کشمیر یہ نام سنتے ہی دل غم سے پھٹ پڑتا ہے۔-علی رضا

کشمیر یہ نام سنتے ہی دل غم سے پھٹ پڑتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ اسےاب تک پاکستان کا حصہ نہیں بنایا گیا، ناہی اس لیے کہ 370 ایکٹ کو پس پشت ڈال کر ہندوستان وہاں پر قبضے کی تیاری میں ہے اور نہ ہی کوئی ذاتی مفاد ہے بلکہ فقط اس لیے کہ وہاں جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور آج سے نہیں ایک زمانہ گزر گیا۔

لیکن مسلم امہ خاموش رہی، انسانیت کے علمبردار بھی خاموش تماشائی بنے رہے اور گزرتے وقت کے ساتھ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ کرفیو کو آج پورے 99 دن گزر چکے ہیں لیکن خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں اور نہ ہی خدا کو کسی کی ضرورت ہے بات صرف فکر اور اپنے وسعت کے مطابق کوشش کرنے کی ہے۔ میں کسی مسلمان کی بات نہیں کرتا اسلام تو کافر کے ساتھ بھی ظالمانہ رویہ اختیار کرنے سے روکتا ہے بلکہ انسان کیا جانور کے ساتھ بھی ایسا ظالمانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور ظلم پر آواز نا اٹھانے والا بھی ایک درجے میں ظالم کہلاتا ہے۔
میں پچھلے گزرے دو ماہ کی بات کرتا ہوں، ان دنوں میں میری والدہ کی طبیعت ناساز ہوئی مجھے ڈاکٹر سے ادویات لینے کی ضرورت پیش آئی اور باقی مسائل تو زندگی کا حصہ ہیں۔

یہ صرف میں ایک گھر کی بات کر رہا ہوں جہاں ایڈیل کنڈیشن ہے نہ کوئی ذہنی دباؤ ہے ناہی کھانے پینے میں کمی نا ہی ہوا میں آلودگی نا آنسوگیس اور نا ہی بارود کی گند اور نا کسی قسم کا ذہنی دباؤ ہے لیکن پھر بھی دکھ بیماریاں تو عام زندگی کا حصہ ہیں اور جہاں ہر روز لاشیں اٹھ رہی ہوں نوجوان لڑکوں کو ان کے ماں باپ کی نظروں کے سامنے مارا جا رہا ہواور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہو، بہنوں، بیٹیوں کی عصمت دری کی جارہی ہو کھانے پینے کی اشیاء میسر نہ ہو آنسو گیس اور بارود کی بو سے آلودہ ہوا ہو،جسم پر ربر کی گولی سے زخم ابھررہے ہوں اور نہ جانے کیا کیا مظالم ڈھائے جا رہے ہوں ، ادویات میسر نہ ہو ڈاکٹر نہ ہوں مستقل شٹرڈاؤن ہوہم خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں کیا عالم ہوگا۔ رونا صرف اس بات کا نہیں کہ حکومت اب تک اپنی باتوں کوعملی جامہ نہیں پہنا سکی۔ بلکہ اصل افسوس تواس بات کا ہے کہ آج تک ہم بھی کچھ نہ کر سکے ہم خود اپنا جائزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہم نے تو سچے دل سے کبھی دعا بھی نہ کی اگر کچھ کیا تو بس اتنا کہ حکومت اور آرمی کو بھلا برا بھلا کہہ کر اپنا فرض ادا کر دیا، یا پھر کشمیر تو ہمارے ساتھ ملنا ہی نہیں چاھتا تھا وغیرہ۔ بہانے بنا کر کسی نے اپنے دل کو تسلی دے دی یا پھر سیاسی باتیں بنا کر ان کے غم کو بھول گئے ۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بات ضروری ہے جو اب تک ادھوری ہے - حسین اصغر

کیا ہم خود میں مجرم نہیں ؟ کیا ہم نے سچے دل سے کبھی دعا بھی کی خدا کے حضور گڑ گڑا کر؟ ۔ ہمیں کبھی فکر ہوئی جب دنیا بھر میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا لیکن افسوس کہ بہت ہی کم لوگ اس کارخیر میں شامل ہیں۔ کیا جب برما میں، فلسطین میں اور اب کشمیر میں بچوں کو مارا گیا نوجوان لڑکوں کا قتل عام ہوا ، ان پر تشدد کیا گیا؟، آج ہمارا بچہ یا کوئی گھر کا فرد گھر دیر سے لوٹے یا صرف فون اٹھانے میں دیر کردےتو ہمیں کتنی فکر ہوتی ہے کیسے خیالات ذہن میں آنا شروع ہو جاتے ہیں، کیا ہمیں ان ماؤں کا احساس ہے جن کے بیٹے آج بھی لاپتہ ہیں کچھ نہیں معلوم کہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ جب خواتین کی بے حرمتی ہوئی کیا ہمارا دل لرزہ؟، آنکھیں نم ہویں؟، یا پھرہم اپنی دنیا میں مگن رہے کبھی سوشل میڈیا نے جان نہیں چھوڑا تو کبھی اپنےخوبصورت خیالوں میں گم رہے یا پھر دنیا کمانے میں لگے رہے یا پھر اپنے ٹینیج تو کبھی کالج یا یونی (جامعہ) لایف کے ختم ہونے کا غم مناتے رہے؟ اور مسلمانوں پر ظلم وستم دیکھ کر ایک نہ ہوئے فقط دوسرے مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ لگاتے رہے، یا پھر نسلی تعصب کی وجہ سے اسلام کیا انسانیت کو بھی فراموش کرتے رہے۔

