جنت میں کون کون جانا چاہتا ہے؟ - ام محمد سلمان

حلقہ درس میں باجی اپنے خوبصورت لب و لہجے اور دل نشیں انداز میں حدیث پڑھا رہی تھیں۔ سب خواتین ہمہ تن گوش تھیں۔ چہروں پر احترام اور آنکھوں میں شوق جھلکتا ہوا.. وہ سب ان کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ ایک حدیث میں جنت کا ذکر آیا تو اچانک ہی باجی نے مسکراتے ہوئے سوال کیا... ہاں بھئی جنت میں کون کون جانا چاہتا ہے؟

اس سوال پر سب کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔ سب کا ایک ہی جواب تھا باجی!! جنت میں تو ہم سب جانا چاہتے ہیں۔
"ماشاء اللہ!! اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے فضل سے جنت میں اکٹھا فرمائے، آمین۔ باجی نے بڑے جذب سے کہا۔ چلیے آگے چلتے ہیں.. انھوں نے کتاب کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔ اسی اثناء میں ایک خاتون کی بوجھل سی آواز آئی.. "باجی صاحبہ!! میں کچھ پوچھنا چاہتی ہوں." "ضرور پوچھیے!" "باجی!! جنت کے بارے میں تو بچپن سے پڑھتے سنتے چلے آئے ہیں۔ اس کے اونچے محلات، بہتے جھرنے، خوشنما باغات اور طرح طرح کی نعمتیں.... ہر چیز دل کو لبھانے والی ہے۔ مگر جب سے مدرسے میں آ کر رسول اللہ ﷺ کی حقیقی اور سچی محبت کا مزا چکھا ہے تو دل بہت اداس رہنے لگا ہے۔ خاتون طالبہ کی آنکھوں میں آنسو جھلملائے۔ "ارے...!! وہ کیوں بھئی؟" باجی محترمہ نے بڑے پیار سے پوچھا۔ "باجی!! مانا کہ جنت بہت حسین ہے، دل نشین ہے۔ وہاں نعمتوں کی فراوانی ہو گی، حسن و جوانی ہو گی، دل لگی و قہقہے ہوں گے، مسرتیں ہوں گی... سامان عیش و عشرت کی کثرت ہوگی ۔ کوئی غم نہ ہوگا کوئی پریشانی کوئی دکھ نہیں... مگر باجی!!

کیا صرف یہی ہماری جزا ہے کہ ہم خوبصورت پر آسائش محلات میں رہیں، دیدہ زیب لباس پہنیں، انواع و اقسام کے لذیذ کھانے کھائیں اور سیر و تفریح کرتے پھریں.... بس!! کیا صرف یہی...؟ کیا اسی پر ہم خوش ہو جائیں؟" " تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ سب کافی نہیں؟ آپ کیا چاہتی ہیں؟ باجی نے دلچسپی سے پوچھا۔ "یہ کافی نہیں ہے باجی!! میرے اندر بڑے سناٹے ہیں، تنہائیاں ہیں، اداسی ہے۔ مجھے لگتا ہے میں اللہ کے فضل سے جنت میں چلی بھی گئی تو بھی جنت کی حسین دل ربا فضاؤں میں، کسی مقام پر اداس ہی بیٹھی ہوں گی۔ خاتون نے کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے جواب دیا۔ " لیکن ایسا کیوں سوچتی ہیں آپ؟" باجی کی دلچسپی مزید بڑھ گئی۔ "باجی جان!! ہم تو بہت چھوٹے لوگ ہیں ناں!! بہت حقیر، بہت کم تر، بہت بے بس، لاچار.. گناہوں میں پھنسے خواہشوں کے مارے لوگ...!! مگر یہ دل جب سے رسول اللہ ﷺ کی محبت کا شیدائی ہوا ہے تو ان سے ملنے کا تمنائی بھی ہوگیا ہے۔ وہ جو امت کے باپ ہیں، رب العالمین کے محبوب ہیں، رحمۃ اللعالمین ہیں، وہ کیسے ہوں گے...؟ وہ جن کے بارے میں کہا گیا .... "بعد از خدا بزرگ توئی، قصہ مختصر" .. بھلا کیسے نہ ان سے ملنے کو دل چاہے؟؟؟

