روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی - قدسیہ ملک

کراچی جیسے بڑے شہر میں بیمار ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔آئے روز اس شہر میں نت نئے امراض پھوٹتے رہتے ہیں۔ایک شخص جو کراچی کا باشندہ ہو چھ ماہ تک تندرست و توانارہے تو لوگ طرح طرح سے تشویش کرنے لگتے ہیں کہ بھائی کیا کھارہے ہو جو ابھی تک بیمار نہیں ہوئے۔ آئے روز یہاں وبائی امراض کا پیدا ہونا اور اس سے سینکڑوں افراد کا متاثر ہونا اس بڑے شہر کی خاصیت ہے۔

یہاں آج کل مچھروں اور مکھیوں سے پھیلےہوئے امراض عروج کا درجہ پاچکے ہیں ۔جن میں چکن گونیا ، ڈینگی، معیادی بخار، ملیریا اور ٹائیفائیڈ سرفہرست ہیں۔جس سے خیریت پوچھو پتہ چلتاہے گھر میں بیماری نے قبضےجمائے ہوئے ہیں۔کہیں معیادی بخار ہے تو کہیں ڈینگی اپنے کمالات دکھارہاہے ۔ کہیں چکن گونیااور ملیریا سے لوگ سنبھلے نہیں ہیں تو کہیں ٹائیفائڈ جیسے امراض نے غریب و مصیبت کے مارے شہریوں کا جینا دوبھر کیاہوا ہے ۔ شہر میں ہرطرف گندگی اور غلاظت کے جیسے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ہر جگہ مچھروں مکھیوں نے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں ۔ رہی سہی کسر آوارہ کتوں نے پوری کردی ہے ۔ رواں سال میں سگ گزیدگی کے لاتعداد واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں ۔گزشتہ 6 ماہ کے دوران کراچی کے 2 ہسپتالوں ، دی انڈس ہسپتال اور جناح پوسٹ گریجویٹ میں سگ گزیدگی کے 6 واقعات رپورٹ ہوئے ۔ ٹریفک کی مخدوش صورتحال کے باعث ٹریفک حادثات معمول کی بات ہے۔آئے روز مختلف حادثات میں شہر قائد میں سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ لیکن حکومتی اداروں و وعہدیداروں کے کانوں پران تمام حادثات کے باوجودکوئی جوں تو کیا جوں کا بچہ بھی نہیں رینگتا۔

ان کے لئے ہر طرف راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ایسے حالات میں پهر وہی لوگ کهڑے ہوتے ہیں کہ جنھوں نے ہر دور میں پاکستان کی ملکی ، جغرافیائی ، اسلامی، قانونی ، معاشی، قومی حدود کی حفاظت کو اپنی قیمتی جانوں پر ترجیح دی ہے۔انہی سرفروشوں کے زیر اہتمام قائم ایسا ادارہ جو بلارنگ و نسل ، مذہب ، لسانیت اور عصبیت کے ہر انسان کی مدد کو اولین حیثیت دیتاہے۔ الخدمت فاوئنڈیشن ہر مشکل وقت اور کڑی آزمائش میں اپنے ہم وطنوں کے دکھ درد کو دور کرنے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔2005 کا زلزلہ ہویا2010میں آنے والا سیلاب،تھرپارکر میں قحط کی صورتحال ہو یا آئی ڈی پیز کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی۔ ان سانحات اور حادثات نے جہاں ہزاروں لوگوں کی جان لی وہیں لاکھوں افراد بے گھر بھی ہوگئے۔ کہیں فصلیں تباہ ہوگئیں تو کہیں کاروبار نہ رہے۔کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں بروقت اور فوری ریسپانس الخدمت فاؤنڈیشن کی اولین ترجیح رہی ہے۔الخدمت کے رضاکار ایسی کسی بھی صورتحال میں فوری جائے حادثہ پرپہنچ کر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کا آغاز کردیتے ہیں۔ زخمیوں کو فوری ہسپتال پہنچانا اورلاشوں کوجائے حادثہ سے اٹھا کر ہسپتال یا ان کے آبائی علاقوں تک پہنچانے کا کام بھی الخدمت کے رضاکارسرانجام دیتے ہیں۔اسکے علاوہ صحت، صاف پانی، کفالت یتامیٰ پروگرام، مواخات،صاف پانی کی فراہمی اور مواخات قابل ذکر ہیں۔

