کاشانہ - ناصراقبال

ہمارے ہاں ایک دوسرے کیلئے راہی ں ہموار اور آسانیاں تقسیم کرنے سے زیادہ دوسروں کا بنا بنایا کام بگاڑنے اور دوسروں کی زندگی دشوار بلکہ ابتر بنانے کا رواج ہے۔اگر کوئی گرجائے تو لوگ اسے اٹھانے کی بجائے اس پر ہنسنا پسند کر تے ہیں۔ اگر کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تواس کی سرزنش سمجھ آتی ہے مگر اچھا کام کرنیوالے کی بازپرس ناقابل فہم اور ناقابل برداشت ہے۔ ہم اپنے معاشرے کی کامیاب شخصیات پر رشک کرنے کی بجائے ان سے حسد اور اس بری عادت سے اپنا نقصان کرتے ہیں۔

محاورہ ''برے کام کا برا انجام'' تو سنا کرتے تھے مگر ہمارے ملک میں نیک نام اورمخلص افراد کا''اچھا''کام ہوتے ہوئے بھی بیشتر اوقات ان کاانجام بہت'' برا''ہوتا ہے کیونکہ مافیا ممبرز اپنے مفادات کیلئے خطرہ یارکاوٹ بننے والے کرداروں کو زراور زور کے بل پر راستے سے ہٹانا جانتے ہیں ۔پاکستان کے کروڑوں محب وطن عوام کی طرح کاشانہ ویلفیئرہوم کی شفیق ومہربان ماں جیسی سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کو سینئر کالم نگاروں اورانسانی حقوق کے علمبرداروں کی دعوت پر اپنے ادارہ میں مقیم یتیم ونادار بیٹیوں کے ساتھ کشمیرمیں بھارتی بربریت کیخلاف پرامن احتجاجی مظاہرے میں شریک ہونے پر پنجاب حکومت کی چند بااثرسیاسی وسرکاری شخصیات کی طرف سے بیجامگر شدید دبائو کا سامنا ہے ۔آپ نے کس کی اجازت سے کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا ،ایسا ایک صوبائی وزیر اوران کے وفادار چیئرمین نے ان سے بازپرس کرتے ہوئے پوچھا ہے۔ ایک صوبائی وزیرسمیت چند اعلیٰ سرکاری حکام ایک سپرنٹنڈنٹ سے حسد کی آگ میں جل اوران کیخلاف محکمانہ کارروائی کا جواز ڈھونڈ رہے ہیں۔

افشاں لطیف کی بیٹیوں سمیت بھارت کیخلاف پرامن احتجاجی مظاہرے میں شرکت کو بنیاد بناتے ہوئے کاشانہ پر بیجا پابندیاں لگادی گئی ہیں اور انہیں وہ سوشل سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے۔کاشانہ کا ماہانہ فنڈ روک لیا گیا ہے اوروہاں فاقوں کی نوبت آگئی ہے جبکہ فیسوں کی عدم ادائیگی کے سبب بیٹیاں اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں جانے سے قاصر ہیں۔کئی مائوں نے باامر مجبوری اپنی بیٹیوں کو کاشانہ سے اپنے گھروں میں واپس لے جانے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔کاشانہ وہ ادارہ ہے جس کا وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے کئی بار دورہ کیا اوروہاں افشاں لطیف کی طرف سے ہونیوالی دوررس اصلاحات کوسراہا اورانہیں انعام بھی دیامگرصوبائی وزیر کے انتقام کانشانہ بن جانے کے بعد کاشانہ اب ویرانہ بنتاجارہا ہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارجس سپرنٹنڈنٹ کواس کی خدمات اوراصلاحات پرشاباش اور انعام دیتے رہے ہیں ان کاایک صوبائی وزیر اس نیک نام افشاں لطیف کونشان عبرت بنانے کے درپے ہے ۔ مودی کے یارکہاں کہاں ہیں اور کس کس طرح تحریک آزادی کشمیرکے حامیوں کوہراساں کررہے ہیں۔پاکستان کے اندرجہاںمادروطن کے محافظ اداروں کو تنقیدبرائے تنقید کاسامنا ہے وہاں کاشانہ کو یتیم ونادار بیٹیوں کیلئے آشیانہ بنانے اور شیرخوار کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے والی ایک ماں افشاں لطیف ایک زور آور اور منتقم مزاج صوبائی وزیر کے نشانے پر ہیں۔

