موضوع: صوبیدار (ر) خالد محمود بھٹی مرحوم (2) تحریر: حسان بن ساجد

اسی طرح 1971 کی جنگ کے بعد آپ کو ستارہ حرب اور تمغہ جنگ 1971 دیا گیا۔ 1988 میں آپ کو تمغہ جہموریت اور اس کے علاوہ گولڈن جوبلی میڈل اور تمغہ صد سالہ جشن قائد اعظم سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ پاک فوج میں سروس کے دوران آپ نے مختلف شہروں میں بھی افواج پاک کی خدمت کی جن میں لاہور، کراچی، ملتان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، خیر پور سندھ اور اٹک (کیمل پور) شامل ہیں۔

لاہور میں قیام کے دوران آپ نے والٹن روڈ سے ملحقہ علاقہ میں کچھ زمینیں خریدیں جو سستی تھیں مگر تب کھیتوں کا منظر پیش کرتی تھیں۔ لوگوں نے آپ کا مزاخ بنایا کہ کیا غلطی کر بیٹھے ہیں نا بندہ نا بندے کی ذات اس جگہ پر اور آپ زمین لے بیٹھے ہیں مگر آپ ثابت قدم رہے۔صبح خود گھر کی تعمیر کا کام کرتے، پھر دفتر جاتے اور رات پھر گھر کی تعمیر کا سفر جاری رہتا۔ مسلسل جدوجہد سے اپنا گھر اور اولادوں کے گھر کے علاوہ بھائیوں کی شادیاں تھی یا اپنی اور بھائیوں کی اولاد کی شادیاں تھیں آپ نے مالی معاملات میں مدد کی۔ اگر فلاح و بہبود کی بات کی جاۓ تو آپ دکھی دل انسان اور غریب لوگوں کی مدد کرنا آپ کا شیوہ تھا۔ غریب، یتیم و مسکین لوگوں کا آپ کے گھر سے رابطہ ہمیشہ رہتا تھا۔ اسی طرح جوانی اور شادی کے بعد جب آپ اپنے گاؤں جاتے تو گاؤں کے غریب بچوں اور تمام رشتہ داروں کے بچوں کو فی سبیل اللہ‎ پڑھاتے۔ جس کے پاس قلم نا ہوتا اسے قلم خرید دیتے، جس کے پاس کاپی نا ہوتی کاپی لے دیتے۔ آج انہیں کے طلبا شعور یافتہ و مقامات پر فبچ کر انہیں دعایں دیتے ہیں۔ تعلق میں آپ میرے دادا جان تھے اگر اولاد کی تعلیم و تربیت بات کی جاۓ تو وہ الگ داستان ہے مگر مجھ سے آپ کا پیار بے حساب تھا۔

میری میٹرک میں کامیابی اور امتیازی نمبروں سے کامیابی پر آپ نہایت خوش تھے اور مجھے آپ نے مزید علم کا سفر جاری رکھنے کی نصیحت کی۔ آپ نے کہا کہ "شک تمہیں پڑھنے کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک میں جانا پڑے میں تمہاری مالی مدد کروں گا"۔ پھر دیکھنے میں آتا ہے کہ یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے۔ کالج لائف کی داخلہ فیس سے لے کر یونیورسٹی کی بھاری فیس ادا کرنے میں آپ کا اہم کردار تھا۔ میرے اخراجات میں حتی کہ یونیورسٹی جانے کے لیے موٹر سائیکل کا بھی اہتمام آپ نے کیا اور والد گرامی کو کافی حد تک مالی معاملات میں چھوٹ دی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ کا علم و تعلیم سے کتنا لگاو تھا۔ صوبیدار (ر) خالد محمود بھٹی 32 سالہ پاک فوج کی سروس کے بعد 2 اکتوبر 1990 پاک فوج سے ریٹائر ھوجاتے ہیں۔ آپ ریٹائرمنٹ کے بعد فلاحی کاموں میں مصروف رہے۔فلاحی کام تھے یا مساجد کی تعمیر آپ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔سیاست اور صحافت سے آپ کو قلبی لگاو تھا۔ ہر روز اخبار کا مطالعہ آپ کا مشغلہ رہا۔حالات حاضرہ خواہ وہ بین الاقوامی تھے یا ملکی، معاشی، سیاسی و سرحدی ہر پہلو پر نظر رکھتے تھے۔ اس میں معلومات اور حالات حاضرہ پر گفتگو کے لیے مجھ نا چیز صحافی کا استعمال کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:   صوبیدار (ر) خالد محمود بھٹی مرحوم (1) - حسان بن ساجد