2005 کا زلزلہ جو پوری قوم کے لئے اور خاص طور پر حکومتی ادارو ں کے لئے ایک مشکل امتحان تھا ۔ بےشک ہماری قوم اِس کڑےامتحان پر پورا اتری ۔ فلاحی اداروں نے بھی جس حد تک ممکن تھا زلزلہ زدگان کی خدمت کی۔زلزلے کو گزرے 13 سال بیت چکے ۔ بیرون ملک سے آنے والی امداد اور خدانخواستہ آئندہ ایسی کسی نا گہانی آفت کی صورت میں منصوبہ بندی پر غور و فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ نعمت اللہ خان کی سربراہی میں ڈاکٹر حفیظ الرحمن ،سید احسان اللہ وقاص، ڈاکٹر اقبال خلیل ،ڈاکٹر معراج الہدی ،ڈاکٹر سید تبسم جعفری ، شاہد اقبال ، انجینئر عبد العزیز ، نور الباری، سید راشد داؤد ، میاں تنویر احمد مگوں ، خلیفہ انور احمد، ملک نعیم احمد، خالد مکشی ، لیاقت عبد اللہ، قاضی سید صدر الدین ، عبد المتین ، ظفر اقبال چوہدری، ڈاکٹر فیاض عالم ، ڈاکٹر طارق شیرازی ، جاوید اختر ، جاوید شیخ ، انس سلطان ، اسامہ بن شعیب ، عبد الرحمن فدا ، تنویر اللہ خان ، ڈاکٹر عبد المالک ،ڈاکٹرآصف خان ، ڈاکٹر محمد خالد ، ڈاکٹر خالد مشتاق ، ریاض احمد ، عبد اللہ فیروز ، مولانا یونس خٹک، شوکت خان ، حاجی اسد ، تیمور خان ، قاضی وجاہت ، مصباح الدین ، راشد قریشی ، شوکت خان ، صٖفیان احمد ، فضل محمود، کفایت اللہ، مشتاق احمد ، ساجد انور، عبد الستار اور اسماعیل صدیقی نے متاثرین کے لئے امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اُن کی بحالی کے لئے جو کرادر ادا کیا اور قابل تحسین ہے۔ وہ تمام لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں جن کی انتھک محنت سے لاکھوں متاثرین کے لئے ریلیف ممکن ہوا ۔

الخدمت فاونڈیشن کے قیام کا مقصد ہی معاشرے کے محروم طبقات کی فلاح و بہبود ہے۔الخدمت اس شہر قائد میں غریب و لاچار شہریوں کی طبی امداد کے لئے ہر وقت کوشاں ہے۔الخدمت بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب بے سہارا اور دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہے، یہ ادارہ 1990 سے بطور رجسٹرڈ این جی اوکام کررہا ہے۔آج اس کا دائرہ کار آفات سے بچاؤ، صحت، تعلیم، کفالتِ یتامیٰ، صاف پانی، مواخات پروگرام اور دیگر سماجی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ الخدمت کو خدمت خلق کی ایک نمایاں تنظیم ہونے کا اعزاز حاصل ہےاور اس کا سب سے بڑا سرمایہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہزاروں رضاکار ہیں جو نیک نیتی سےبے سہارا اور ضرورت مند لوگوں کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ ادارہ مکمل طور پر خود مختار، غیر سرکاری اور غیر سیاسی ساکھ کا حامل ہے۔ الخدمت فاونڈیشن کی جانب سے کی جانے والی تمام تر خدمات تنظیم کے خصوصی اصول و ضوابط کے تحت سر انجام دی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں الخدمت کو دیئے جانے والے عطیات صرف اور صرف فلاحی اور سماجی امور کی انجام دہی کیلئے ہی استعمال کئے جاتےہیں۔

