بیٹیاں باپ کی پیاری ، بیٹے ماں کے پیارے - ڈاکٹر طاہرہ بشیر سلہریا

بڑے بوڑھوں سے سنا تھا کہ بیٹیاں باپ کی لاڈلی ، اور بیٹے ماں کے پیارے۔ سو ان رشتوں میں قربت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی غلط یا خوش فہمی میں جی گئے اب تک۔بس جناب کیا پوچھیے، ان بڑے بوڑھوں نے میرے بیٹوں کو نہیں دیکھا تھا۔ابا کے چمچے بلکہ کفگیر۔

ابا کی حمایت میں سر سے پیر تک چوبیس گھنٹے تیار۔ادھر میں نے ابا سے کچھ کہا نہیں اور ہر ایک ڈھال بن کر ان کے سامنے۔ پچھلے دنوں کام کی زیادتی کے باعث کمر درد کا رونا رو رہی تھی جب میاں جی نے فرمایا۔۔۔۔۔عمر کا تقاضا ہے بچو۔بوڑھی ہو گئی ماں ۔میں نے بھی پچھلے ہفتے رنگوائے سر کے بالوں کو جھٹک کر کہا۔ آپ اپنی داڑھی ملاحظہ فرمائیں جناب ، ساری سفید ہو چکی ہے۔ حسان نے مورچہ سنبھال لیا ، میرے پاپا کی داڑھی پر بہت دھوپ پڑتی ہے اس لیے وہ سفید ہو گئی ہے۔ حسان کی طرفداری ایک طرف ،سورج کے selective فوکس پر زیادہ غصہ آیا۔ میں نے تلملا کر کہا، ادھر آ، پاپا کے حمایتی تجھے پوچھوں۔ رمان صاحب جو شانت طبیعت کے ہیں، فورا بولے، مت جانا حسان ، ماما تھپڑ ماریں گی۔ حسان نےجھٹ جواب دیا۔ تھپڑ سے نہیں صاحب ، پیار سے ڈر لگتا ہے۔ حسان کے رنگین جواب پر خرم کھلکھلا کر ہنسنے لگے مگر میری سنگین تیوریاں دیکھ کر جلد ہی ہنسی کو بریک لگ گئی۔ وکیل کو ملزم سے مجرم بنانے کے لیے ثبوت مل گیا تھا۔

میں نے کان کھینچتے کہا ، اور دیکھو فلمیں پاپا کے ساتھ ، حسان نے کان چھڑوا کر سہلاتے کہا۔۔۔میں نے آخری تخلیقی لکھائی میں ایک انگلش فلم سے کچھ جملے لکھے تھے ، اتنی کام کی ہیں فلمیں۔ پاپا ہمیں فلموں کے ذریعے پڑھائی میں مدد دے رہے ہیں۔ میں تو فورا پریشانی میں بیگ کھول کر تخلیقی لکھائی ڈھونڈنے لگ پڑی جس میں نا جانے کون سے گل کھلائے تھے۔اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ حسان سے مزید بحث کا حوصلہ نا تھا۔ ایک گھنٹے کے اندر اس نے باپ کے لیے نشان امتیاز کے اہل ہونے کے دلائل سنا دینے تھے۔اور فیصلہ بھی۔