ایک باریش سیاستدان نے ریاست اورریاستی اداروں پر حملے کرتے ہوئے انتہائی حقارت اورسیاسی مہارت کا مظاہرہ کرتے اور کشمیر کی وکالت کرنیوالے وزیراعظم عمران خان کواندرونی سیاسی چیلنجز میں الجھاتے ہوئے کشمیرکاز کو بری طرح بلڈوز کردیا ہے جبکہ دوسری طرف پنجاب کے ایک صوبائی وزیرنے یرغمال کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پرافشاں لطیف کومنصب سے ہٹانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اگر جے یو آئی کے دھرنے کی کوریج کیلئے خواتین صحافیوں کوروکنا درست نہیں توپنجاب میں کاشانہ سمیت صوبائی اداروں میں خدمات انجام دینے والی خواتین کو خوامخواہ پریشان اور ہراساں کرنا بھی ہرگز جائز نہیں ۔پنجاب میں خواتین کو ہراساں کرنیوالے ہوش کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ پنجاب میں چند مافیا ممبرز افشاں لطیف کو کس کس'' انکار'' کی سزادے رہے ہیں ،اس سلسلہ میں فوری اور اعلیٰ سطحی شفاف تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ کاشانہ سمیت صوبائی'' اداروں'' کوکس کس کے مذموم'' ارادوں'' سے خطرہ ہے ، وزیراعظم عمران خان ، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور ،وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار اور پنجاب کے زیرک اور انتھک صوبائی وزیراطلاعات میاں اسلم اقبال کو براہ راست یہ دیکھنا ہوگا۔
ہمارے ہاں کام بلکہ احسن انداز سے کام کرناکام نہ کرنے سے بڑی مصیبت بن جاتا ہے۔ریاستی اداروں میں چوروں اور کام چوروں سے زیادہ انتھک اور پرخلوص اندازسے خدمات انجام دینے والے عہدیداران اور کارکنان کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔جو ایمانداری سے فرض منصبی انجام دیتے ہیں انہیں بنیادی حقوق نہیں ملتے اور جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق پربھی حق جماتے ہیں وہ بحیثیت شہری اپنے کسی فرض کی بجا آوری کیلئے تیار نہیں۔حقوق کی دہائی دینے والے اگر اپنے فرض بھی ادا کرنا شروع کردیں تو ہمارا معاشرہ دیرینہ مسائل سے پاک ہوجائے۔ مہذب ملکوں میں سرکاری ونجی اداروں میں مستعد افراد کی کارکردگی کو سراہا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں الٹا ان کی ٹانگیں کھینچی بلکہ پسندناپسندکی بنیادپر گردنیں تک اڑادی جاتی ہیں۔ ہم لوگ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے ، اپنا نام بنانے یا چمکانے پراس قدر محنت نہیں کرتے جس قدر دوسرے کا نام بگاڑنے یامٹانے پر''زراورزور''لگاتے ہیں۔ کاشانہ ویلفیئرہوم کی انتھک سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے اپنی کمٹمنٹ اور قابلیت سے کاشانہ کی کایاپلٹ دی ہے ،اب شہر لاہور اور پنجاب سمیت چاروں صوبوں سے اہم شخصیات کاشانہ کا دورہ کرنے کیلئے آتی ہیں۔ کاشانہ میں صفائی ستھرائی اور ڈسپلن سمیت مجموعی نظام کی مثال دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گل خان شیر شاہ سوری کیوں نہ بن سکا - قادر خان یوسف زئی

انہوں نے کاشانہ میں مقیم یتیم وناداربیٹیوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت اور کردارسازی پر فوکس کیا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں انہوں نے کاشانہ میں مقیم یتیم ونادار اور مستحق بیٹیوں کے ہمراہ معتوب ومغلوب کشمیری بھائی بہنوں کے حق میں جبکہ مودی سرکار کی بدترین بربریت کیخلاف پرامن احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی جس پربھارت کے بھگت ان پربرہم ہوگئے اور انہیں شوکاز وٹس ایشو کر تے ہوئے بیجا پابندیاں عائدکردیں۔
وہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ اورقلم کاروں کی عالمی تنظیم ورلڈکالمسٹ کلب کے پلیٹ فارم سے دومختلف مگر منفرد احتجاجی مظاہروںمیں شریک ہوئی تھیں انہیں پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر کے بڑے اخبارات نے نمایاں کوریج دی اوران کے نتیجہ میں کشمیر کاز کو انتہائی تقویت ملی۔ کاشانہ کی تعمیری اور فلاحی سرگرمیاں دوسرے صوبائی اداروں کیلئے قابل تقلید ہیں۔ کاشانہ ویلفیئرہوم میں مقیم بیٹیوں نے اپنے ادارے میں ایک دیوار کاحصہ ''کشمیروال'' کے طور پر مخصوص کیا ہوا ہے جہاں انہوں نے کشمیریوں کا درد ظاہر کرنیوالی تصاویر آویزاں کی ہوئی ہیں۔

کاشانہ کی بیٹیوں کو جموں وکشمیر کی صورتحال اور یرغمال کشمیریوں کی حالت زارکا بھرپور ادراک ہے اور وہ تعلیمی وتفریحی سرگرمیوں سے محروم کشمیری بچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اپنا فرض بلکہ خود پر قرض سمجھتی ہیں۔جس ریاست کے صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار، وزیراطلاعات میاں اسلم اقبال اور وفاقی وصوبائی وزراء بھارتی بربریت کیخلاف سراپااحتجاج ہوںوہاں کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کومظلوم ومحکوم کشمیریوں سے اظہار ہمدردی کی پاداش میں انتقام کانشانہ بنانااورہراساں کرنا ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے کئی بارکاشانہ ویلفیئرہوم کے سرپرائزوزٹ اوراس کے مختلف شعبہ جات کامعائنہ کرتے ہوئے انتھک سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کی انتظامی صلاحیت اوردوررس اصلاحات کوسراہا ہے۔کاشانہ کوماڈل ادارے کاسٹیٹس ملنا افشاں لطیف کی قابلیت اورخدمات کاثمر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گل خان شیر شاہ سوری کیوں نہ بن سکا - قادر خان یوسف زئی