الخدمت کا ادارہ مکمل طور پر خود مختار، غیر سرکاری اور غیر سیاسی ساکھ کا حامل ہے۔ الخدمت فاونڈیشن کی جانب سے کی جانے والی تمام تر خدمات تنظیم کے خصوصی اصول و ضوابط کے تحت سر انجام دی جاتی ہیں۔دنیا بھر میں الخدمت کو دیئے جانے والے عطیات صرف اور صرف فلاحی اور سماجی امور کی انجام دہی کیلئے ہے۔حقوق سے محروم لوگوں کو زندگی کے بنیادی حقوق کا احساس دلانا اور پھر انھیں یہ حقوق فراہم کرنا اس لئے ضروری ہے ورنہ معاشرہ عدم استحکام اور انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ انہی چندقابل ذکر لوگوں میں ایک نام ڈاکٹر سید تبسم جعفری کا بھی ہے۔بے شک اللہ نے ان کے ہاتھ میں بہت شفا دی ہے۔گذشتہ دنوں معیادی بخار بگڑ جانے اور ناسازی طبعیت کے باعث راقم نےبہت سے ہسپتالوں کےچکر لگائے۔میڈیکل ٹیسٹ کی مد میں ہزاروں روپے کے ٹیسٹ کروائے۔ڈینگی ملیریا،ٹائیفائڈ،چکن گونیا،انفیکشن ہر طرح کے ٹیسٹ۔ہر ڈاکٹر نیا ٹیسٹ لکھ کر دیتالیکن کوئی بھی مسیحادرست تشخیص ناکرسکا۔بخار بڑھتابڑھتا 106 تک پہنچ گیا۔چھ سات روز ہی میں طبعیت ایسی ہوگئی کہ وصیت تک لکھ کر رکھ لی مبادا کہیں ملک الموت ہی ناحاضر ہوجائیں۔

بالآخر بچپن میں جہاں سے علاج کرواتے تھےبھائی نے وہیں کا مشورہ دیا ۔حیرانگی سے پوچھا،"ارے کیا وہ ڈاکٹرانکل اب بھی وہیں بیٹھتے ہیں"۔جواب ملا "ہاں وہیں ہوتے ہیں۔وہی اوقات ہیں ،مغرب کے بعد"۔ خیر تمام رپورٹس مع اپنی حالت سنبھالتے ہوئے جب وہاں تک پہنچے۔حیرت ہوئی کہ اتنے سالوں میں ایسے ڈاکٹرز توکہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں۔اتنا بڑانام ہونے کے باوجود کبروغرور نام کو نہیں۔ اسی چھوٹے سے مطب میں اسی چھوٹی سی کرسی پر ڈاکٹر صاحب بالکل ویسے ہی مریضوں کو دیکھتے ہیں جیسے 18 سال پہلے دیکھا کرتے تھے۔بے انتہارش کے باعث 20واں نمبرتھا۔خیرخداخدا کرکے نمبر آیا تو پتہ چلا کہ ہوا کچھ نہیں ہے بس بخار بگڑ گیاہے جس کے باعث گلے میں انفیکشن شدت اختیار کرگیاہے۔ایک پیلی اور ایک لال دوائی کی شیشی ملی اگلے روز آنے کوکہاگیا۔الحمداللہ ایک ہفتہ ہی میں طبعیت میں واضح تبدیلی آنے لگی۔ہم جو اپنے پیروں پر کھڑے بھی نہیں ہوپارہے تھے۔زندگی کی پھر سےامید پیداہونے لگی۔واقعی اگر مسیحا نیک و خداترس ہوتو اللہ تعالیٰ دوامیں شفا اور زبان میں تاثیر دےہی دیتے ہیں۔ایسے فرشتہ صفت لوگ آج بھی موجود ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے باعث دنیاقائم ہے۔

