واضح کرو کہ اصلی ہو یا نسلی -حبیب الرحمن

جب سے کرتارپور راہداری کھلی ہے سوشل میڈیا پر ایک اور بحث کا اضافہ ہو گیا ہے۔ وہ تمام لوگ جو اس راہداری پر بہت خوش ہیں، وہ اس راہداری کے کھل جانے کو پاکستان کی ترقی کیلئے ایک بہت بڑا سنگِ میل بلکہ سونے کا پہاڑ قرار دے رہے اور جو اس کے مخالفین ہیں وہ جن جن خدشات و خطرات کا اظہار کر رہے ہیں ان کو سامنے رکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ اس راہداری کا کھل جانا ایسا ہی ہے جیسے یاجوج ماجوج کے حملوں سے بچنے کیلئے جو دیوار تعمیر کی گئی تھی اس کا گرجانا۔

معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو ملکوں اور ملکوں کے درمیان آنے جانے کی جتنی بھی آزادی دی جائے اس سے ہر دو فریق نفع میں ہی رہتے ہیں۔ دو طرفہ تجارت فروغ پاتی ہے، دوریاں کم ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کی تہذیب کو سمجھنے کا موقع ملنے کی وجہ سے دشمنیوں میں کمی اور محبتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ دیواریں جو غلط فہمیوں کی بنیاد پر یا علاقائی مفادات کی خاطر مقامی بنیادوں پر پھیلائے جانے والے پرپیگنڈوں کے نتیجے میں کھڑی کی جاتی ہیں، وہ سب کی سب منہدم ہوجاتی ہیں اور کئی معاشرے تمام تر مذہبی، علاقائی، نسلی اور لسانی تفریق رکھنے کے باوجود ایک دوسرے ازدواجی تعلقات تک استوار کرتے نظر آنے لگتے ہیں۔

دنیا کو چھوڑ کر اگر ہم اپنے پاکستان کا جائزہ لیں تب بھی ہم اس بات کو بہت آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں۔ ہم اگر ماضی پر نظر ڈالیں تو اس پاکستان میں ایسی تفریق بہت شدت کے ساتھ موجود تھی جبکہ پاکستان کی بہت ہی واضح اکثریت مسلمانوں کی ہی ہے لیکن صوبائی، علاقائی، لسانی اور نسلی دوریاں جو کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی تھیں اب وہ اس حد تک نہیں پائی جاتیں جو کبھی ہوا کرتی تھیں۔ شاہراہوں اور سفری سہولتوں نے بہت ساری تہذیبوں کو آپس میں ایک دوسرے کو قریب کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں آنے جانے اور ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں سفر کرنے، بازاروں اور تفریح گاہوں میں گھومنے پھرنے اور تجارتی لین دین کرنے کی وجہ سے مقامی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط فہمیاں بڑی حد تک دم توڑ چکی ہیں اور ایک دوسرے کے دل کشادہ ہوئے ہیں۔

ان سارے تجزیوں کے باوجود بھی کرتار پور راہداری کا کھل جانا ان پیرایوں میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دوتہذیبوں کو آپس میں ملانے یا ان میں قربتیں بڑھانے کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ یہ فعل ایسا ہی ہے جیسے ان سانپوں اور بچھوؤں کے بلوں کو کھول دیا جائے جو زخمی ہوں۔ زحمی سانپ اور گھائل موزی جس درندگی کے ساتھ پلٹ کر حملہ کرتے ہیں اس کا تصور نیولے اور گلہریاں بھی نہیں کر سکتیں۔ ویسے تو یہ سارے کے سارے موزی وہ ہیں جو زخمی ہونے سے پہلے کئی صدیوں سے مسلمانوں کو ڈستے رہے ہیں اور لاکھوں مسلمانوں کا لہو چاٹتے رہے ہیں بلکہ تقسیم کے بعد بھی کوئی سوراخ ایسا نہیں چھوڑا جہاں سے یہ اپنے پھن باہر نکال کر مسلسل اپنے ملک میں بسنے والے مسلمانوں اور پاکستان کے مسلمانوں کو نہ ڈستے رہے ہوں لیکن صد افسوس کہ ہم ہمیشہ اپنے اوپر لگنے والے زخموں کو بھول کر اپنا جسم ان کو ڈسنے کیلئے پیش کرتے رہے ہیں اور ان کے دیئے گئے زہر کو تریاق ہی سمجھنے میں لگے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تعزیر کا کوڑا عثمان بزدار کی پشت پر کیوں - آصف محمود

