ایک دھچکا اور- ارشاد احمد عارف

مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنا کی ناکامی نوشتہ دیوار تھی، جسے ذہانت، چالاکی اور موقع شناسی کی شہرت رکھنے والے جمعیت علماء اسلام کے لیڈر پڑھ سکے نہ ان کے خوش فہم ہمنوا، عمران خان اور فوج سے ازلی بغض رکھنے والے دانشوروں، تجزیہ کاروں اور صحافیوں نے آنکھیں بند کر کے ان کی آواز پر آمَنَّا و صَدَّقْنَا کہا، قوم کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اپنے علاوہ مولانا کے پیروکاروں کو ندامت سے دوچار کیا۔ مولانا کے اہداف میں سے ایک بہرحال حاصل ہوا، مسئلہ کشمیر سے عالمی برادری، قوم اور مقامی بین الاقوامی میڈیا کی توجہ ہٹانے میں کافی حد تک کامیاب رہے، مجھے مولانا کی حب الوطنی پر شک نہیں مگر بسا اوقات انسان اخلاص کے ساتھ استعمال ہوتا اور کبھی سمجھ نہیں پاتا۔ مولانا کے سوا سیاسی اور ریاستی معاملات کی معمولی شدبد رکھنے والے ہر شخص کو علم تھا کہ وزیر اعظم کسی ہجوم کی دارالحکومت پر چڑھائی اور جذباتی تقریروں سے مرعوب ہو کر استعفیٰ دیں گے نہ کوئی ریاستی ادارہ انہیں مجبور کر سکتا ہے، پاکستان تیونس، لبنان اور رومانیہ کبھی تھا نہ انشاء اللہ ہو گا، شام جیسے ملک میں امریکہ کی پشت پناہی کے باوجود بشارالاسد کو احتجاجی تحریک سے ہٹانا ممکن نہیں تو نیوکلیئر پاکستان میں سہل کیونکر ‘اسٹیبلشمنٹ اور حکومت یا زیادہ درست الفاظ میں عمران خان اور فوج کے مابین شکر رنجی کی کہانی جن نابغوں نے گھڑی اور مولانا کو قائل کر لیا ان کی گوشمالی مولانا اور حکومت دونوں کریں تا کہ آئندہ وہ کسی دوسرے سیاسی یا مذہبی گروہ کو گمراہ نہ کر سکیں۔

یہ اس قدر کمزور بلکہ لغو کہانی تھی جس پر کوئی احمق ہی اعتبار کر سکتا تھا۔ مگر مولانا جیسے زیرک سیاستدان نے کیااور خطا کھائی‘ مولانا نے تیرھویں روز کچھ منوائے بغیر یکطرفہ طور پر دھرنا ختم کر کے یہ ثابت کیا کہ عمران خان تو کیا وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے برابر ذہانت‘خود اعتمادی‘ استقامت اور اثرورسوخ کے حامل بھی نہیں۔ عمران خان نے 126روز دھرنا جاری رکھا اور اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمشن منوا کر دم لیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری پہلی بار زرداری حکومت سے انتخابی اصلاحات کا تحریری معاہدہ لے کر واپس آئے‘ دوسری دفعہ سانحہ ماڈل ٹائون کی ایف آئی آر درج کرانے میں کامیاب رہے‘ جو آج تک شریف خاندان کے سر پر تلوار کی طرح لٹکی ہے‘ جبکہ مولانا دینی مدارس کے طلبہ‘ اساتذہ اور مذہبی کارکنوں کا‘ بڑا ہجوم لے کر آئے‘ پوری اپوزیشن کی زبانی اور اخلاقی تائید و حمائت حاصل تھی اور میڈیا کا ایک حصہ کمک کے لئے موجود‘ اس کے باوجود بے نیل و مرام واپس لوٹے۔ دور اندیشی‘پرجوش عوامی تائید و حمایت اور اخلاقی جواز سے محروم تحریکوں اور اجتماع کا یہی حشر ہوتا ہے‘ مولانا اور ان کے ساتھی قومی‘ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کا ادراک کر سکے نہ ایسی احتجاجی تحریکوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے عناصر کے موڈ کا درست اندازہ اور نہ کامرانی اور ناکامی کے امکانات کا حساب کتاب‘ کشمیر کے ایشو کی حساسیت کو انہوں نے نظر انداز کیا اور اس اسٹیبلشمنٹ سے غیر معمولی امیدیں وابستہ کر لیں جسے بظاہر سیاسی معاملات میں مداخلت سے باز رکھنے کا نعرہ لگا کر وہ میدان میں کودے‘اور پاکستانی ریاست کے اہم اداروں سے دشمنوں کی طرح نفرت کرنے والے افرادنے ان کی بلائیں لیں۔

