بہترین معلم ! -⁩ مہوش کرن

یہ حقیقت ہے کہ وحی کے نزول سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے لکھے نہ تھے لیکن یہ امر بھی تسلیم شدہ ہے کہ غارِ حرا میں پہلی وحی کے نزول کے ساتھ ہی آپ کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جو کہ تیئس سال میں مکمل ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”آج ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔“ (سورت المائدہ، آیت 3)

اس تعلیم کی درس و تدریس تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثتِ نبوت کے بعد ہی شروع کر دیتی تھی۔ زندگی کے مصائب و آلام کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اور ہجرتِ مدینہ کے بعد بھی مشکل حالات اور مستحکم طریقۂ کار نہ ہونے کے باوجود ایک لمحہ ضائع کئے بغیر زبانی درس کا سلسلہ پوری آزادی سے شروع کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں اور ان کی سازشوں کے ہجوم میں بھی تعلیم کی اہمیت کو پیشِ نظر رکھا۔ اسیرانِ بدر میں سے تعلیم یافتہ قیدیوں کا فدیہ ہی یہ رکھا کہ ایک ایک قیدی دس دس مسلمانوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دے اور آزاد ہو جائے۔ ان حالات میں جن مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا آگیا وہ اپنے اَن پڑھ مسلمان بہن بھائیوں کو سکھانے پر متعین کردیے گئے۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے مسلمان جتنا قرآن پڑھتے جاتے اس پر عمل بھی شروع کردیتے۔
اگر ہم تعلیم کا مقصد یہ سمجھتے ہیں کہ یہ انسان کو اخلاقی برائیوں سے نجات دے کر انسانیت کی بلندی عطا کرتی ہے تو جو تعلیم اُس وقت مدینہ میں شروع و جاری ہوئی، تو یہی بہترین تعلیم اور بہترین طریقۂ کار تھا، جسے دنیا اب تک جاری نہ کرسکی۔ نورِ علم سے گھر گھر روشن ہوگیا، ہر شخص روزہ و نماز کی طرح تعلیم کو فرض سمجھنے لگا اور ایک دوسرے کو سکھانے لگا۔

یہ بھی پڑھیں:   رحمت للعالمین ﷺ - حسان بن ساجد

اس طرح ان سب میں وہ عملی قوتیں پیدا ہوگئیں جن سے وہ ہر دائرۂ حیات میں کامیابی سے گردش کرنے کے قابل ہوگئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب قبائل کی تعلیم کا بندوبست بھی کیا۔ تمام قبائل کے لیے معلم مقرر کیے گئے اور جہاں ایسا تقرر عمل میں لانا ممکن نہیں تھا وہاں اُسی قبیلے کے ذہین و ذکی سردار کو تربیت دے کر بھیج دیا اور حکم دیا کہ وہ اپنے قبیلے کو مسائلِ قرآن کی تعلیم دیں۔ اس طرح ایک مختصر مدت میں تعلیم کا پھیلاؤ بڑھ گیا۔ تعلیم کے مستقل انتظام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بھی ایک عالیشان یونیورسٹی قائم کردی۔ جو آج کل کے دور کے تعلیمی اداروں کی طرح وسیع و عریض، بلند و بالا اور شاندار نہیں تھی بلکہ اسلام کی باقی ہر چیز کی طرح اپنی نوعیت میں بالکل سادہ تھی۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی ایک گوشے میں ایک وسیع چبوترے پر کھجور کے پتوں کا چھپر ڈال کر علم کے شیدائیوں نے اپنی درسگاہ بنا رکھی تھی۔ یہی ان کی یونیورسٹی اور یہی بورڈنگ ہاؤس تھا۔ طلباء یہیں رہتے، کھاتے، پیتے اور تعلیم حاصل کرتے۔ یہاں طلباء کی تعداد کوئی معمولی نہ تھی بلکہ اس میں کم وبیش چار سو طلباء برابر حاضر رہتے۔

وہاں طالب علموں کو صرف ناظرہ نہیں سکھایا جاتا تھا بلکہ اسرار و معانی، شانِ نزول، فصاحت و بلاغت اور تدبر و تذکر سب کچھ ہی سکھایا جاتا تھا اور انہیں قرآنی علوم میں کامل کردیا جاتا تھا۔نصابِ تعلیم بہترین کتاب یعنی قرآن تھی اور مدرس بہترین انسان یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے کہ جن کی بدولت مومنوں میں خود داری، فقید المثال غیرت، شرم و حیا، لحاظ و ادب، دین کی پابندی، برائیوں سے اجتناب، فقہ و حدیث پر عبور غرض ہر وہ خوبی پیدا ہوگئی جس سے انہوں نے صراطِ مستقیم پا لیا۔ یہ تھی اسلامی تعلیم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا اثر کہ مسلمان آنکھیں موندے نیکی کی راہ پر چل پڑے۔ کتاب و حکمت کی معلمی کا جو اعلیٰ منصب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تھی اُس کا حق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کر دکھایا۔مسلمان اپنے دورِ عروج میں ایسی ہی تعلیم اور ایسے ہی طریقۂ کار کے مطابق چل کر صدیوں دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   رحمت للعالمین ﷺ - حسان بن ساجد

اسی تعلیم سے انھوں نے نہ صرف آخرت کمائی بلکہ دنیا کی دوسری اقوام کی طب، کیمیا، فلکیات، اعداد و شمار اور سائنس و ہنر کے ہر ہر میدان میں رہنمائی کی۔ آج بھی اگر مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنا فرضِ منصبی ادا کرنا چاہتے ہیں تو ان کو غیر مسلموں کی تعلیم اور طریقۂ تعلیم کو چھوڑ کر اپنا وہی تعلیمی نظام لانا ہوگا جو انسانیت کی اصل کامیابی کا ضامن ہے، جو قیامت تک کے لیے رہنمائی کرنے والا اور دوبارہ جی اٹھنے پر جوابدہی کا شعور دینے والا ہے۔
غرض یہ کہ آج بھی مسلمان اگر اپنی دنیا و آخرت بچانا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہی نظامِ تعلیمِ مصطفوی اپنائیں جس نے خدا نا آشنا تعلیم و تہذیب کو خدا آشنا بنا کر خالق و مخلوق کو عروۃ الوثقیٰ یعنی مضبوط کنڈے سے جوڑ دیا تھا۔
؎ سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا - لیاجائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا