آواز اٹھائیے! ورنہ کل آپ بھی - عابی مکھنوی

شریف اللہ محمد بھائی کے چھوٹے بھائی عامر جو اپنے دیگر انجنیئر کولیگز کے ہمراہ ہونڈا اٹلس میں ہونے والے یا کیے جانے والے ایک حادثے یا تجربے کی نذر ہو گئے تھے اُن کی یاد میں اور وطن عزیز میں جاری و ساری اربوں کھربوں کمانے والی فیکٹریوں میں کام کرنے والے کارکنان کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے گیارہ نومبر سے اٹھارہ نومبر تک ہفتہ یکجہتی منایا جا رہا ہے ۔

لکھنے والے بہت حساس ہوتے ہیں ۔ یہ بات جب بھی سنتا ہوں مسکرا دیتا ہوں کہ میرے معاملے میں تو یہ نرا جھوٹ ہے ۔ میں بہت سنگدل اور بے حس انسان ہوں ۔
شاید سال پہلے یا کچھ کم شریف اللہ بھائی نے تقاضا کیا کہ اس موضوع پر قلم اٹھاؤں تو رسمی سا ان شاءاللہ کہہ کر جان چھڑا لی تھی اور شریف اللہ بھائی کی سادگی پر ترس بھی آیا تھا کہ کس دھرتی پر ، کس وقت اور کس سے انصاف طلب کر رہے ہیں ۔ اس سرزمین پر عدالت نام کا کوئی ادارہ موجود ہے ، ایسا خیال رکھنے والے کو ہی میں قابل علاج سمجھتا ہوں ۔احتجاج کی عادت نہیں ۔ وار کرنا سیکھا ہے یا سہنا !! بیچ کی کیفیت یعنی احتجاجی کیفیت کبھی طاری ہی نہیں ہوتی سو یہ پوسٹ ادھار پڑی رہی ۔لیکن شریف اللہ بھائی کی مستقل مزاجی اور ذاتی غم سے نکل کر لاکھوں مزدوروں کارکنوں کے لیے آواز اٹھانے کے عمل نے میرے مدہوش قلم کو انگڑائی لینے پر مجبور کر دیا ۔ یہ ایک عامر کا کیس نہیں ۔ یہ اُس مزدور کا بھی کیس ہے جو نویں منزل پر بانسوں سے بندھے لکڑی کے پھٹے پر کھڑا بغیر کسی حفاظتی سامان اور انشورنس کے دو دو تین تین کروڑ روپے کے فلیٹ بناتا ہے ۔

یہ بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے چپکنے والے لائن مینوں کا بھی کیس ہے ۔ یہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی لُوموں پر کھڑے روئی نگلنے والے کاریگروں کا کیس ہے جو پھیپھڑوں کی بیماری سے طبعی موت مر جاتے ہیں ۔ایک طویل فہرست ہے ۔ ایک طرف ہڈیاں گل جاتی ہیں گوشت گارا بن جاتا ہے سانسیں دم توڑ دیتی ہیں لیکن کوئی دن روشن صبح لے کر نہیں آتا ۔یورپ میں سنا ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری پر پابندی عائد ہے کہ پراسیسنگ کے دوران ماحول کارکنان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور قوانین ایسے سخت ہیں کہ تمام تر حفاظتی انتظامات پر اٹھنے والا خرچ اور کارکنان کو پیش آنے والے حادثات پر قابل ادائیگی معاوضہ بزنس مالکان کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے ۔لہذا یہ بزنس اب کیڑوں مکوڑوں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے ۔ پاکستان اس معاملے میں جنت سے بھی بارہ کوس آگے کوئی دھرتی ہے ۔
ایک تو اس پاک وطن کو بزنس چاہیے ! وہ بیٹیاں ، بیٹے برآمد کرنے کا بزنس ہو یا بیٹوں کو اندھی بھٹیوں کی نذر کرنے کا بزنس ہو !! بزنس ہو بس !!
اول تو کارکنوں کو خود آگاہی نہیں کہ اُن کی جان کی کیا قیمت یے ۔

