اسلام سے متاثر ہونے والی اہم شخصیات

محمد یوسف : ستائیس اگست 1974 کو لاہور میں پیدا ہونے والے یوسف پاکستان کے مایہ ناز بلے باز ہیں۔ ان کا پرانا نام یوسف یوحنا تھا کیونکہ وہ عیسائی تھے مگر پھر دین اسلام کی روشنی ان کے دل میں گھر کرگئی اور وہ 2005 میں دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ وہ 1998 میں پاکستان ٹیم کے ممبر بنے اور 2006 میں اپنے فن کی عروج پر دکھائی دیئے جب انھوں نے سر ویوین رچرڈ کا ٹیسٹ کرکٹ کے ایک کلینڈر سال میں سب سے زیادہ دوڑ بنانے کا ریکارڈ 1788 دوڑ بنا کراپنے نام کیا، بلکہ ایک کلینڈر سال میں سب سے زیادہ 9 سنچریاں کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

ایک حالیہ انٹرویو میں یوسف کا کہنا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک دوست مجھے کہہ رہے ہیں مبارک ہو آپ تو مسلمان ہوگئے ہیں۔ 2002 میں سعید انور بھائی نے مجھے گلے لگا لیا مجھے کلمہ پڑھایا اور میری دنیا بدل گئی۔انہوں نے بتایا کہ ایک سابق کرکٹر ذوالقرنین حیدر اکثر آجاتے اور انہیں تبلیغ دیتے تھے۔ میری بیوی نے مجھ سے پہلے اسلام قبول کیا اور ہم نے اسے مذہبی آزادی دی، میرے قبول اسلام پر والد صاحب نے برہمی کا اظہار کیا جس کے بعد والدہ رنجیدہ تھیں۔
یوون شنکر : جنوبی ایشیا کے سب سے کم عمر میوزک ڈائریکٹر کا اعزاز رکھنے والے ہندوستانی موسیقار یوون شنکر راجا اپنی ماں کے انتقال کے بعد اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر حال ہی میں مسلمان ہوئے۔ اپنے ایک انٹرویو میں یوون شنکر راجا کا کہنا تھا کہ ان کے والدین کٹر ہندو تھے اور اپنے عقائد میں اس قدر پختہ تھے کہ اگر گھر میں گلاس بھی ٹوٹ جاتا تو وہ کسی پنڈت کو بلالیتے تھے، 2011 میں اپنی والدہ کے انتقال کے بعد وہ خاصے بے سکون رہے جس کے بعد ان کے ایک دوست نے ایک مصلیٰ دیا کہ جب بھی اپنی والدہ کی یاد میں دل بوجھل ہو تو اس مصلے پر بیٹھ جایا کریں۔

مصلے پر بیٹھنے کے ساتھ ہی وہ زار و قطار رونے لگے اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگے، اس واقعے نے ان کی روح کو ترو تازہ کر دیا اور اس کے بعد انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ شروع کیا۔ یوون شنکر کے مطابق جیسے جیسے انہوں نے قرآن کو سمجھنا شروع کیا تو ان پر اس کائنات کی حقیقت آشکار ہونے لگی اور بالآخر جنوری 2014 میں انہوں نے باقاعدہ طور پر مسلمان ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے والد کو سب سے آخر میں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو انہوں نے اس کی مخالفت کی لیکن ان کے بھائی اور بھابھی نے ان کو کافی ہمت دلائی اور آج وہ ایک مسلمان بن کر اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں۔
ہنس راج ہنس : ہندوستانی گلوکار ہنس راج ہنس کی موسیقی کے تو سب ہی دلدادہ ہیں تاہم وہ کہتے ہیں مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے اسلام قبول کیا اور اب میرا نام محمد یوسف ہے لیکن گلوکاری کے شعبے میں میرا نام ہنس راج ہنس ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسلام کا انتہائی قریب سے مطالعہ کیا اور ہم نے اپنے بزرگوں سے جو کچھ سنا اس کے بعد میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور آج مجھے اس پر فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام محبت، امن اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے مسلمان ہونے کے بعد جو سکون ملا اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاست مجھے سمجھ نہیں آتی تاہم موسیقی میرا سبجیکٹ ہے، بولی وڈ سے امریکا تک دولت، شہرت حاصل کی لیکن اب اپنی زندگی آخرت سنوارنے کیلئے گزارنا چاہتا ہوں۔

شرمیلا ٹیگور : پرکشش اداکار شرمیلا ٹیگور جنھیں پدما ایوارڈ سے نوازا گیا ہے، نے بھی مرحوم منصور علی پٹودی کی محبت میں مبتلا ہونے کے بعد ان سے شادی سے قبل اسلام قبول کیا، ان کی پیدائش 1946 میں ایک ہندو گھرانے میں ہوئی تھی تاہم اسلام قبول کرنے اور شادی کے بعد ان کا نام تبدیل کر کے عائشہ بیگم رکھ دیا گیا، اس جوڑے کے تین بچے ہیں، اداکار سیف علی خان، ڈیزائنر صبا علی خان اور اداکار سوہا علی خان۔ ان کے شوہر منصور علی پٹودی کا انتقال بائیس ستمبر 2011 کو ہوا۔
دھرمیندر : دھرمیند جن کا پیدائشی نام دھرم سنگھ دیول ہے، ہندوستانی سینما کے ایک کرشماتی ہیرو مانے جاتے ہیں، اس وجہیہ اداکار نے رومانوی و ایکشن دونوں طرح کی فلموں میں خود کو منوایا، دھرمیندر نے دل بھی تیرا ہم بھی تیرے، آئی ملن کی بیلا، آئے دن بہار کے، سیتا اور گیتا، شعلے، سوامی، ڈریم گرل، دھرم ویر، شالیمار، رام بلرام اور نصیب جیسی یادگار فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ تاہم انہوں نے 1979 میں ہیما مالنی سے شادی سے قبل اسلام قبول کیا، حالانکہ وہ پہلے سے شادی شدہ اور چار بچوں کے باپ تھے، تاہم ہیما مالنی سے شادی کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرلیا مگر پہلی بیوی کو بھی نہیں چھوڑا جو ہندو مذہب کو مانتی ہے۔