1971 شاید ہم بھول چکے ہیں جب ان ہی موزیوں نے پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی اور خطہ زمین کو ڈسا تھا۔ یہی نہیں بلکہ 93 ہزار فوجی جوانوں کی کھالیں تک نوچ ڈالی تھیں۔ اس سے پہلے 1965 میں انھوں نے رات کی تاریکی میں پاکستان کی مغربی سرحدوں پر حملہ کیا تھا اور سیالکوٹ کے میدان میں دنیا میں ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ چھیڑی تھی۔ اُس سے بھی پہلے اکتوبر 1947 میں مسلمانوں کی آزاد ریاست "کشمیر" پر فوج کشی کرکے آدھے سے کہیں زیادہ کشمیر پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور اس سے بھی پہلے 1947 ہی میں وہ مسلم ریاستیں جو پاکستان کا حصہ بنادی گئیں تھیں جن میں حیدرآباد دکن اور موناباؤ اور جوناکڑھ شامل تھیں، ان پر فوج کشی کرکے وہاں رہنے والے سارے مسلمانوں کو بزور شمشیر ڈس لیا گیا تھا۔ وہ کشمیر جو پاکستان کے زیر اثر ہے اس پر 1947 سے لیکر تادم تحریراپنے پھنوں اور ڈنگوں سے ڈستے رہتے ہیں اور جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں معصوم شہری اور سیکڑوں فوجی جوان شہید ہو چکے ہیں۔

حال ہی میں وہ کشمیر جو بھارت کے زیر تسلط تھا اس میں مسلمانوں کے لہو سے مسلسل ہولی کھیلی جا رہی ہے اور خواتین کی عزت و عصمت کو سر عام ڈسا جارہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو تہذیبیں سیکڑوں برسوں ساتھ رہنے کے باوجود بھی ایک نہ ہوسکیں، آپس میں شیر و شکر نہ بن سکیں، ان تہذیبوں کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ کرتارپور راہداری کھل جانے اور آنے جانے کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب آجائیں گی نہ صرف دیوانے کا خواب ہے بلکہ یہ یہاں کے مسلمانوں اور افواج پاکستان کی عزت و غیرت کا بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ جس قوم نے پاکستان کی آدھے سے زیادہ آبادی اور کشمیریوں کو ترغمال کر رکھا ہو اور مسلم دنیا کی سب سے طاقتور افواج کے ہزاروں جوانوں کو قیدی بنایا ہو، ان کے جنرلز کو بے عزت کیا ہو اور ان کے ساتھ قید میں بھی بہیمانہ سلوک کیا ہو، کیا ان میں کسی بھی قسم کی غیرت و حمیت موجود نہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک تجزیہ یہ بھی پیش کیا جارہا ہے کہ افتتاح کے موقع پر 10 ہزار یاتریوں کا آنا، اور پھر ہر روز 5 ہزار یاتریوں کے آنے سے پاکستان کو فی کس 20 ڈالرز اور ان کی یہاں آکر خریداری کرنے کی وجہ سے اوسطاً 30 ڈالز کی آمدنی ہو سکے گی جس کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ کئی لاکھ ڈالرز حاصل ہو سکیں گے۔ ان کا یہ تجزیہ بہر لحاظ درست اور پاکستان کیلئے سود مند ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان سیاحوں کیلئے جنت ہے اور اگر سیاحوں کو رعایات دی جائیں، بین الاقوامی معیار کی سہولتیں میسر ہوں اور امن و امان کی صورت حال مثالی ہو تو پاکستان میں آکر سیاحت کرنے والوں کا ایک تانتا بندھ جائے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہے کہ اگر صرف سکھوں کے آنے جانے سے ہماری سالانا آمدنی کروڑوں ڈالزر ہوسکتی ہے تو پھر وہی ساری سہولتیں جو سکھوں کو آنے جانے کیلئے دی جارہی ہیں، ہندوستان میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کو کیوں نہیں دی جاسکتیں۔ سکھوں سے کہیں زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے اور ان کی زیارتوں سے کہیں زیادہ ایسی عبادت گاہیں، خانقاہیں اور مزارات پاکستان میں موجود ہیں جن کا دیدار کرنے کیلئے وہاں کے مسلمان پاکستان آنا جانا چاہتے ہیں۔ اگر 5 کلو میٹر دوری کا فائدہ اٹھا کر پاکستان سکھوں سے 20 ڈالرزکما سکتا ہے تو 100 کلومیٹر یا اس سے کچھ دور واقع تاریخی مقامات، مساجد، پیروں کی در گاہوں اور خانقاہوں کیلئے آنے والے مسلمانوں سے پاکستان کم از کم فی کس 100 ڈالرز کما سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خوشگوار ازدواجی زندگی کے دعویدار - محمودفیاض

