عالمی یوم...... - ڈاکٹرساجد خاکوانی

’’برداشت‘‘یعنی ’’حلم‘‘اﷲتعالی کی ایک عالی شان صفت ہے جس کا کہ اﷲ تعالی نے قرآن مجیدمیں متعدد مقامات پر ذکر کیاہے۔ایک مقام پر اﷲ تعالی نے اپنے غفور ہونے کے ساتھ اپنی برداشت کا یوں ذکر کیاکہ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ{۳:۱۵۵}ترجمہ:بے شک اﷲ تعالی بخشنے والا اور برداشت کرنے والاہے،ایک اور مقام پر اﷲ تعالی نے اپنی صفت علم کے ساتھ اپنی برداشت کاذکر کیا وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ{۴:۱۲} ترجمہ:اور اﷲتعالی بہت زیادہ علم والا اور برداشت والاہے۔

ایک اور آیت میں اﷲ نے اپنی بے نیازی کے ساتھ اپنی برداشت کا ذکر کیا وَ اللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ {۲:۲۶۳} ترجمہ:اور اﷲ تعالی بے نیاز اور صاحب برداشت ہے۔قرآن مجید نے اﷲ تعالی کی صفت قدردانی کے ساتھ بھی برداشت الہی کاذکرکیاہے ْ وَ اللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ{۶۴:۱۷}ترجمہ:اور اﷲ تعالی بہت قدردان اور برداشت سے کام لینے والا ہے۔ان آیات کی تفسیر میں وادر ہوئی متعدد روایات میں بھی اﷲ تعالی کی صفت برداشت کاکثرت سے ذکر ہے۔حقیقت یہی ہے عالم انسانیت کی بداعمالیوںاور طاغوتی طاقتوں کے ظلم و تعدی کے باوجود اس کرہ ارض پررزق کی کثرت،رحمت کی بارشوں کا نزول اور امن عافیت کی فراوانی کی وجہ محض ،خالق کائنات کی صفت برداشت ہی ہے۔وہ اپنی مخلوق سے بے حد پیارکرتاہے اور یہی وجہ ہے کہ انسانوں کے گناہ جب اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ زمین بھی چینخ اٹھتی ہے کہ اے بارالہ مجھے اجازت دے کہ میں پھٹ جاؤں اور اس باغی اور سرکش فردیاقوم کو اپنے اندر سمو لوں تو بھی اﷲتعالی کی برداشت آڑے آجاتی ہے اورحلم خداوندی کے باعث رسی مزید ڈھیلی کردی جاتی ہے تاکہ موت سے پہلے پہلے توبہ کے دروازے میں داخل ہونے کے امکانات باقی رہیں۔قرآن مجید میں صفت حلم یعنی برداشت کی صلاحیت کاذکر متعدد انبیاء علیھم السلام کے ساتھ بھی کیاہے۔

وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاہِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَہآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہ‘ٓ اَنَّہ‘ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ{۹:۱۱۴}ترجمہ:’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والدبزرگوار کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اس وعدے کی وجہ سے تھی جواس نے اپنے والد بزرگوارسے کیاتھا،مگر جب ان پر یہ بات کھل گئی کہ اس کاباپ خداکادشمن ہے تووہ اس سے بیزار ہوگئے،حق یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے خداترس اور صاحب برداشت آدمی تھے‘‘۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہی صفت برداشت کاایک اور مقام پر بھی قرآن نے ذکر کیا اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ{۱۱:۷۵} ترجمہ:بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے نرم دل،ا ﷲتعالی طرف رجوع کرنے والے اور صاحب برداشت انسان تھے‘‘۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اﷲتعالی نے ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی خوش خبری دی تو ساتھ کہا کہ وہ صاحب برداشت بیٹاہوگا
وَ قَالَ اِنِّی ذَاہِبٌ اِلٰی َ ربِّیْسَیَہْدِیْنِ{۳۷:۹۹} رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ{۳۷:۱۰۰} فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ{۳۷:۱۰۱} ترجمہ:حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتاہوں ،وہی میری راہنمائی کرے گا،اے پروردگارمجھے ایک بیٹاعطاکر جو صالحین میں سے ہو(اس دعاکے جواب میں)ہم نے اس کو ایک صاحب برداشت لڑکے کی خوش خبری دی‘‘۔حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم بھی انہیں برداشت والا کہاکرتی تھی۔

