غصے اور رشتے - ایمن طارق

کسی جاننے والی خاتون کی فون کال نے لرزا دیا ۔۔ اچھی خاصی زندگی میں غصے کا عفریت دراڑ ڈال گیا ۔ خیال رکھنے والے شوہر نے غصے میں ایک طلاق کہہ دی ۔ غصہ کسی اور پر تھا ، نکلا کسی اور پر اور اب شاک میں ہے پورا گھرانہ ۔ دینی علم نہ ہونے کی وجہ سے اندازہ نہیں کہ کیا کرنا چاہیے ۔

اسکالر اور مفتی حضرات کی تلاش جاری ہے ۔شرمساری بھی ہے اور ندامت بھی ۔ رشتہ تو شاید دوبارہ جڑ جاۓ لیکن دل ایک دوسرے سے دور ہو گۓ ۔ ماضی میں جاؤ تو محترم کے ماں باپ کا بچوں کے سامنے لڑنے جھگڑنے چیخنے چلانے مارنے پیٹنے کا معمول تھا ۔ یعنی غصہ میں کنٹرول کھو دینا بچپن سے دیکھا تو کہیں نہ کہیں ہماری شخصیت اور برتاؤ میں ماضی چھلک ہی جاتا ہے اور اس واقعے میں یہی ہوا۔۔ یہ ایک پڑھی لکھی فیملی میں ہوا ، شادی کے کئ سال بعد ہوا ،اپس میں اچھے تعلق کے بعد ہوا ، تو کونسا طاقتور جذبہ ہر اچھائی پر پانی پھیر دیتا ہے ، جواب ہے “غصہ اور اشتعال “ جو کہ شیطان کی طرف سے ہے اور وہ رشتوں کے پیچھے پیچھے ایسی موذی بیماری کی طرح چھپا بیٹھا ہے کہ جو نمودار ہو کر جب رنگ دکھاے تو آخری اسٹیج تک پہنچا دیتی ہے ۔
غصے کے لیے قرآن میں سخط، غیظ ، غضب اور حرد کے الفاظ آئے ہیں ، سخط پہلا درجہ ہے یعنی ناپسندیدگی ، غیظ ان میں دوسرا درجہ ہے جب ایسی ناراضگی ہو جو انسان کا دوران خون تیز کر دے لیکن انسان کوئی انتقامی کاروائی نہ کرے ، اس کے بعد غضب کا مطلب ہے انسان غصے سے مغلوب ہو کر انتہائی اقدام ہر اُتر آۓ ۔

اور غضب ہمیشہ دوسرے پر آتا ہے ،نبی کریم ﷺ نے فرمایا : غضب سے بچو کہ وہ آگ کی چنگاری ہے جو ابن آدم کے دل میں جلتی ہے ۔ تم دیکھتے نہیں کہ ایسے شخص کی رگیں پھول جاتی ہین اور آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں ۔ حرد کے معنی انتقامی کاروائی کی کیفیت ، سورت ال عمران میں دیکھیں تو اللہ سبحان و تعالی فرماتے ہیں : الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۚ‏ ﴿3:134﴾ اللہ کے محبوب بندوں میں غصے پر قابو پانے والے /غصے کو پی جانے والے اور دوسروں کو معاف کرنے والے کیوں شامل ہیں؟؟
اور ان صفات میں یہ کیوں نہیں کہ جن کو غصہ آتا ہی نہیں ؟؟ غصہ فطری ہے ناپسندیدگی کے جذبات فطری ہیں لیکن ری ایکشن کی عادت پڑ جاۓ تو یہ غیظ میں بدل جاتا ہے اور پھر تیزی سے انسان غضب کے ایک ایسے اندھے کنوئیں میں جا گرتا ہے جہاں سے واپسی کبھی کبھی ممکن نہیں ہوتی ۔ یہ غصہ پی جانے والے اور معاف کرنے والے اصل میں رشتے اور گھر بچانے والے ہیں یعنی فساد کی راہ میں رکاوٹ بننے والے اور اسی لیے رب العالمین ان کو محبوب رکھتے ہیں ۔ اس صفت کو اپنانے کے لیے ہم سب کو ٹریننگ کی ضرورت ہے ۔

ذاتی تربیت ، خاندانی تربیت ، معاشرتی تربیت ، قومی تربیت ۔ اردگرد ایسا ماحول بنانا جسمیں ایموشنل انٹیلیجنٹ بنا جاۓ اور اپنے جذبات و احساسات کو بر وقت سمجھ کر اُنہیں ریگولیٹ کیا جاۓ ۔جن سے ناراضگی یا کسی عمل پر ناپسندیدگی ہے اُ ن سے empathy کا جذبہ ، اُن کی سائیڈ پر کھڑے ہوکر دیکھنا کہ وہ کس اینگل سے معاملے کو دیکھ رہے ہیں ۔ اللہ کا محبوب بننا کس کو محبوب نہیں ، گھروں اور رشتوں کی محبت اور اُن کا جڑا رہنا کس کی خواہش نہیں تو اینگر مینیجمنٹ کی تربیت کے لیے کوشش کرتے ہیں اور اللہ سے حفاظت کی دُعا کہ ہم اس دشمن سے مغلوب ہوں۔۔۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.