الخدمت فائونڈیشن سندھ کے صدر کی حیثیت سے 2014 سے 2016 کے اجلاس میں نامزد کیےگئے ڈاکٹر سید تبسم جعفری بھی پچھلی کئی دہائیوں سے الخدمت سندھ کے صدر کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ الخدمت کے ایک چھوٹے سے شفاخانے میں دکھی عوام کی خدمت میں اپنی بے انتہامصروفیات میں سےوقت نکال کر روزانہ بلاناغہ دکھی عوام کی خدمت کے لئےہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔1987ء میں کراچی کی مشہورسندھ میڈیکل یونیورسٹی سے سرجری اور انیستھیزئیا میں ایم بی بی ایس کرنے والے ڈاکٹر صاحب روزانہ اپنے کئی گھنٹے دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کرکےاللہ سے اپنی تجارت کاعہد کرچکے ہیں۔انتہائی کم قیمت پر روز کئی کئی گھنٹوں چہرے پر مسکان سجائے سینکڑوں دکھی اور لاچار مریضوں کو دیکھنا،انکی خیریت دریافت کرنا،انہیں اللہ کے حکم سے انتہائی کم قیمت دوائیوں کے ذریعے شفایاب کرنابالکل عام بات نہیں ہے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ شفاخانے میں علاج و معالجہ کے باعث اپنی الخدمت کی اہم ذمہ داریوں سے کسی صورت بھی غافل ہوں۔ان سے علاج کروانے کے بعد اللہ رب العالمین پر ایمان مزید بڑھ گیا۔

ابھی حال ہی میں سانحہ تیزگام ایکسپریس میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر ہر ذی شعور اشک بارہے۔کراچی سے راولپنڈی آنے والی تیزگام ایکسپریس میں صبح سویرے آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے تین بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس واقعے میں 70 سے زائد مسافر ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ پاکستان ریلوے کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ اسٹیشنز اور ٹرینوں میں ڈیوٹی پر مامور ریلوے پولیس، کنڈیکٹر گارڈز، ٹکٹ چیکرز و دیگر، قوانین اور ایس او پیز کے مطابق فرائض سر انجام دیتے تو یہ سانحہ ہونے سے روک سکتے تھے۔ ملک میں ٹرینوں کے سانحات میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔لیکن حکومتی عہدیداران زبانی جمع خرچ کے دعووں اور وعدوں کے سواء کچھ اب تک کچھ ناکرسکے۔ایسے میں دکھی انسانیت کی مدد کے لئے ہمہ وقت کوشاں الخدمت نےاپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ناصرف یہ کہ ان زخمیوں کو فوری طبی امداد بہم پہنچائی بلکہ الخدمت کے تحت سانحےمیں شہید ہونے والے افراد کے لیے الخدمت فاونڈیشن سندھ کے دفتر میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں متوفین کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی لیے جلد صحت یابی کی دعا کی گئی۔

اس موقع پر صدر الخدمت سندھ ڈاکٹر سید تبسم جعفری نے انتہائی دکھ کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ سانحہ تیز گام ایک المناک واقعہ ہے جس میں کثیر تعداد میں معصوم افراد جاں بحق ہوئے۔انہوں نے کہا کہ آگ بجھانے والے آلات اور برقت ریسکیو نہ ہونے کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہوا۔اسکے علاوہ الخدمت کےتحت بہت سی سماجی سرگرمیوں میں اپنے شفاخانے کے اوقات کار کے علاوہ وہ موجود ہوتے ہیں۔شفاخانے میں آئے ہوئے بہت سے مریض انکی سرگرمیوں سے بالکل ناواقف ہیں۔جبھی رات کے ایک بج جاتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب کے مطب پر رش جوں کا توں ہوتاہے۔اللہ سے دعا ہے اللہ ان کو اپنے عزم وحوصلے میں استقامت دے۔ان کے مریض یوں ہی ان سے شفایاب ہوتے رہیں اور وہ اسی طرح دکھی انسانیت کی خدمت و دلجوئی کرکے رب کو راضی کرتے رہیں۔
جواعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں - صراحی سرنگوں ہوکر بھرا کرتی ہے پیمانے

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.