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُکَ تَاْمُرُکَ اَنْ نَّتْرُکَ مَا یَعْبُدُ اٰبٰآؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلْ فِیْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا اِنَّکَ لَاَ نْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ{۱۱:۸۷}ترجمہ:ان کی قوم نے کہااے شعیب علیہ السلام کیاتیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ داداکرتے تھے ،یایہ کہ ہم کو اپنے مال میں سے اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرنے کا اختیار نہ ہو،بس تو ہی ایک نیک اور صاحب برداشت آدمی بچ گیاہے۔‘‘

اورجملہ انبیاء علیھم السلام کی طرح خاتم النبیین ﷺکی تو کل حیاۃ طیبہ برداشت سے ہی عبارت ہے۔یتیمی سے شروع ہونے والی برداشت کی زندگی ،بس برداشت کی کٹھن سے کٹھن تروادیوں سے ہی ہو کر گزرتی رہی،کہیں رشتہ داروں کو برداشت کیاتو کہیں اہل قبیلہ کو،کہیں ابولہب جیسے پڑوسی کو برداشت کیاتوکہیں ابوجہل جیسے بدتمیزترین سردارکو برداشت کیااورطائف کی وادیوں میں تو برداشت کے سارے پیمانے ہی تنگ پڑگئے اور برداشت بذات خود اپنے ظرف کی وسعت لینے خدمت اقدس ﷺمیں حاضر ہوگئی۔محسن انسانیتﷺ کے مقدس ساتھیوں نے برداشت کو جس طرح اپنی ایمان افروز زندگیوں میں زندہ جاوید رکھااس سے سیرۃ و تاریخ کی کتب بھری پڑی ہیں،مکی زندگی میں کتنی ہی بار نوجوان اصحاب رسول خدمت اقدس ﷺمیں حاضر ہوئے کہ انہیں استعمارسے ٹکراکرلڑنے مرنے کی اجازر مرحمت فرمائی جائے ،لیکن ہربار برداشت کے دروس سے آگاہی کے ساتھ لوٹادیے گئے۔حضرت بلال رضی اﷲتعالی عنہ سے پوچھاجائے کہ امیہ بن خلف کو کیسے برداشت کیاجاتاہے اورآل یاسر سے کوئی تو دریافت کرے کہ ابوجہل کو برداشت کرنے کاکیامطلب ہوتاہے۔

مدینہ طیبہ کی اسلامی ریاست میں رئیس المنافقین عبداﷲبن ابی کوجس طرح برداشت کیاگیااس کی مثال شاید کل تاریخ انسانی میں نہ ملے ،اس سے بڑھ کر اور کیاہوسکتاہے کہ دیگرصحابہ کرام کے ساتھ ساتھ اس غدارملت کا سگابیٹابھی ایک بار تو اپنے باپ کے قتل اجازت لینے پہنچ گیالیکن یہاں پھر ’’حلم نبویﷺ‘‘یعنی محسن انسانیت ﷺکی قوت برداشت نے اپنا کام دکھایااورمزیدمہلت مل گئی۔برداشت ،علم نفسیات کا ایک اہم موضوع ہے۔ماہرین نفسیات کے مطابق اس دنیامیں وارد ہونے والا ہر فرد بالکل جدارویوں اور جداجداجذبات و احساسات و خیالات کا مالک ہوتاہے،اپنے جیسا ایک انسان سمجھتے ہوئے اسے اسکاجائزمقام دینا ’’برداشت‘‘کہلاتاہے۔اس تعریف کی تشریح میں یہ بات کھل کرکہی جاتی ہے کہ دوسرے کے مذہب،اسکی تہذیب اور اسکی شخصی وجمہوری آزادی کومانتے ہوئے اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا ’’برداشت‘‘ کے ذیلی موضوعات ہیں۔دیگرماہرین نفسیات نے ’’برداشت ‘‘کی ایک اورتعریف بھی کی ہے،ان کے مطابق’’دوسرے انسان کے اعمال،عقائد،اس کی جسمانی ظواہر،اسی قومیت اور تہذیب و تمدن کو تسلیم کرلینا برداشت کہلاتی ہے‘‘۔