کوئی ریاستی ملازم کسی حکمران یا سیاستدان کاغلام نہیں ہوتا،وزیروں کوسرکاری اداروں میں ماورائے آئین اوربیجامداخلت سے رو کناہوگا۔ملک میں آئین کی حکمرانی ہے ، مٹھی بھرعاقبت نااندیش سیاستدان اپنی مرضی ومنشاء کاقانون اپنے پاس رکھیں۔کوئی صوبائی وزیرریاست میں ریاست نہیں بناسکتا ۔وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار کاشانہ کے معاملات سے بخوبی آگاہ ہیں ،وہ سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کواپنے آفس مدعواوران سے معلوم کریں انہیں اورکاشانہ کی بیٹیوں کوپنجاب کے کس صوبائی وزیر نے خوامخواہ پریشان کیا ہوا ہے۔کاشانہ کی نیک نام خاتون سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کوپنجاب کاایک صوبائی وزیرمسلسل زچ کررہا ہے ۔اگر وزیربازنہ آیا تویقینا انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے قانون دان اسے بے نقاب اوراس کامحاسبہ کریں گے۔کشمیرکازکیلئے کاشانہ کی توانا آوازبھارتی ایوانوں سمیت دنیابھر میں سنی گئی ۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کی باضابطہ دعوت پرسپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کاشانہ میںبیٹیوں کے ساتھ کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیلئے پرامن احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئی تھیں،کیاکشمیرکاز کیلئے آوازاٹھانا اورمظاہرے میں شریک ہوناگناہ ہے ۔پنجاب کاایک وزیرسپرنٹنڈنٹ کاشانہ کو ہراساںکرنے کیلئے منفی ہتھکنڈوں پرکیوںاترآیا ہے۔

پاکستانیوں کی کشمیر کاز کے ساتھ کمٹمنٹ قابل رشک ہے ،جولوگ سرکاری اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں کشمیر کازکیلئے آواز اٹھانے سے نہیں روکا جاسکتا ۔پنجاب کاایک منتقم مزاج صوبائی وزیر جس کی اپنی کوئی محکمانہ کارکردگی نہیں وہ مسلسل کاشانہ کے آشیانہ پربجلیاں گرارہا ہے۔ کسی وزیرکی طرف سے سرکاری آفیسرزاوراہلکاروں کوڈرانادھمکانا اوردبانا برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی اشرافیہ کے چند بے لگام اوربدزبان عناصر کسی انسان اوراہلکار کو اپنے انتقام کانشانہ نہیں بناسکتے ۔ کشمیر کاز کاعلم بلنداورتحریک آزادی کشمیر کے حق میں منفرداورموثرانداز میں قابل رشک کام کرنے پرکاشانہ کونشانہ بنایاگیا۔سوشل و یلفیئر حکام خود کوئی کام کرتے ہیں اورنہ انہیں کسی دوسرے کے کام کوسراہنا آتا ہے وہ الٹا اپنے ادارے کی نیک نامی کاسبب بننے وا لی افشاں لطیف کیخلاف سرگرم ہیں۔سوشل ویلفیئرحکام کااپنے آفیسرز کے ساتھ حسد اوران کے ساتھ تعصب کامظاہرہ کرناانتہائی اقدام ہے ۔

کاشانہ کی بیٹیوں کے ہمراہ کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرنے کی پاداش میں سوشل ویلفیئرحکام کی طرف سے سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کوپریشان کرناہرگزبرداشت نہیں کیاجاسکتا ۔ کشمیرکاز کیلئے کاشانہ کی تعمیری سرگرمیوںکوہرکسی نے سراہاہے مگرسوشل ویلفیئر حکام نے اپنے ادارہ کی نیک نام،مستعداورانتھک سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کوکٹہرے میں کھڑاکردیا۔ قوم کاہرفردپچھلی سات دہائیوں اوربالخصوص حالیہ تین ماہ سے کشمیری بھائی بہنوں کی آزادی کیلئے مسلسل آوازاٹھارہا ہے لہٰذاء کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے بچوں سمیت کشمیرکاز کیلئے پرامن مظاہرے میں حصہ لیاجوبھارت سمیت دنیا بھر کے اخبارات میں چھپا تواس میں انہوں نے کیابراکیا۔

سوشل ویلفیئر حکام کی طرف سے افشاں لطیف کوہراساں کئے جانے کیخلاف فوری اورسخت ایکشن لیا جائے ۔پنجاب حکومت اپنے صوبائی وزیرسمیت سوشل ویلفیئر کے متعصب حکام کیخلاف سخت اقدام کرے ۔ اگرسوشل ویلفیئرحکام انتقامی روش سے بازنہ آئے توانٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کی طرف سے ان کیخلاف عدالت عالیہ سے رجوع کیا سکتاہے۔