سیاسی قیدی - جنید احمد خان

سزائے زنداں کاٹنے والا کوئی بھی قیدی ایک عام انسان ہی ہوتا ہے، اور اس کے اتنے ہی بنیادی انسانی حقوق ہوتے ہیں جو ایک عام شہری کو حاصل ہیں، کیونکہ اس کی سزا وہی قیدوبند، اپنوں سے دوری اور آزادانہ سرگرمیوں سے محرومی ہوتی ہے ۔ ترقی یافتہ معاشروں میں ان پر بہت محنت کی جاتی ہے اور ان کو ایسا مثبت ماحول فراہم کیا جاتا ہے کہ وہ قید کی سزا کاٹنے کے بعد کارآمد شہری بن جاتے ہیں .

ترقی پذیر ممالک میں گو کہ حالات ناگفتہ بہ ہیں لیکن پھر بھی آئین ان کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے جن میں صاف ستھرا ماحول، معیاری رہائش اور سب سے بڑھ کر صحت کی سہولیات سرفہرست ہیں ۔کسی بھی قید خانے میں موجود جیل سپرنٹنڈنٹ انہی حقوق کو قیدیوں کے دسترس میں رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ اگر دوران قید کسی قیدی کو بیماری لاحق ہو جاتی ہے اور اس کو مطلوبہ طبی سہولت جیل کے اندر یا باہر کسی ہسپتال میں نہ پہنچائی جائے تو بلاشبہ اس کا ذمہ دار جیل سپرنٹنڈنٹ ہوتا ہے اس لئے جیل سپرنٹنڈنٹ ان حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنے فرائض منصبی سے غفلت نہیں برتتا ۔اب دیکھتے ہیں سیاسی قیدیوں کا معاملہ؛ تو ان کے بھی اتنے ہی بنیادی حقوق ہیں جو ایک عام شہری کو حاصل ہیں ۔ Pakistan Prison Rule 1978 کے مطابق ان کو اے A یا بیB کلاس فراہم کیا جاتا ہے جس میں کتابیں پڑھنا، ایک عدد 21 اکیس انچ ٹی وی اور اخبارات پڑھنے کی سہولیات شامل ہیں اور ان سب کے اخراجات بزمہ قیدی ہوتے ہیں جو کہ اخلاقی اور قانونی طور پر ایک درست عمل ہے۔ مندرجہ حقائق کی روشنی میں کسی بھی عام یا سیاسی قیدی کو دوران حراست یا قید طبی سہولیات سے محروم رکھنا، چاہے وہ جیل کے اندر یا باہر کسی ہسپتال میں پہنچانا مقصود ہو؛ ان سب صورتوں میں مجرمانہ غفلت کے ذمرے میں آتا ہے۔

اسی طرح کسی قیدی کا گھر کا کھانا بند کردینا اور زبردستی اسے قید کا کھانا کھلانا بھی ایک غیر اخلاقی اور غیر قانونی امر ہے۔ اور پھر جو قیدی ضعیف العمر ہو یا ان کو دائمی بیماریاں جیسے عارضہ قلب، ذیابیطس وغیرہ لاحق ہو ان کی حالت صحت مزید دیکھ بھال کا تقاضا کرتی ہے۔راقم ناچیز کا مشاہدہ ہے کہ بعض ارباب اختیار سیاسی قیدیوں کا معاملہ اٹھا کرسوال کرتے نظر آتے ہیں کہ کیا سیاسی قیدیوں کو میسر سہولیات عام قیدیوں کو بھی حاصل ہیں؟ جس کا سادہ جواب یہی ہے کہ آئیں و قانون کی رو سے بالکل حاصل ہونے چاہئے اگر نہیں تو وہ ہی مقتدر ہیں وہ ہی اس حق تلفی میں عوام کی عدالت میں جواب دہ ہیں نہ کہ سیاسی انتقام کے آڑ میں کسی سیاسی قیدی کے حقوق تلف کر کے غیر انسانی و غیر قانونی روش اپنا کر۔