آزادی مارچ ابھی راستے میں تھا کہ لیاقت پور کے قریب تیز گام میں آتشزدگی کا سانحہ رونما ہوا‘ بدقسمتی سے اس میں تبلیغی جماعت کے درجنوں ارکان لقمہ اجل بنے‘ مولانا چاہتے تو اس سانحہ کو باعزت واپسی کا موزوں موقع تصور کرتے‘ اسلام آباد پہنچ کر ایک پرجوش جذباتی تقریر فرماتے اور کارکنوں کو واپسی کا حکم دے کر خود ان خاندانوں سے تعزیت کرنے پہنچ جاتے ‘جن کے پیارے المناک حادثے کا شکار ہوئے۔ عمران خان نے سانحہ اے پی ایس کو غنیمت جانا اور دھرنا ختم کر دیا۔ مولانا مگر ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے اور عمران خان کے خلاف جذبات سے مغلوب ‘ ایک غلطی بلکہ سنگین غلطی یہ کی کہ پہلے ہی روز مجمع دیکھ کر بے قابو ہو گئے اور وزیر اعظم کو دو دن کے اندر استعفیٰ کا الٹی میٹم دیدیا۔ یہ اپنے آپ کو بند گلی میں داخل کرنے کے مترادف فیصلہ تھا۔ الٹی میٹم دینے کے بعد وہ انتظار کرتے رہے کہ مذاکراتی ٹیم عمران خان کا استعفیٰ نہ سہی کوئی دوسری پیشکش لئے کنٹینر یا ان کی اسلام آباد میں قیام گاہ کا رخ کرے گی۔ مگر حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے عقلمندی کا ثبوت دیا جب تک الٹی میٹم کی مدت ختم نہ ہوئی مذاکرات کے لئے نہ پہنچی۔ الٹی میٹم کی مدت گزر جانے کے بعد مولانا کی کمزوری واضح ہو گئی اور سب کو پتہ چل گیا کہ ان تلوں میں تیل نہیں‘ اگر مولانا کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہوتے تو اتوار کی شب کر گزرتے‘ مزید انتظار نہ کرتے‘ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرف سے کمک ملنے کا امکان مفقود تھا۔

دونوں جماعتیں اگر مولانا سے متفق اور فیصلہ کن احتجاج پر تیار ہوتیں تو کراچی‘ سکھر میں پیپلز پارٹی اور لاہور میں مسلم لیگ(ن) کی طرف سے مولانا کا استقبال مایوس کن نہ ہوتا۔ دونوں اتحادیوں کے برعکس حکومت کے اتحادی چودھری برادران نے انہیں اخلاقی سہارا دیا فیس سیونگ کی کوشش کی مگر مولانا خاطر میں نہ لائے اور بہترین مواقع گنوا دیا ورنہ انتخابی کمشن کی تجویز بُری نہ تھی۔ سڑکیں بند کرنے کا اعلان محض کارکنوں کی اشک شوئی ہے۔ ریاست کے جن اداروں نے اسلام آبادمیں ان کی دال نہیں گلنے دی وہ ایسی شاہراہوں کو بند کیوں اور کیسے کرنے دیں گے جو معاشی شاہرگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ شاہراہ قراقرم ‘ شاہراہ طورخم اور شاہراہ چمن ۔آزادی مارچ اور دھرنا میں اپوزیشن اور حکومت دونوں میں سبق پوشیدہ ہے۔ سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے سبق نہ سیکھنے کے باعث اپوزیشن کو ایک دھچکا اور لگامزید خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ندامت اور رسوائی کا لفظ میں جان بوجھ کر استعمال نہیں کرتا‘اپوزیشن بالخصوص مولانا فضل الرحمن کو یہ حقیقت اب تسلیم کرنی چاہیے کہ قومی ادارے ایک صفحے پر ہیں وہ موجودہ حکومت اور عمران خان کو اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں قومی خدمت اور ملکی ترقی کے لئے آزمانے کا بھر پورموقع دینا چاہتے ہیں آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی اور میاں نواز شریف کی مسلم لیگ کی حکومتیں اگر خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود اپنی مدت مکمل کرنے میں کامیاب رہیں تو تحریک انصاف کی حکومت کیوں نہیں جس کا اب تک مالی کرپشن کا کوئی بڑا سکینڈل سامنے آیا نہ خارجہ امور میں کوئی بلنڈر ہوا اور نہ سیاسی حوالے سے اس نے کمزوری دکھائی‘ آزادی مارچ کو جس دانشمندی‘ جمہوری انداز اور حکمت سے موجودہ حکومت نے ڈیل کیا‘ کہیں رختہ ڈالا‘ نہ گرفتاریوں اور لاٹھی گولی کا سہارا لیا‘ یہ پاکستانی تاریخ میں غالباً دوسرا واقعہ ہے پہلا واقعہ جونیجو دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی اور پھر خزاں کے موسم سے موسوم احتجاجی تحریک کے موقع پر رونما ہوا تھا۔ اسلام آباد پر قبضے کے علمبردار ہجوم کو فری ہینڈ دینے اور پھر ناروا مطالبات کو مسترد کر کے مذاکرات سے انکار کا حوصلہ ایک ایسی حکومت دکھا سکتی ہے جو پرعزم و پراعتماد ہو اور مخالفین سے سیاسی و جمہوری انداز میں نمٹنے کی اہلیت و صلاحیت سے بہرہ ور۔ دھرنے کی ناکامی سے حکومت کی کمزوری کا تاثر تحلیل ہوا جبکہ اپوزیشن کی ناچاکی ‘ نااہلی نارسائی اور عوام میں عدم مقبولیت نمایاں رہی۔ تحریک انصاف اور حکومت کے لئے سبق یہ ہے کہ ایک تو وہ اپنے کارکنوں اور عوام کے مسائل و مشکلات پر توجہ دے اور دوسرے وہ بسم اللہ کے گبند میں بند اس خوش فہمی کا شکار نہ رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہم آہنگی کے سبب وہ محفوظ ہے اور اسے کوئی چیلنج درپیش نہیں۔ اگر اس نے مہنگائی بے روزگاری‘ بدامنی پر قابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے اور مختلف مافیاز کی جلد ازجلد سرکوبی میں کمزوری دکھائی تو اپوزیشن کا اگلہ حملہ زیادہ سنگین اور خطرناک ہو گا جس کا مقابلہ صرف عوامی تائید و حمائت سے ہو پائے گا کوئی دوسرا کمک فراہم نہیں کرے گا۔