میرے اس آرٹیکل کا مقصد کسی پر تنقید کرنا نہیں، مقصد صرف یہ ہے آج ہم خود سے سوال کریں اور اپنے دل میں جھانکیں اور اپنے ضمیر کو جواب دیں کہ آج ہم کہاں پر کھڑے ہیں؟ بطور انسان، یا مسلمان آج ہمارا کیا درجہ ہے، آج ہم خود کو ان کی جگہ پر رکھ کر دیکھیں، یقین مانیے دل غم سے پھٹ جائے گا سرشرم سے جھک جائیں گے،کچھ دیر کے لیے سوچیں کہ اگر ہم ان کی جگہ ہوتے تو ہمارے کیا احساسات ہوتے ؟ جس طرح ہمیں اپنے بچوں سے محبت ہے انہیں بھی تھی،وہ بھی اپنے بچوں کو کامیاب اور خوش دیکھنا چاہتے تھے لیکن افسوس انہوں نے اپنے بچوں کی لاشیں دیکھی ، تشدد سے کراہتی ہوئی آوازیں سنی۔ ہم اپنی خواتین پر غلط نگاہ تک برداشت نہیں کرسکتے، جس طرح ہمیں اپنی ماں، بہن، بیٹی کی عزت کا خیال ہے، انہیں بھی تھا،
مگر افسوس ہے کہ اس قدر بربریت کے باوجود دنیا خاموش رہی، نہ جانے کون سے ترقی کی دوڑ میں انسانیت کو بھول بیٹھی۔

یہ بھی پڑھیں:   لال لال لہرائے گا تو ہوش ٹھکانے ہی آئے گا - ڈاکٹر راحت جبین

ایسا نہیں ہے کہ زندگی کے معمولات کو چھوڑ دیا جائے مگر اپنے وسعت کے مطابق جو کر سکتے ہیں کم ازکم وہ تو کریں۔ ہر شخص اپنے حدود جانتا ہے کہ وہ کہاں تک کوشش کرسکتا ہے اور اگر کچھ کرنے کی طاقت نہیں تو کم از کم غم زدہ دل سے گڑ گڑا کر اللہ رب العزت کے حضور دعا ہی کی جائے۔ ہر شخص اپنی ضمیر کی آواز کو پہچانتا ہے۔ ہمیں فقط اپنا محاسبہ کرنا ہوگا نا کہ دوسروں سے موازنا۔ کہ فلاں کیا کر رہا ہے یا فلاں نے کیا کیا۔ کل بروز محشر اللہ کے حضور اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،کے سامنے ہم اللہ کو خود ہی جواب دہ ہونگے کہ ہم نے کیا کیا، جب مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو رہا تھا اس وقت ہمارا کیا ردعمل تھا؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مومنوں کی مثال ان کی دوستی اور اتحاد اور شفقت کے لحاظ سے ایک جسم کی طرح ہے ۔(یعنی سب مومن مل کر ایک قالب کی طرح ہیں) جسم میں سے جب کوئی عضو درد کرتا ہے تو سارا جسم اس ( تکلیف) میں شریک ہو جاتا ہے نیند نہیں آتی اور بخار ہوجاتا ہے (اسی طرح ایک مومن پر آفت آئے خصوصاً وہ آفت جو کافروں کی طرف سے پہنچے تو سب مومنوں کو بے چین ہونا چاہیے اور اس کا علاج کرناچاہیے)۔‘‘ظلم کو برا جاننا بھی ایمان کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے کیا ہم ایمان اس ادنیٰ درجے پر بھی فائزہیں ؟۔ کل سے بہتر ہے کہ آج ہی اس بات کا جواب خود کو دیں۔ کیونکہ کل بھی ہمیں ہی جواب دینا ہے کسی اور نے نہیں۔

تنہائی میں بیٹھ کر اپنا محاسبہ کریں اپنے دل میں جھانکیں اور جواب طلب کریں کہ آج ہم کس جگہ پر ہیں اگر جواب مثبت آتا ہے تو جلد ہی ہم اللہ کی نصرت کو پائیں گے اور خود میں اور اپنے ملک میں مثبت تبدیلی رونما ہوتے دیکھیں گے اور اگر جواب منفی آتا ہے تو ہمیں اصلاح اور اللہ سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے اللہ سے معافی مانگیں،اور پناہ مانگیں ۔

کہ ماضی گواہ ہے کہ جو بھی قوم اپنے مقصد سے ہٹی وہ برباد ہوگئی۔اور پھر یہ امت تو آئی ہی تمام انسانیت کی مدد اور اصلاح کے لئے تھی۔ اللہ ہمیں اپنے مقصد پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے سیدھا راستہ دکھائے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں مظالم سے محفوظ رکھے۔ آمین۔