مسلسل زندگی گزارنے والا یہ شخص اس قدر فٹ تھا کہ روز صبح ورزش آپ کا معمول تھا۔ کسی جوان کی کلائ پکڑ لیتے تو اسے چھڑوانا مشکل ھوجاتا۔مسلسل بھرپور زندگی گزارنے والا اور اپنی نسل کو یکجا رکھنے والا یہ مرد آہن زندگی کے نشیب و فراز دیکھتے دیکھتے اور اپنی آخری منزل کی جانب رواں دواں تھا۔
22 اکتوبر 2019 کی صبح 10 بجے صوبیدار (ر) خالد محمود بھٹی دل کا دورہ پڑنے پر دنیا فانی کو چھوڑ کر چلے گئے۔یہ اس خاندان و ملک و قوم کا وہ چمکتا ہوا تارا تھا جو خود تو روشن تھا ہی مگر ہر وقت محو رہا کہ خاندان و اردگررد کے بچوں میں بھی علم کی روشنی جلاتا رہے۔ یہ وہ چمکتا ہوا تارا تھا جو ملک و قوم خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑتا رہا اور سینے پر گولی تک کھای۔ آپ مذہبی رہنمائی کے لیے تحریک منہاج القرآن کے لائف ممبر تھے۔ محترم خالد بھٹی صاحب کا نماز جنازہ چیئرمین سپریم کونسل۔منہاج القرآن ڈاکٹر حسن محی الدین القادری نے باب پاکستان گراؤنڈ لاہور میں پڑھایا جبکہ بانی و سرپرست۔منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے پسماندگان سے اظہار تعزیت بھی کی اور دعاے مغفرت فرمائی۔

مرحوم کا نماز جنازہ لاہور کے معروف گراؤنڈ، باب پاکستان گراؤنڈ میں ادا کیا گیا۔ یہ وہی تاریخی گراؤنڈ ہے جہاں پر تحریک آزادی کے مہاجرین نے پہلا قیام تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح رح و محترمہ فاطمہ جناح رح خود یہاں تشریف لائیں تھیں۔یہ وہی گراؤنڈ ہے جہاں 15 اگست 2019 کو حالیہ کشمیر مسلہ میں شہید ہونے والے پہلے پاک فوج کے جوان لانس نائیک تیمور اسلم (شہید) کا نماز جنازہ پڑھایا گیا۔ کچھ لوگ زندہ نا ھو کر بھی زندہ رهتے ہیں۔بے شک صوبیدار (ر) خالد محمود بھٹی نے علم، سماجی و فلاحی کام، دھرتی کی خاطر خون بہا کر اور غربت سے نکل کر کامیاب شخص بن کر پتایا کہ ہمت، حوصلہ اور لگن سے انسان آسمان کی بلندیوں کو بھی چھو لیتا ہے۔ آپ نے وفات سے چند دن پہلے خوش مزاج لہجے میں شعر پڑھا تھا کہ
یہ زندگی کے میلے دنیا سے کم نا ہوں گے ۔۔افسوس! ہم نا ہوں گے ، بے شک میری تحریر ایک چھوٹی سی کاوش تھی، بے شک یہ بھی انکی ہستی کے لیے کم ہوگی۔نوجوان نسل کو علم کا دامن تھامنا ہوگا کیونکہ جس نے اس کی قدر کی وہی ترقی کی جانب بڑھا اور اسکی مثال ہی آج ہستی تھی۔اللہ‎ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے مغفرت فرماۓ۔آمین
بچھڑا کچھ اس سے کہ رت ہی بدل گئی ۔۔۔۔ ایک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا