میں اس نااہل حکومت نے کسی قسم کا بھی پرامن سیاسی ماحول نہیں رکھا ، مولاجٹ بننے کے چکر میں نوری نتھ سے مار کھا گئے ۔ ملک میں سرمایہ داروں کو اعتماد میں لینے کے بجائے ان کو نیب سے ڈرانے لگے ۔ یہ کیوں ڈرانے لگے ؟
کیونکہ آپ کو بتایا گیا کہ صرف نواز شریف اور زرداری ہی آپ کو اتنی دولت دے دیں گے کہ ملک میں سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں پڑے گی ، دو سو ارب ڈالر باہر پڑے ہیں وہ واپس آئیں گے ، مراد سعید پاگل نہیں تھا جو دو سو ارب ڈالر کی واپسی کا دعویٰ کر رہا تھا اور قبر تک اس دو سو ارب ڈالر کا داغ لے کر ہی مرے گا ۔
یہ سب نہیں ہوا تو آپ کے وزیراعظم کے کان میں کسی نے کہا کہ کراچی کے ساحل پر اتنی گیس اور اتنا تیل ہے کہ دو تین ہفتوں میں ملک کی تقدیر پلٹ جائے گی ۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک نہیں دو استعفے - حبیب الرحمن

فیصل واڈا باؤلا نہیں تھا جو ٹھیلے والوں کو ملک ریاض بنانے کے دعوے کر رہا تھا ۔ آپ نے اسد عمر کے دعوے نہیں سنے تھے ؟ جو تیرہ ارب روپے میں پشاور بی آر ٹی بنانے چلا تھا ، جو روز اسمبلی میں ساٹھ روپے کا پٹرول کہا کرتا تھا ۔آپ نے علی محمد خان کی تقریروں پر آنسو نکلتے نہیں دیکھے جو اب سوکھ چکے ہیں ۔ آپ سب کے سب مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے مارچ پر فوٹو شاپ مذاق اور جگتوں میں لگے تھے ان کے خلاف لطیفے بنا رہے تھے اور آپ کی پارٹی ، اسٹیبلشمنٹ اور نون لیگ ڈیل میں لگی ہوئی تھی ، مولانا کے مارچ سے نون لیگ کی دوری پر آپ مولانا کو طعنے دے رہے تھے جبکہ دنیا آپ کی لٹ رہی تھی ۔ آپ لوگ حد درجے بیوقوف لوگ ہیں ، اس وقت سوشل میڈیا اور گلی محلّوں میں جو آپ لوگوں کی درگت بن رہی ہے جس طرح لوگ طعنے دے رہے ہیں الامان الحفیظ ۔ ایک صاحب کل چڑ کر کہنے لگے ...... "تو کیا ہوا دیکھنا اگلا الیکشن بھی ہم جیتیں گے کیونکہ فوج ہمارے ساتھ ہے" فارم پینتالیس اور فوج کا واقعی چولی دامن کا ساتھ ہے .