برداشت کی بہت سی اقسام ہیں،ماہرین تعلیم برداشت کو تعلیم کا اہم موضوع سمجھتے ہیں،ماہرین طب برداشت کو میدان طب و علاج کا بہت بڑا تقاضاسمجھتے ہیں،اہل مذہب کے نزدیک برداشت ہی تمام آسمانی تعلیمات کا خلاصہ ہے جسے آفاقی صحیفوں میں ’’صبر‘‘سے موسوم کیاگیاہے اورماہرین بشریات کے نزدیک برداشت انسانی جذبات کے پیمائش کا بہترین اور قدرتی وفطری پیمانہ ہے۔ابتدامیں ’’برداشت‘‘کو سمجھنے کے لیے جانوروں پر تجربات کیے جاتے تھے اور پہلے انفرادی طور پر اور پھر جانوروں کے مختلف گروہ بناکران کی برداشت کے امتحانات لیے جاتے تھے ۔بعد میں اسی نوعیت کے تجربات تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات پر کیے جانے لگے اور پھر بالغ انسانوں پر بھی اس نوعیت کے تجربات کیے گئے لیکن غیر محسوس طور پر۔ان تجربات کے نتیجوں میں ’’برداشت‘‘کے مختلف پیمانے میسرآئے اور جذباتی اعتبار سے انسانوں کی تقسیم کی گئی ۔نتیجے کے طور ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ماحول کے اثرات کے طورپر انسانوں میں برداشت کامادہ پروان چڑھتاہے،وطنیت کا تعصب رکھنے والا اپنے وطن کے بارے کم تر برداشت کامالک ہوگالیکن اپنے حسب و نسب پرتنقیدوتنقیص برداشت کرلے گاجبکہ قومیت کے فخرمیں بھرے ہوئے شخص کی برداشت کا پیمانہ اس سے کلیۃ متضادہوگا۔

برداشت کے مقابلے میں متضادکے طور عدم برداشت کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔اس کامطلب ،ظاہر ہے،برداشت کے الٹ ہے کہ برداشت نہ کرنا یا برداشت نہ کرسکنا۔انسانی رویوں میں بعض اوقات جب مدمقابل کے رویے سے مفاہمت ممکن نہ رہے تو عدم برداشت جنم لیتی ہے۔مدمقابل انسان یا غیرانسان کچھ بھی ہوسکتاہے۔ماہرین نفسیات کے نزدیک اور یہ عدم برداشت ارادی طورپربھی ہو سکتی ہے اور غیرارادی طور پر بھی ہوتی ہے۔مثلاََانسان ایک حد تک موسم کو برداشت کرتاہے لیکن جب حد گزرجائے تو موسم کی عدم برداشت انسان کوبیماری سے موت تک لے جاسکتی ہے۔پانی میں ڈوبتاہواانسان اپنے جسمانی قوی کے برداشت کی حد تک اپنی بقاکی جنگ لڑتاہے۔اسی طرح بھوک،پیاس ،ننگ اور دیگر معاشرتی محرومیاں بھی انسان کی برداشت سے باہر ہو کر جب عدم برداشت کاروپ دھارلیتی ہیں تو چوری، ڈکیتی،قتل و غارت گری اور بعض اوقات بڑے بڑے سانحات وانقلابات جنم لیتے ہیں۔انفرادی عدم برداشت جمع ہوتے ہوتے اجتماعی عدم برداشت بن جاتی ہے اور ایک فردکو جذبہ انتقام پر مجبور کرنے کے بعد یہ عدم برداشت طبقاتی جنگ کی شکل میںانسانی تاریخ میں جنم لیتی رہی ہے۔عدم برداشت کے نتیجے میں جہاں دوافرادگتھم گتھاہوتے ہیں وہاں دوقوموں کے درمیان بھی میدان کارزارگرم ہوجاتاہے۔