اے آر رحمان : اے آر رحمان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، انہون نے ایک ہندو گھرانے میں جنم لیا، کئی منتوں اور مرادوں کے بعد والدہ کے لاڈلے بیٹے دلیپ کمار کی طبیعت خراب رہنے لگی تو ماں نے لوگوں کے کہنے پر ایک پیر کے مزار پر حاضری دی اور منت مانگی جس کے بعد دلیپ کی طبیعت ٹھیک اور ماں کا عقیدہ پختہ ہوگیا اور اپنے پورے گھر کے اسلام قبول کیا اور دلیپ کا نام اللہ رکھا رحمان رکھا گیا۔ رحمان کی موسیقی کسی ایوارڈ کی محتاج نہیں لیکن انہیں جتنے ایوارڈز ملے ہیں وہ شاید کسی بھی ہندستانی موسیقار کو آج تک نہیں مل سکے۔۔ اے آر رحمان کو بافٹا، گولڈن گلوب، سیٹیلائٹ اور کرٹکس چوائس ایوارڈز مل چکے ہیں جبکہ ملکی سطح پر انہیں چار نیشنل ایوارڈز اور سات فلم فیئر ایوارڈز ملے ہیں۔ تامل فلموں میں بھی رحمان کی موسیقی بہت مقبول ہے اور اس انڈسٹری نے انہیں ایک دو نہیں بارہ ایوارڈز سے نوازا ہے۔ انہوں نے سنہ 2005 میں اپنا جدید آلات سے لیس سٹوڈیو بنایا جو اس وقت ایشیاء کا سب سے بڑا سٹوڈیو مانا جاتا ہے۔ ان کی موسیقی میں کبھی مغربی دھن سنائی دیتی ہے تو کبھی آپ کو بہتے جھرنے کی صدا اور کلاسیکی میوزک، کبھی صوفی سنگیت تو کبھی جاز۔

امریتا سنگھ : اداکار امریتا سنگھ ایک سکھ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں، انہوں نے بولی وڈ میں اپنا کیریئر 1983 میں فلم 'بے تاب' سے کیا اور کئی ہٹ فلمیں جیسے سنی، مرد اور صاحب وغیرہ میں کام کیا۔ امریتا پیدائش سے سکھ مذہب کو مانتی آرہی تھیں تاہم سیف علی خان سے شادی سے قبل انہوں نے اسلام قبول کرلیا، تاہم تیرہ سال کی شادی کے بعد ان دونوں کے درمیان 2004 میں علیحدگی ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیف علی خان کی موجودہ بیوی اور معروف اداکار کرینہ کپور نے شادی کے بعد اسلام قبول نہیں کیا ہے۔
ممتا کلکرنی : ممتا کلکرنی 20 اپریل 1972 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ممبئی میں ہی گزارا۔ نوے کی دہائی میں ممتا کلکرنی کو بولی وڈ کی نہایت بے باک اداکار تصور کیا جاتا تھا اور وہ 1991 سے لے کر 2002 تک بولی وڈ فلم انڈسٹری میں متحرک رہیں، بعد میں اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے شوبز سے کنارہ کرگئیں۔ حالیہ دنوں میں ممتا کلکرنی اپنے شوہر وکی گاﺅسوامی کے ہمراہ نیروبی (کینیا) میں رہائش پذیر ہیں۔ گاﺅسوامی کو 1997 میں منشیات سمگل کرنے کے مقدمے میں متحدہ عرب امارات میں 25 سال کی سزا ہوگئی تھی، اسی دوران اس جوڑے نے اسلام قبول کیا جس کی وجہ سے ان کی سزا کم کر دی گئی اور نومبر 2012 میں رہا کر دیا گیا، گاﺅ سوامی نے جیل ہی سے ممتا کلکرنی سے شادی کی تھی۔

محمد علی : محمد علی (پیدائش بطور کیسیئس مارسیلس کلے جونیئر 17 جنوری 1942) امریکہ کے ایک سابق مکے باز ہیں جو 20 ویں صدی کے عظیم ترین کھلاڑی قرار پائے۔ انہوں نے تین مرتبہ مکے بازی کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز 'ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپیئن شپ' جیتا اور اولمپک میں سونے کے تمغے کے علاوہ شمالی امریکی باکسنگ فیڈریشن کی چیمپیئن شپ بھی جیتی۔ وہ تین مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپیئن شپ جیتنے والے پہلے باکسر تھے۔
فروری 1964 میں کیسیئس کلے نے باکسنگ میں اس وقت کے عالمی چیمپیئن سونی لسٹن کو کھلا چیلنج کیا اور انہیں ایک مقابلے کے چھٹے راؤنڈ میں شکست دی۔ اس کے بعد انہوں نے مسلسل سات مقابلوں میں اس وقت کے مایہ ناز مکے بازوں کو زیر کیا۔ اس فتح کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرتے ہوئے اپنا نام محمد علی رکھ لیا۔ محمد علی کا کہنا تھا کہ کیسیئس کلے ایک غلامانہ نام تھا، محمد علی رعشہ کی بیماری میں مبتلا ہیں اور ان کی صحت دن بدن گرتی جا رہی ہے۔