اگر دولت کمانا ہی مقصود نظر ہو لیکن اس کو حاصل کرنے کے طریقہ کار پر ہماری نظر نہ ہو، اس کے جائز، ناجائز ہونے کا ہمیں کوئی خیال نہ ہو اور حلال و حرام ہماری نگاہ میں کوئی اہمیت نہ رکھتا ہو تو پھر اس کے تو اور بھی بیشمار راستے ہیں۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جہاں کی زمین میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ لاکھوں ایکڑ میں پوسٹ پیدا کر سکتی ہے۔ پوسٹ کی پھٹی جہاں ٹنوں خشخاش پیدا کر سکتی ہے وہیں ان کے ڈھوڈوں سے ایسا مادہ حاصل کیا جاسکتا ہے جس سے چرس اور ہیروئیں بنائی جاسکتی ہے۔ بھنگ وہ بوٹی ہے جو خودرو ہے اور ٹنوں کے حساب سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کو کاشت کرنے میں ایک دھیلہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ یہ دو چیزیں ایسی ہیں جس سے قیمتی شاید ہی کوئی اور پیداوار ہو۔ یہ ہم دنیا میں اس لئے فروخت یا اسمگل نہیں کرنا چاہتے کہ یہ انسانوں اور انسانیت کی دشمن پیدا وار ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن اقوام نے ان کی تجارت کو اس لئے حرام قرار دیکر پابندی لگائی ہے کہ یہ انسانوں کی ہلاکت سبب بنتی ہے تو کیا کسی نے ان سے یہ پوچھا کہ وہ ساری اقوام کتنی انسان دوست اور انسانیت کی ہمدرد ہیں۔ جب دولت کا حصول ہی مقصود ہوتو پھر وہ کونسا گھر ہے جہان بہو بیٹیاں موجود نہیں۔ جب اپنی "ماں دھرتی"، اپنی خواتین، اپنے دین،اپنے مذہب، اپنی اقدار اور اپنی عزت و آبرو کو چند ڈالروں کے عوض بیچا جاسکتا ہے تو پھر کیا ضروری ہے کہ گھروں کے دروازے بند رکھے جائیں۔

کرتار پور کی راہداری کھولنے سے پہلے جسموں پر لگنے والے مسلسل زخموں کا خیال تو کر لیا ہوتا۔ 1947 کے شہیدوں اور خواتین کی لتتی ہوئی عزتوں کی جانب نظر ڈال لی ہوتی، کشمیر پر قبضے کو دیکھ لیا ہوتا، حیدرآباد دکن اور جوناگڑھ میں تڑپتے لاشوں کو تصور میں لے لیا ہوتا۔ 1965 کی بلاجواز جنگ کے نقصانات کا حساب لگا لیا ہوتا۔ 1971 میں بنگالی مسلمانوں کے بہتے لہو کا سوچ لیا ہوتا۔ 93 ہزار فوجیوں کا گرفتار ہونا یاد کر لیا ہوتا اور اب کشمیر میں بلند ہوتی، آہیں، سسکیاں اور کراہیں سن لی ہوتیں تو یہ آنے والے چند ڈالرز خون میں ڈوبے ہوئے دکھائی دے رہے ہوتے اور تم ایسی آمدنی پر لعنت بھیج رہے ہوتے۔

حکمرانو! نوٹوں کے غلام مت بنو، کسی بین الاقوامی دباؤ کا شکار ہو تو عوام کے سامنے صورت حال رکھو، قوم کا سودامت کرو۔ یاد رکھو مسلمانوں کی شان بت شکنی میں ہے بت فروشی میں نہیں۔ اگر تم مسلمان ہو تو راہداری کے ذریعے ہونے والی آمدنی پر لعنت بھیجو ورنہ اعتراف کرو کہ تم حقیقت میں "نسلی" ہو "اصلی" نہیں۔