جب کہ نظریات کے درمیان تناؤتو روزازل سے تاابد جاری رہے گا۔برداشت اورعدم برداشت کے درمیان کوئی حدفاصل کھینچنا مطلقاََناممکن ہے۔ہردوطرح کے معاملات کے درمیان حدفاصل کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔کہیں محبت ناقابل برداشت ہو جاتی ہے تو کہیں نفرت کاانجام عدم برداشت کی صورت میں نکلتاہے،کہیں آسودگی اور راحت اورصحت و شفایابی برداشت نہیں ہوتی تو کہیں عسرت،پریشانی اورمرض کی شدت برداشت کے سارے بندھن توڑ دیتے ہیںاور کہیں یہ آسمان شادی مرگ کامشاہدہ کرتاہے تو کہیں برستی اکھیاں کاسیلاب زمانے بھر کے بند توڑ کردنیائے انسانیت کوعدم برداشت کے دشت میں لے بھٹکاتاہے ۔عالم انسانیت کو برداشت کا بہت بڑادرس مذہب سے ملاہے۔انبیاء علیھم السلام اورآسمانی کتب نے عقیدہ آخرت کے پس منظر میں جو نظام عمل پیش کیاہے اس میں برداشت کاسبق بہت اہم ہے۔عقیدہ آخرت کا خلاصہ یہ ہے کہ نیکی اوربدی کابدلہ صرف اللہ تعالی ہی دے گا۔پس یہی برداشت کا سب بڑادرس ہے کہ آخری عدالت تک تمام معاملات کواللہ تعالی کے سپرد کر کے خود برداشت کاخوگربنے رہنا۔انبیاء علیھم السلام نے اپنے سگے رشتہ داروں کے رویوں کوبھی فی سبیل اللہ برداشت کیایا معاف ہی کردیا۔مذہب کی تعلیمات کے مطابق جب بدلہ،اجروثواب،صلہ اورجزاوسزاسب کچھ اللہ تعالی کے دست قدرت میں ہے تو اسی ذات باری تعالی پر بھروسہ کرتے ہوئے برداشت کی عادت ڈالنااہل عزیمت کاہمیشہ سے شیوہ رہاہے۔

اہل مذہب نے انسانی برداشت کی وہ مثالیں قائم کی ہیںیہ آسمان بھی اس ششدرہے۔خاص طورپر صوفیائے کرام کے دروازے کل انسانیت کے لیے بلاتفریق رنگ و نسل و مذہب صباح و مساء کھلے رہتے تھے۔تاہم برداشت کی ایک حد تو مذہب بھی مقررکرتاہے۔انفرادی و اجتماعی معاملات میں جب برداشت کی حد گزر جائے تو جہاد اور قتال جیسے اسباق بھی مذہب سے ہی انسانیت کو مرحمت ہوئے ہیں۔یہ اس لیے کہ دنیامیں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیںجن میں سے ایک زبان پیارکی زبان ہے ،جب تک پیارکی زبان اثرکرتی رہے تو یہ برداشت کی زبان ہے۔انسانوں میں سے کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو پیارکی زبان نہیں سمجھتے۔ان سے جب پیار اورمحبت کی زبان میں بات کی جائے تووہ اس کو کمزوری پر محمول کرتے ہیں اور سرپر جوتوں کی بارش کر دیتے ہیں۔یہاں مذہب کی برداشت بھی ختم شدہوجاتی ہے اورآسمانی صحیفہ ایسے طاغوت سے طاقت کی زبان سے گفتگوکرنے کا حکم صادرکرتاہے۔لیکن طاقت کی زبان صرف فسادکے خاتمے تک ہے،ذاتی عناد،وسعت سلطنت یاحرص و ہوس وغیرہ کے لیے طاقت کااستعمال مذہب کے ہاںمطلقاََناقابل برداشت ہے۔اپنی قومیت کے لیے ،نسلی اورلسانی مخاصمات کے لیے یاعلاقائی وفرقہ ورانہ اختلاقات کے نام پریاپھر معاشی مفادات کے تحفظ کی خاطر انسانیت کے نام نہادعنوان سے عدم برداشت کے میدان گرم کرنااور انسانی کشتوں کے پشتے لگانا سیکولرازم کی خون آشام روایات ہیں۔اس وقت سیکولرازم کے ہاتھوں انسانیت بدترین عدم برداشت کا شکار ہے۔