دوم کوئی قانون ہے تو اُس قانون کو نافذ کرنے والے اداروں میں ان پڑھ ، جاہل اور رشوت خور بیٹھے ہیں ۔ بالفرض بات تھانے عدالت تک پہنچ جائے تو جج ، وکیل اور تھانیدار کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں ۔غریب باقی ماندہ خاندان کے افراد کو بچا لے غنیمت ہے ۔ یہ دُکھ سانجھا دُکھ ہے ۔ اس دُکھ میں مُلا اور مسٹر کی تفریق جرم ہے ۔ اس دکھ کو لبرل اور قدامت پسند دُکھ کے خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا ۔ کیونکہ ہم سب روٹی کے لیے دوڑتے ہیں اور روٹی ہی کھاتے ہیں ۔ گندم کی کوئی زبان کوئی فرقہ نہیں ہوتا ۔میں نہیں جانتا یہ حادثہ تھا یا تجربہ ! تجربہ تھا تو یہ اجتماعی قتل ہے ۔ قاتلوں کا تعین اور سزا الگ معاملہ ہے اور دیت کی رقم دوسرا !!
حادثہ تھا تو میری محدود عقل اس پر جو معاوضہ طے کر رہی ہے اُس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ہر جاں بحق یا معذور ہونے والے کارکن کو اتنی رقم ادا کی جائے جتنی وہ اپنے کیریئر میں اندازاً ترقی پانے کے ہمراہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے تک کما سکتا تھا ۔ اس میں سالانہ انکریمنٹ اور متوقع ترقی کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔یہ مطالبہ یا مطالبات تسلیم نہیں ہوں گے ۔ لیکن میری طرف سے تو یہ مطالبہ ہے بھی نہیں کہ میں احتجاجی فرقے سے تعلق رکھنا اپنے لیے پسند نہیں کرتا ۔ میں تو ایک بیج بونے کی کوشش کر رہا ہوں ۔

جی ہاں بغاوت کا بیج ۔سرکار کے ہر محکمے کے مقابل نجی محکمے موجود ہیں ۔ سرکاری اسکول ۔۔۔ نجی اسکول . سرکاری اسپتال ۔۔۔ نجی اسپتال، سرکاری ٹرانسپورٹ ۔۔۔ نجی ٹرانسپورٹ ، سرکاری ائرلائن ۔۔۔۔ نجی ائر لائن ، سرکاری عقوبت خانے ۔۔۔ نجی عقوبت خانے ، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ طویل فہرست ہے ۔ تو کیا گارنٹی ہے کہ سرکاری عدالت کے مقابل نجی عدالت نہیں لگائی جا سکتی ؟؟ یہ میری خواہش نہیں خوف ہے ۔ کوئی بھی مہذب شہری نجی عدالت کا تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن کیا گارنٹی ہے بھئی !! کرشن چندر بیسیویں صدی کا بڑا افسانہ نگار گزرا ہے ۔ مجھے بہت پسند ہے ۔آج کل کی زبان میں کہا جائے تو وہ ترقی پسند ، روشن خیال ، لبرل ، اشتراکی یا دھریہ تھا ۔ لیکن مجھے پسند ہے کہ روٹی کے مذہب میں ہم بھائی بھائی ہیں ۔ کرشن چندر کے افسانے " مہا لکشمی کا پُل " میں چھ ساڑھیوں کی کہانیاں ہیں ۔ اُن چھ ساڑھیوں کی مالکان چھ عورتوں میں سے ایک منجولا ہے ۔ افسانے سے منجولا کی کہانی سے ننھا سا اقتباس پیش خدمت ہے ۔ غور سے پڑھیے گا اس میں دھائیوں قبل قتل ہونے والا ایک عامر آپ سے ملتمس ہے کہ آواز اٹھائیے !! آستینیں چڑھائیے !! آنکھیں دکھائیے !! ورنہ کل آپ بھی کسی افسانے میں سسکتے بلکتے کردار کا رُوپ دھار سکتے ہیں !!!

اقتباس از "" مہا لکشمی کا پُل ""
۔ یہ ساڑھی منجولا کی ہے۔ یہ ساڑھی منجولا کے بیاہ کی ہے۔ منجولا کے بیاہ کو ابھی چھ ماہ بھی نہیں ہوئے ہیں۔ اس کا خاوند گذشتہ ماہ چرخی کے گھومتے ہوئے پٹے کی لپیٹ میں آ کے مارا گیا تھا اور اب سولہ برس کی خوبصورت منجولا بیوہ ہے۔ اس کا دل جوان ہے۔ اس کا جسم جوان ہے۔ اس کی امنگیں جوان ہیں لیکن وہ اب کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ اس کا خاوند مل کے ایک حادثے میں مر گیا ہے۔ وہ پٹہ بڑا ڈھیلا تھا اور گھومتے ہوئے بار بار پھٹپھٹاتا تھا اور کام کرنے والوں کے احتجاج کے باوجود اسے مل مالکوں نے نہیں بدلا تھا کیونکہ کام چل رہا تھا اور دوسری صورت میں تھوڑی دیر کے لئے کام بند کرنا پڑتا ہے۔ پٹے کو تبدیل کرنے کے لئے روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ مزدور تو کسی وقت بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے روپیہ تھوڑی خرچ ہوتا ہے لیکن پٹہ تو بڑی قیمتی شے ہے۔ جب منجولا کا خاوند مارا گیا تو منجولا نے
ہر جانے کی درخواست دی جو نا منظور ہوئی کیونکہ منجولا کا خاوند اپنی غفلت سے مرا تھا ، اس لئے منجولا کو کوئی ہرجانہ نہ ملا اور وہ اپنی وہی نئی دلہن کی ساڑھی پہنے رہی جو اس کے خاوند نے پونے نور روپے میں اس کے لئے خریدی کی تھی۔