ہم اور سٹریس - بشری نواز

آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں اسے ہم مشینی دور بھی کہہ سکتے ہیں اس دور میں ہر کوئی پریشان ہی نظر آتا ہے ایسے جیسے ایک افرا تفری کا عالم ہے ایک کے پاس دوسرے کے لیے وقت ہی نہیں اگر کوئی چاہے بھی کہ ہمارے دل کی کوئی بات سنے تو دوسرے کے پاس وقت ہی نہیں کسی دوسرے کے دکھ سننے کا ہر کوئی محبت اور پر سکون ماحول کا متلاشی ہے .

جب جذبات مزاج یا ہماری سوچ ہمارے اندر سے نہیں نکلتے تو انسانی طبیعت میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے اور یوں وہ ذہنی دباو کی حالت میں مبتلا ہو جاتا ہےاسے آسان الفاظ میں ہم( stress) کہہ سکتے ہیں دیکھا جائے تو ہر بیماری کی ابتداء ذہنی دباو یا (stress) سے ہوتی ہے یہ آج کا ایک ایم مسئلہ بن چکا ہے ہر دوسرا تیسرا شخص ذہنی دباو کا شکار ہے . ذہنی دباو کیا ہے ؟ . . . ذہنی یا جسمانی نظام پر کوئی بھی سوچ یا پریشانی یا جذباتی رد عمل جس کا ہمارا جسم اور ذہن دونوں ہی عادی نا ہوں اور اچانک سے کوئی ذہنی یا جذباتی ردعمل سامنے آجائے تو اسے ہی( stress) کہتے ہیں اس کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے ہاتھ پاوں ٹھنڈے ہو سکتے ہیں پٹھوں میں کھچاو پیدا ہو سکتا ہے منہ خشک اور چہرے کا رنگ زرد ہو سکتا ہے ذہنی دباو کی وجہ سے خون کی شریانیں بھی سکڑ جاتیں ہیں جس سے دل تک خون پہنچنے کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور یوں دل کے دورے کا امکان ہو سکتا ہے مردوں کے مقابلے میں خواتین اس مرد کا زیادہ شکار ہوتیں ہیں .

کیونکہ خواتین پر گھر کی ذمہ داری کہ علاوہ اولاد کی تربیت کی بھی ذمہ داری ان پر رہتی ہے اور جو خواتین گھر کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی کرتیں ہیں وہ اس مرض کا زیادہ شکار رہتی ہیں چند طرہقے ایسے بھی ہیں جن پر عمل کرکے ہم ذہنی دباو سے نجات حاصل کر سکتے ہیں . آج کے دور میں پیسے کی نمائش نے بہت اہمیت حاصل کر لی ہے ہر کوئی ایک سے ایک بڑھ کر طرز زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے اپنے سے اوپر دوسروں کے بڑے گھر گاڑیاں اور خواتین دوسری خواتین کے مہنگے لباس دیکھ کر خود کو ذہنی تناو کا شکار کر لیتی ہیں اگر اپنی آمدن کے مطابق زندگی بسر کریں تو سٹریس سے بچا جا سکتا ہے . اپنے وقت کا صحیح استعمال کریں اپنے کام کو وقت کے مطابق سر انجام دیں ہر شے کو اس کی جگہ پر رکھیں تاکہ وقت پر آپ کو آسانی سے دستیاب ہو اپنے شریک حیات اور بچوں کو ٹائم دیں کبھی کبھار آوٹنگ پر بھی جائیں میاں بیوی ایک دوسرے کی بات دلچسپی سے سنیں اگر ساتھی کو ہمدردی کی ضرورت ہو تو اس کے ہمدرد بن جائیں کوشش کریں کہ لڑائی جھگڑے سے دور رہیں صبر اور تحمل سے کام لیں اس طرح سے ذہنی دباو سے کافی حد تک بچا جا سکے .