صنعتی انقلاب کے بعد سے سیکولرازم نے پاؤں کی ٹھوکروں سے مذہب کو ریاستی واجتماعی ومعاشرتی اداروں سے دیس نکالادیااور جیسے جیسے مذہب سے انسانی بستیاں خالی ہوتی گئیں توگویا برداشت کامادہ بھی انسانوں کے ہاں سے رخصت ہوتاچلاگیااور انقلابات کے عنوان سے لاکھوں انسانوں کی قتل وغارت گری کے بعد سیکولرازم نے انسانیت کو دوایسے عالمی جھگڑوں میں جھونک ڈالاجس کاخونین مشاہدہ اس سے پہلے کے مورخ نے کبھی نہیں کیاتھا۔صد افسوس کہ عالمی جنگوں میں آبشاروں کی طرح بہنے والا انسانی خون بھی سیکولرازم کی پیاس نہ بجھاسکااورپردہ اسکرین پر ابھرنے والے عکسی کھیلوں کے نام پر ’’ماردھاڑ سسپنس اور ایکشن سے بھرپور‘‘کہانیاں اوربرداشت سے کلیۃ عاری کردار’’ہیرو‘‘بناکرسیکولرممالک سے دوسری اور تیسری دنیاؤں میں برآمدکیے گئے۔

ننگ نسوانیت و ننگ انسانیت سیکولرازم کا عدم برداشت کا شرمناک کھیل آج فلمی دنیاسے نکل کر نام نہاد مہذب ترین ممالک کے ایوان ہائے اقتدارمیں نظر آرہا ہے جہاں حرص و حوس کے سیکولرپجاری سرمایادارانہ سودی معیشیت کے تحفظ کے لیے ذرائع ابلاغ پر کذب و نفاق کے سہارے فصلوں اور نسلوںکی قتل و غارت گری کے عالمی منصوبے بناتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ دنیاکی آنکھوں میں قیام امن وحقوق انسانی نام پر دھول جھونک کر اپنی عدم برداشت کو برداشت کے جھوٹے پہناوے پہنا سکیں گے۔حالات کی بدلتی کروٹ کابغورمشاہدہ کرنے کے بعد سیکولرذہن نے بڑی چابکدستی سے اپنی عدم برداشت کاکیاچٹھا سب کچھ مذہب کے کھاتے میں ڈالنے کی بہت بھونڈی سی کوشش کی ہے۔ابلاغیات کے بے پناہ استعمال کے باوجود دنیاکا معتدل اوراکثریتی ذہن اب مذہب جیسے مقدس ورثے کے خلاف اس جھوٹ کوقبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

تقدیس مذہب پر کوئی سمجھوتہ ہوا اور نہ ہی ہو گاکہ مذہب کی ادارے سے انسانیت کو ہمیشہ ٹھنڈی ہواکے جھونکے ہی میسرآئے ہیں ۔اقوام متحدہ جیسے دیگرعالمی اداروں کوبھی اپنے سیاسی و عسکری عدم برداشت کا آلہ کار بناکرمذہب کے خلاف استعمال کرنے کاوطیرہ بھی اب دنیاکے سامنے اپنے حقائق سمیت آشکارہوچکاہے۔حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ صدی کے اختتام سے قبل ہی امت مسلمہ کے مایہ ناز سپوتوں کے قلم سے سیکولرمغربی تہذیب علمی میدان میں پسپائی سے دوچار ہوچکی تھی اور اب دنیابھرمیں وحشت و درندگی کا خون آشام کھیل کھیلنے والی سیکولرافواج اپنے نظریے کو ہمیشہ کی نیند سلانے کے لیے بڑی تندہی سے سرگرم عمل ہیںاور کرہ ارض کے کل باسیوں کا مستقبل بلآخر آفاقی نوشتوں سے ہی وابسطہ ہے،انشاء اﷲ تعالی۔