جب صحابہ کرام کے قصے پڑھتے ہیں تو دل ان کی زیارت کو بے تاب ہوتا ہے جب اماں عائشہ اور خدیجۃ الکبریٰ کے واقعات پڑھتے ہیں تو دل بے اختیار ان سے ملنے کو مچل اٹھتا ہے۔ مگر باجی!! سوچتی ہوں... وہ سب کہاں اور ہم کہاں...!! نہ جانے وہ جنتوں کے کن اعلی درجوں میں ہوں گے۔ وہ رب کے قریب ہوں گے۔ وہ سب آپس میں ملتے ملاتے ہوں گے۔ وہ تو بہت نیک بہت بلند و بالا مرتبے والے تھے ناں...!! باجی ہم تو ان کے پیروں کی دھول کی دھول بھی نہیں۔ وہ کہاں اور ہم کہاں...!!؟ ہم کہیں نچلی جنتوں میں بس اچھی پر آسائش زندگی گزارتے رہیں گے.. بس یہی!! صرف اتنا ہی..؟؟؟ کیسے دل لگے گا جب ہم اپنے پیاروں کی زیارت نہ کر پائیں گے؟؟؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دور میں پیدا کیا، جب ہم عہد نبوی سے بہت دور ہیں ۔ ہم کسی کی زیارت نہ کر پائے کسی سے نہ مل پائے... تو کیا ہم جنت میں بھی ان سے نہ مل پائیں گے؟ ہم تو بہت پیاسے سے رہ جائیں گے باجی!! خاتون پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ کئی اور خواتین کی بھی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ اور کیوں نہ ہوتیں یہ جذبہ شوق یہ محبت تو سب کے دل میں تھی۔ تب باجی نے مسکراتے ہوئے اپنی آنکھوں کے نم گوشوں کو صاف کیا اور تسلی دی ۔

یہ بھی پڑھیں:   جنت کے پھول - ڈاکٹر بشری تسنیم

"ہم ملیں گے عزیزہ!! ضرور ملیں گے ان شاء اللہ ۔ اللہ اپنے فضل سے جنت میں لے جائے تو ہم اپنے نبی علیہ السلام سے بھی ملاقات کریں گے اور باقی سب صحابہ کرام و صحابیات سے بھی اور اللہ کے تمام انبیاء کرام اور نیک برگزیدہ بندوں سے بھی۔" کیا سچ باجی..!! کیا ایسا ممکن ہے!؟ خاتون نے بہت حیرت و مسرت سے سوال کیا ۔ جی جناب بالکل سچ!! چلیے آج میں آپ سب کو ایک بہت ہی خوش کن واقعہ سناتی ہوں : "حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ : ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ!! آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں اور اپنے بیوی بچوں اور مال سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں اور آپ کا خیال آ جاتا ہے تو صبر نہیں آتا جب تک کہ حاضر ہو کر زیارت نہ کر لوں۔ یہ بھی جانتا ہوں کہ اس دنیا سے مجھے اور آپ کو رخصت تو ہونا ہے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام تو انبیاء علیہم السلام کے درجے پر چلے جائیں گے اور (مجھے اول تو یہ معلوم نہیں کہ جنت میں پہنچوں گا بھی یا نہیں) اگر میں جنت میں پہنچ بھی گیا (چوں کہ میرا درجہ آپ سے بہت نیچے ہوگا اس لیے) تو مجھے اندیشہ ہے کہ میں وہاں آپ کی زیارت نہ کر سکوں گا تو مجھے کیسے صبر آئے گا؟

رسول اللہ ﷺ نے ان کی بات سن کر کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے :
"وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا
" جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا٫ اور صدیقین اور شہدا٫ اور صالحین کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔" (سورة النساء:69) ۔
اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ وہ بولا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت (یعنی فرائض کے اہتمام کے ساتھ ساتھ)۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ "تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے تو محبت رکھے گا۔" سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ *"ہم اسلام لانے کے بعد کسی چیز سے اتنا خوش نہیں ہوئے جتنا اس حدیث کے سننے سے خوش ہوئے۔"*(صحیح مسلم) لیکن باجی!! وہ سب تو صحابہ کرام کی بات ہے ناں...!!! انبیاء، صدیقین، صالحین اور شہداء کی بات ہے ۔ ہم جیسے عام لوگ کیسے مل پائیں گے؟ ہمارے گناہ تو ہمیں سر بھی نہیں اٹھانے دیتے۔ "ایک حدیث اور سنیے... آپ کا یہ شبہ بھی دور ہو جائے گا" انھوں نے بات جاری رکھتے ہوئے متانت سے کہا۔

