حکومت آسان کام نہیں - شمس آفتاب

آج کل عمران خان کو انکے ہر اقدام پر سراہنے والوں اور نواز شریف کے معاملے پر تنقید کرنے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ حکومت آسان کام نہیں ۔ آپ اور میں باہر سے تماشا دیکھتے اور محظوظ ہوتے ہیں لیکن حکومت کرنے والے اپنے ہر فیصلے پر اسکے اچھے یا برے نتائج کے ذمہ دار خود ہوتے ہیں جنکے نتائج انکو بعد میں بھگتنے پڑتے ہیں۔

جب مشرف حکومت میں آیا تو لوگوں نے مٹھائیاں بانٹیں نواز شریف اور بینظیر پہ لعنتیں بھیجیں اور اسٹبلشمنٹ نے وہی پرانا گیت الاپنا شروع کردیااپنے ہی عوامی لیڈرز کو کرپٹ ، غدار ، بھارت نواز اور ہر برائی کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔انکو ملک بدر کرکے ان سے "ایشیورٹی بانڈ" مانگے گئے کہ آپ نے پاکستان واپس نہیں آنا۔ پھر جو ہوا سب کے سامنے ہے۔ مشرف نے "سب سے پہلے پاکستان" کا نعرہ لگا کے افغانستان ، وزیرستان ، پختونخواہ اور بلوچستان میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو لاکھوں کی تعداد میں مروایا۔ ڈرون حملوں کیلئے اپنے ہوائی اڈے دئیے اور مسلمانوں کو امریکہ کے ہاتھ فروخت کرکے ڈالرز کمائے۔ بینیظیر اپنے وطن اپنے ملک واپس آئیں تو انہیں شہید کروادیا ۔لال مسجد کیس ، وکلاء تحریک ، میڈیا اور سیاستدانوں نے بعد میں اسکی وردی اتروائی اور بقول کچھ دوستوں کے " وہ مقبول اور محب وطن " کمردرد کا بہانہ بنا کے آج تک مفرور ہے۔ اور جو اسکے حمایتی تھے اور کہتے تھے کہ نواز شریف ضمانت دیں کہ وہ واپس نہیں آئینگے وہ آج نواز شریف سے وطن واپسی کیلئے ضمانتیں مانگ رہے ہیں۔

بعد میں زرداری دور آیا کوئی ترقی نہیں ہوئی ۔ لیکن ملک میں انارکی ، دہشت گردی ، صوبائی تعصب اور دلوں میں موجود نفرتوں کو کم کرنے اور آئین کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے مؤثر قانون سازی کی گئی۔ کرپشن کی کئی کہانیاں عام ہوئیں لیکن نہ کسی کی پکڑ ہوئی نہ سزا اور نہ ریکوری۔۔ بعد میں ن لیگ آئی اور دو تہائی کی زبردست اکثریت سے اپنے دور حکومت میں معیشت ، لوڈ شیڈنگ ،مہنگائی ، بیروزگاری اور دہشت گردی جیسے مسائل سے ملک کو نکالنے کی کوشش کی ۔ کچھ حد تک کامیاب بھی ہوئے اور پھر عوامی مقبولیت کے غبارے پر سوار ہوکر اداروں کو بیک فٹ پر رکھنے کیلئے ڈان لیکس ، مشرف کا مواخذہ ، ہم دلیل والوں کیساتھ ہیں غلیل والوں کیساتھ نہیں ، دفاعی بجٹ پر سوالات ، بھارت کیساتھ اچھے تعلقات کی بحالی وغیرہ جیسے انہونے کام شروع کردئے۔ طاقت کے نشے میں دھت ترجمان پرویز رشید ، طلال چودھری ، دانیال عزیز ، سعد رفیق ، خواجہ آصف ، رانا ثنااللہ عوام کے مسائل پر بات کرنے کی بجائے اپوزیشن خاص کر عمران خان کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کرنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کریں یا ہنکائے جانے پر خوش رہیں - حبیب الرحمن

حکومت کے لہجے میں تلخی اور رعونت بڑھتی گئی اور مخالفین پر اپنے غنڈوں ، گلو بٹوں ، پومی بٹوں کے ذریعے جان لیوا حملے کروائے گئے ۔ ان سب سے بڑھ کر سانحہ ماڈل ٹاؤن اور ممتاز قادری کی پھانسی ان کے ناقابل معافی جرائم ہیں جنکی وہ آج سزا بھگت رہے ہیں۔ آج عمران خان اسٹبلشمنٹ اور جہانگیر ترین کی دولت کے زور پر سینیٹ میں اپنا چیئرمین بچانے میں کیا کامیاب ہوئے انکو لگتا ہے شاید انکا اقتدار ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ سیاست میں شاید وہ جیت گئے ہوں لیکن ہمارے دلوں میں انکا احترام ختم ہو گیا ۔ جس ریاست مدینہ کی وہ مثال دیتے ہیں اسکے بانی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اقتدار ملتے ہی اپنے جانی دشمنوں کو نہ صرف معاف کیا بلکہ انکے گھروں کو جائے امان قرار دیا تھا۔ اور آپ نے اپنے سارے دشمن جیل بھیج دئیے اگر ضد پہ اڑے رہے اور اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے تو آپ اور گزشتہ مطلق العنان حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ خدا ہمیں صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی توفیق دے۔