صوبیدار (ر) خالد محمود بھٹی مرحوم (1) - حسان بن ساجد

یوں تو میں نے معاشرتی مسائل، سیاسی و سرحدی حالات پر بہت سی تحریریں لکھیں مگر آج کی تحریر کا مقصد ایک کامیاب، مظبوط، نڈر اور محنتی ہستی کے بارے میں تحریر کرنا تھا جو بذات خود تو میڈیا کی زینت نا بن سکا مگر وہ ذات میں پاک فوج کا بہادر جوان، علم کا مشتاق اور فلاح و بہبود کے کام کا سرچسمہ تھا۔
25 مئی 1939 کو ضلع راولپنڈی تھانہ جاتلی کے گاؤں جھنگی پھیرو میں پیدا ہونے والا یہ شخص خالد محمود تھا جس کے 6 بھائی اور بہنیں تھیں یہاں سب کا نام لینا مقصود نہیں۔

خالد محمود کے والد گرامی محمد فضل احمد اور والدہ کرم نور تھیں اگر معاشی حالات کی بات کی جاۓ تو غربت، فکر و فاقہ کا عالم تھا مگر خالد محمود کا بچپن سے لگاو کتب کے ساتھ تھا۔ بقول محترم خالد محمود بھٹی (مرحوم) وہ سردیوں کی راتوں میں ٹھنڈے فرش پر کتب بینی کرتے تھے تاکہ نیند نا آے۔ صبح بعد نماز فجر گاؤں کے سبزہ زار اور کھیتوں میں جا کر اسلامیات اور رات کو ریاضی پڑھتے تھے۔اگر ذات کی بات کروں تو خالد محمود "اعوان کتب شاہی" تھے جو "ملک اعوان یا علوی" بھی کہلاتے ہیں۔ اب آپ کے ذہنوں میں سوال ہوگا کہ نام میں تو بھٹی ہے اس کی بھی ایک الگ داستان ہے۔خالد محمود کے استاد محترم آپ کو پیار سے خالد محمود بھٹی پکارا کرتے تھے اور اسی طرح آپ کے میٹرک داخلہ میں بھی نام یہی لکھا گیا۔ غربت کا یہ حال تھا کہ میٹرک کا داخلہ بھیجنے کے لیے بھی خالد محمود کے پاس پیسے نا تھے مگر خاندان کے ایک معتبر شخص محمد حسین نے داخلہ فیس دی۔ خالد محمود نے میٹرک اپنے گاؤں سے پاس کیا۔اگر میٹرک کی بات کی جاۓ تو اس زمانہ میں میٹرک کرنا بہت بڑا کام سمجھا جاتا تھا۔ میٹرک کے بعد اس مرد آہن نے ایک چھوٹی سی دوکان کھول لی اور راولپنڈی سے سامان لا کر گاؤں میں بیچنے لگا۔

ایک دن راولپنڈی میں خالد محمود صاحب سامان لے کر گاؤں واپس آرہے تھے کہ راولپنڈی میں ہی ایک فوجی گاڑی گزر رہی تھی اور ایک فوجی آواز لگا رہا تھا "ہے کوئی میٹرک پاس جو فوج میں بھرتی ہونا چاہتا ھو" یہی خالد محمود کی زندگی کا اہم موڑ تھا آپ نے سامان وہیں پھینکا اور گاڑی پر سوار ھوگئے۔ گھر والد گرامی کو خط بھیج کر پتا دیا کہ آرمی میں سلیکشن ھوچکی ہے۔ 2 اکتوبر 1958 میں آپ نے پاک فوج میں شمولیت حاصل کی اور اس وقت آپ کی عمر 19 سال تھی۔ فوج میں بھرتی کے بعد ایک مرتبہ جوان خالد محمود کی اپنے گاؤں میں اپنے دوست ملاقات ہوئی جس کے نمبر میٹرک میں آپ سے کم تھے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس نے ایف۔اے کر لیا ہے۔ خالد محمود نے اس علمی سفر کو دوبارہ شروع کیا اور ایف۔اے کے بعد بی۔اے، بی۔ایڈ کیا۔ اگر اس زمانے کی بات کی جاۓ تو بی۔ایڈ آج کے دور کی ایم۔ایڈ یا ایم۔فل کے برابر تھی۔ ادھر ایک اور اہم موڑ آیا اور پنجاب پولیس سے آپ کو لیٹر آتا ہے کہ آپ پنجاب پولیس کو باحیثیت افسر جوائن کر سکتے ہیں، مگر والد گرامی کی نصیحت پر آپ نے اس محکمہ کو جوائن نا کیا۔ والد گرامی کی نصیحت تھی کہ یہ شعبہ حرام کمائی کا بھی ذریعہ ہے گویا ادھر مت جاؤ۔

