تربیتِ اولاد اور دعا - نسیمہ ابوبکر

ربِّ رحمان و رحیم کی عطا کردہ ان گنت نعمتوں اور بیش بہا تحائف میں سب سے گراں قدر تحفہ اولاد جیسی نعمت ہے جو نسلِ انسانی کا تسلسل اور زمین پر رب کی خلافت کے امین ہیں۔
ربِّ کائنات کے اس عظیم تحفے کی ایسی قدردانی ضروری ہے جو اس کی شایانِ شان ہو۔نبی کریم صلی الّلہ علیہ و سلّم نے بچوں کو جنّت کے پھول قرار دیا۰۰۰اس تشبیہ کا مقصود بچوں کی نزاکت و لطافت کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس قیمتی امانت کی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت کی اہمیت واضح کرنا تھا کہ کسی معمولی کو تاہی سے یہ پھول مرجھا نہ جائیں۔

اولاد کا حق اپنے والدین پر یہ ہے کہ جب الّلہ نے ان کو اولاد کی تخلیق کا ذریعہ بنایا ہے تو وہ اس مقصدِ حیات کی تکمیل،اس کی نشو ونما اور ترقّی کے لئے وہ تمام ذرائع مہیا کریں جو ان کی استطاعت میں ہیں۔اسلام کے نزدیک اولاد کی پرورش میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین بچے کی دنیا ہی نہیں ،انکی آخرت سنوارنے کی فکر بھی پہلے دن سے کرتے رہیں۔ان کی تربیت میں یہ خیال رہے کہ ہمیں نہ صرف انہیں “جنّتِ ارضی”میں سربلندی کے لئےتیار کرنا ہے بلکہ ان کے اخلاق و کردار کو اس طرح آراستہ کرنا ہے کہ وہ “جنّتِ حقیقی”کے اہل قرار پائیں۔
نبی صلی الّلہ علیہ و سلُّم کا ارشاد ہے:

ہر بچّہ دینِ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ،پھر والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔”قدرت نے والدین کے اندر اولاد کی محبّت کا ایسا جذبہ ودیعت کیا ہے کہ والدین اپنی اولاد کو دنیا میں بہترین مقام پر دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔انکی زندگی کی ساری جدوجہد اور تمنّاؤں کا حاصل یہی ہے کہ انکے بچّے اعلٰی تعلیم حاصل کریں اور معاشرے میں نمایاں مقام پائیں۔
اولاد کی تربیت میں حتی المقدور محنّت اور توجہ اپنی جگہ لیکن اپنے رب سے استعانت کی طلب ایسا معاملہ ہے کہ اپنے رب پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص اس سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔
نبی پاک صلی الّلہ علیہ وسلّم کی ہدایات سے واضح ہے کہ اولاد کے معاملہ میں والدین کی التجاؤں کو پذیرائی بخشی جاتی ہے۔مختلف مواقع پر اولاد کے حق میں غصّہ اور بد دعا سے منع فرمایا گیا ہے۔ربِّ کریم کے نزدیک سب سے بہتر چیز جو والدین اولاد کے لئے مانگ سکتے ہیں وہ ہدایت اور تقوٰی ہیں۔اور سب سے بہتر عادت جس کے لئے دعا کی جانی چاہئے وہ ان کا نمازی ہونا ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کے لئے کو دعائیں مانگیں ان میں نمایاں ترین یہ ہے جو ہر مسلمان نمازی ہر روز پڑھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آپکی محبت کے منتظر - امم فرحان

اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی - اے ہمارے رب ہماری دعا قبول فرما۔اے ہمارے رب میری مغفرت فرما میرے والدین کی بھی اور مومنین کی روزِجزاکے دن۔”
حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کے لئے مزید جو کچھ مانگا وہ یہ ہے:“اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنا مسلم(مطیع فرمان)بنا،ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری فرمانبردار ہو،ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔بے شک تو بڑا انصاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے”۔ دعا بذاتِ خود عظیم قدرتیں رکھنے والے رب کے حضور عجزوانکساری کا اظہار ہے۔اپنی قلبی خواہشات اور آرزوؤں میں مدد کی طلب ہے۔

اپنے رب سے مانگنا ہے تو بس یہ کہ اے ہمارے رب ہمیں اور ہماری اولاد کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنالے۔ہمیں دنیا کی بھی بھلائیاں اور کامرانیاں عطا فرما کہ اس میں ہماری معیشت ہے اور آخرت کی ابدی بھلائیاں اور کامیابیاں بھی ہمارا مقدّر کر دیجئے کہ ہمیں لوٹ کر تو وہیں جانا ہے۔ہمیں اس کے خسارے سے بچائیے اور آگ کے عذاب سے بچائیے۔ھادئ برحق نے سورۂ فرقان میں عبادالرحمٰن کی دعا تعلیم فرمائی: “اے ہمارے رب ہمیں اپنے ازواج اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔”