میرے پاس تم ہو - رمشاجاوید

"زندگی بہت پرسکون گزررہی تھی جب "میرے پاس تم ہو" ڈرامہ دیکھ لیا۔ زہنی طور پر اذیت میں مبتلا ہوگئے۔ بھلا ایسا بھی ہوتا ہے کے محبت کرنے والا شوہر جو زندگی کی ہر خوشیاں بیوی کے قدموں میں لاکر ڈھیر کرنے کی کوششیں کرے۔ بیوی اسے ٹھکرا دے ۔۔؟؟؟؟ " ہمارا غم کسی صورت کم ہونے میں نہیں آرہا تھا ۔ ہم اپنا غم لیے سہیلی کے پاس بیٹھے تھے۔

"تم ہر چیز کی اتنی ٹینشن کیوں لیتی ہو ۔۔؟؟" سہیلی ہمیں گھور کر بولی"کیا کروں ۔۔۔ ٹینشن نہ ہو تو بھی ٹینشن ہوتی ہے کے ٹینشن کیوں نہیں ہورہی ۔" ہمارا فلسفہ وہ بےوقوف سمجھ نہ سکی ۔ منہ کھولے ہمیں دیکھتی رہی۔"اگر میں "دانش" کی جگہ ہوتی تو اس امیر کبیر "شہوار" سے پانچ ملین لے لیتی ۔ پھر یورپ چلی جاتی اور ایم کیو ایم کے کسی ٹارگٹ کلر کو دو تین ملین دے کر مہوش اور شہوار کو مروادیتی۔ ایکدم سے نہیں مرواتی بلکہ پہلے اس کا آفس تباہ کرواتی ، پھر اس کا گھر اڑوادیتی۔ پھر اسے مروا دیتی ۔۔ بعد میں مہوش کو فون کرکے پوچھتی ۔۔۔ "اب بتاؤ کہاں ہے تمہارا امیر ہونے کا خواب۔؟" پھر اسے بھی مروادیتی ۔۔ قصہ ہی ختم ہوجاتا ۔" ہم دل کی بھڑاس نکال کر اسے دیکھنے لگے۔ "میری جزباتی بہن ۔۔۔۔ پہلی بات اللہ کہتا ہے عورت زمانہ جاہلیت کی طرح بن ٹھن کر گھر سے باہر نا نکلے ۔ جب مرد اپنی عورتوں کو بنا سنوار کر گھر سے باہر نکالیں گے۔ یا نکلنے کی اجازت دیں گے تو تباہی و بربادی کا مزہ بھی چکھیں گے ۔ پھر محبت کے لیے صرف اللہ کی ذات ہے ۔

انسانوں سے بےتحاشہ کی گئی محبت ٹوٹتی ضرور ہے ۔" سہیلی کا جواب ہمیں کڑوا سا لگا۔ " تو غلط کام کا انجام نہیں ملتا ۔۔؟؟؟ " ہم چڑ کر بولے " ملتا ہے لیکن تمہاری طرح نہیں کے ایک دم سے سب کچھ ہوجائے۔ اللہ کہتا ہے "تم اپنی چال چلو ، ہم اپنی چال چلتے ہیں۔" اور برے کام کا برا انجام ضرور ملتا ہے ۔ تم بھی بےسر پیر کے ڈرامے دیکھنے سے اچھا ہے مثبت کاموں میں اپنا وقت لگاو ۔ " سہلی یہ کہ کر اٹھ گئی جبکہ ہم ایک نئی ٹینشن میں مبتلا ہوگئے ۔ " کیا ضرورت تھی بلاوجہ فضول ڈرامہ دیکھ کر اپنا وقت برباد کرنے کی ۔۔۔؟؟؟؟ "