یہ بھی پڑھیں:   موضوع: صوبیدار (ر) خالد محمود بھٹی مرحوم (2) تحریر: حسان بن ساجد

الغرض 2 ماہ میں GHQ راولپنڈی سے خالد بھٹی کو لیٹر آتا ہے کہ آپ ایجوکیشن کور کو جوائن کر سکتے ہیں۔ خالد محمود بھٹی ایجوکیشن کور کا ٹیسٹ دیتے ہیں تو 5 سوالات کا انگلش میں جواب دینا ہوتا ہے اور ہر سوال 20 نمبر کا تھا۔ محترم نے ایک سوال شروع کیا تو اسی پر مدلل و بھرپور تحریر لکھ دی اور پیپر کا ٹائم ختم ھوگیا۔ کم و بیش دس صفحات کا انگلش میں جواب تھا۔ پیپر چیک کرنے کے بعد افسر نے پاس اور فیل جوانوں کو الگ الگ کرنا شروع کیا۔ مرحوم بتاتے ہیں کہ سب سے آخر میں مجھے امتحان پاس ہونے والوں میں کھڑا کیا اور میری انگلش گرامر کی تعریف کی۔گویا یہ بھی رب کعبہ کا اس پر خاص کرم و احسان تھا۔پاک فوج میں آپ نے آرمی لوگوں کو پڑھانا شروع کیا اور دوسری طرف خاندانی پہلو میں خاندان کو غربت سے نکالنے کی تھان لی۔ اپنے چھوٹے اکثریت بھائیوں کو پاک فوج میں بھرتی کروایا۔یہ وہ خطہ پوٹھوہار ہے جہاں سے پاک فوج کے اکثریتی لوگ بھرتی ہوتے ہیں۔وہ بھائیوں کی بھرتی و سمت دینا تھا یا پھر سب کی شادیاں اور خوشی و غمی میں بھرپور حصہ لینا، خالد محمود اولاد، بہن بھائیوں اور پاک فوج کو یکساں لے کر چل رہے تھے۔

آپ نڈر اور دلیر انسان تھے ایک مرتبہ آپ گاؤں میں صبح صبح چہل قدمی کر رہے تھے کہ کچھ لمحے آپ کھڑے ھوگئے۔جب چلنے لگتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ٹانگ پر سانپ نے گھیرا باندھ لیا ہے۔یہ مرد مجاھد وہیں رکتا ہے نا چیختا ہے اور نا چلاتا ہے۔ہلکا سا ٹانگ کو زمین پر مارتا ہے تو سانپ خاموشی سے اتر کر چلا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ رب نے اس شخص سے اور کام لینے تھے۔ 1965 کی جنگ تھی اور لاہور کا سیکٹر تھا یا 1971 کی جنگ میں لاہور سیکٹر تھا دونوں محاذوں پر مرد آہن کھڑا بھی ہوا اور 1965 کی جنگ میں مرد آہن نے سینے پر گولی بھی کھائی اور غازی رہے۔یہ اس فوج کا سپاہی تھا جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں اترتے ہیں اور دشمن کے دانت کھٹے کر دیتے ہیں۔ یہ وہ شخصیت تھی جس نے پاکستان کو بنتے اور قائد اعظم محمد علی جناح رح و علامہ محمد اقبال کو دیکھا تھا۔ ایوب خان،ذولفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، نواز شریف، بے نظیر بھٹو و آصف زرداری تک کے ادوار دیکھے تھے، انہوں نے 1965 و 1971 کی جنگیں، 1999 کا کارگل محاذ اور پھر تینوں مارشل لا بھی دیکھے۔ 1965 کی جنگ کے بعد آپ کو ستارہ جرات اور تمغہ جنگ 1965 دیا۔