"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا"یا رسول اللہ ﷺ !آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو ایسے (نیک) لوگوں سے محبت کرتا ہے جن کے نیک اعمال کو وہ نہیں پہنچا۔" آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا "(قیامت کے دن) آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس نے محبت کی۔"(صحیح مسلم) باجی محترمہ نے یہ احادیث اور آیت مبارکہ سب کے سامنے پیش کی اور حلقہ درس میں شریک سب بہنوں کی طرف ایک پُر شفقت اور گہری نظر سے دیکھا۔ اور نظریں اس سوال کرنے والی خاتون کے چہرے پر آ کر ٹھہر گئیں... جس کی آنکھوں سے خوشی کے مارے موتیوں کی جھڑی لگ چکی تھی۔
"رسول اللہ اور نیک لوگوں کی محبت بہت قیمتی سرمایہ ہے عزیزہ! محبت تب ہی تو ہوتی ہے جب دل اندر سے کس کا قدر دان ہوتا ہے، شیدائی ہوتا ہے، ان جیسا بننے کا تمنائی ہوتا ہے اور اسی میں اپنی کامیابی سمجھتا یے۔ تو جب محبت نیک لوگوں سے ہوگی تو وہ انہی کا ساتھی بنائے گی ان شاء اللہ ۔"
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے باجی جان !! ایسا لگتا ہے آج میں اندر سے زندہ ہو گئی ہوں۔ میرے من کی بنجر زمین اچانک سیراب ہو گئی ہے۔ یوں لگتا ہے جینے اور مرنے کا مقصد حاصل ہو گیا یے۔"

یہ بھی پڑھیں:   بچے،جنت کے پھول- ڈاکٹر ساجد خاکوانی

" بہت خوب ماشاء اللہ!! مگر یاد رکھیے عزیزات!! قاضی عِیاض فرماتے ہیں محبت رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ محبت صرف دل میں نہ ہو بلکہ عمل بھی اس کی گواہی دیتا ہو۔ جو شخص کسی کو محبوب رکھتا ہے اسے ماسِوا پر ترجیح دیتا ہے۔ یہی معنی ہیں محبت کے ورنہ محبت نہیں، محض دعویٰ محبت ہے۔ پس نبی علیہ السلام کے ساتھ محبت کی علامات میں سب سے مہتمم بالشّان یہ ہے کہ آپ کا اتباع کرے، آپ کے طریقے کو اختیار کرے اور آپ کے اقوال و افعال کی پیروی کرے۔ آپ کے احکامات کی بجا آوری کرے اور آپ نے جن چیزوں سے روک دیا ہے ان سے پرہیز کرے۔ خوشی میں رنج میں تنگی میں ترشی میں ہر حال میں آپ کے طریقے پر چلے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوۡنِىۡ يُحۡبِبۡكُمُ اللّٰهُ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡؕ‌ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (آل عمران 31)
ترجمہ: اے نبیؐ! لوگوں سے کہہ دو کہ، "اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میر ی پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔ اس محبت کے سچا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہر حال میں ہو، اقوال میں بھی ہو اور افعال میں بھی، عقائد میں بھی ہو اور اعمال میں بھی، ظاہر میں بھی ہو اور باطن میں بھی۔

پس جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرتا ہے، اللہ کی محبت اس کے دعویٰ کی تصدیق کرتی ہے، اللہ اس سے محبت رکھتا ہے اور اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس پر رحمت فرماتا ہے، اسے تمام حرکات و سکنات میں راہ راست پر قائم رکھتا ہے۔ جس نے رسول اللہ کی اتباع نہ کی وہ اللہ سے محبت رکھنے والا نہیں۔ کیوں کہ اللہ کی محبت کا تقاضا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اتباع ہے۔ جب اتباع موجود نہیں، تو یہ محبت نہ ہونے کی دلیل ہے۔ اس صورت میں اگر وہ رسول سے محبت رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا دعویٰ جھوٹا ہے اور اگر محبت موجود بھی ہو تو اس کی شرط (اتباع) کے بغیر ایسی محبت بے کار ہے۔ سب لوگوں کو اسی آیت کی ترازو پر تولنا چاہیے۔ جتنی کسی میں اتباع رسول ہوگی، اسی قدر اس میں ایمان اور اللہ کی محبت کا حصہ ہوگا اور جس طرح اتباع میں کمی ہوگی، اسی قدر ایمان اور اللہ کی محبت میں نقص ہوگا۔" باجی محترمہ نے بہت وضاحت و صراحت سے آیت کا مقصد بیان کر دیا تھا۔ محفل برخاست ہوئی اور تمام خواتین اپنے دلوں میں اتباع رسول کا عزم لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ محمدﷺ کی غلامی دینِ حق کی شرط اول ہے - اگر ہو اس میں کچھ خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے .

ٹیگز