نفس کی تمنا - امم فرحان

دل واقعی ایک ضدی بچہ ہے جو رو دھو کہ ملامت کر کہ اپنی بات منوا ہی لیتاہے۔بچوں کی طرح ہر من چاہی چیز کی طرف لپکتا ہے یہاں تک کہ یہ دل ہمیں اپنا قیدی بنا لیتا ہے۔دل کے ہاتھوں مجبور ہو جانا ہی دراصل نفس کی بندگی ہےکہ پھر انسان کو نہ حقوق اللہ یاد رہتے ہیں نہ حقوق العباد ۔

خواہشات کی غلامی ، زندگی کی دوڑ میں ایسا مگن کر دیتی ہیں کہ انسان ہونے اور مسلمان ہونے کا احساس بھی ختم ہوجاتا ہے ۔ فکرطلب بات یہ ہےکہ جو زندگی ہم گزار رہے ہیں کیا ہم اسی لیے پیدا کیے گئے ہے؟؟؟ یوں لگتا ہے جیسے دنیا کی عیش و عشرت ہی مقصد ہو بس یہی دنیاوی آرام و آسائش ہمارا حدف بن کر رہ گیا ہے ۔۔۔۔*حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ* نےبجا فرمایا۔ "انسان نفس کی تمنا پوری کرنے میں مصروف ہوتا ہے اور نفس اسے برباد کرنے میں ہمیں پتا ہی نہیں چلتا اور یہ نفس ہمارے ایمان کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔کیا انسان اتنا مجبور،کمزور اور لاچار ہے کہ نفس کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن جائے۔ *امام غزالی رحمتہ اللہ* فرماتے ہیں : "نفس وہ کتا ہےجو انسان سےغلط کام کروانے کے لئے اس وقت تک بھونکتا رہتا ہےجب تک وہ غلط کام کروا نہ لےاور جب انسان وہ کام کر لیتا ہےتو وہ کتا سو جاتا ہے لیکن سونے سے پہلے ضمیر کو جگا دیتا ہے'' یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ برائی کی طرف تو نفس دوڑ کر جاتا ہےلیکن نیکی کی طرف اسے گھسیٹ کر لانا پڑتا ہے۔انسان کو اپنے آپ سے اتنی محبت تو ہونی چاہیے کہ وہ خود کو جہنم سے بچا کرجنت کی طرف لے جائے ۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے* : "قیامت کے دن جب مجرم اپنا نامہ اعمال دیکھیں گے تو کہیں گے ہائے ہماری بدبختی یہ کیسی کتاب ہےکہ جس نے نہ ہماری کوئی چھوٹی بات چھوڑی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی بات جو اسمیں درج نہ ہو۔'' (سورہ الکھف 49) ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مسلمان موت ہی کیوں ایمان پر مانگتا ہے ، زندگی ایمان پر کیوں نہیں گزارنا چاہتا؟ یہ زندگی اللہ کی امانت ہےہم اپنی مرضی سے زندگی نہیں گزار سکتے ہمیں کرنا بھی وہ چاہیے جو اللہ کی چاہت ہےانسان کا اختیار نہ تو سانس پر ہےاور نہ ہی تقدیر پر۔لیکن اگر اللہ تعالی کی مرضی میں اپنی مرضی شامل کر لی جائے تو زندگی میں راحت و سکون مل جاتاہے ۔ دعا یہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالی اپنی رضا کو ہماری رضا بنا دےاور ہم سے وہ کام نہ کروائیں جسکو تو پسند نہیں کرتا ۔ *ارشاد باری تعالی ہے*:- "اگر تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاجاوگے'' ( سورہ النور54:24 ) ہمیں اپنے نفس پر قابو پاکر اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزارنی چاہیے اور اسکی اطاعت صرف زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی ہونی چاہیے ابھی وقت ہے ہمارے پاس، کیا پتہ کس وقت وہ انجان سے چہرے نظر آجائیں جن کو اللہ تعالی نے انسانوں کی روحیں نکالنیں کا کام دے رکھا ہے۔ اللہ ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے ۔آمین

ٹیگز