آثار قدیمہ کا مندر اور زندہ کشمیری - عظمیٰ فاروق

چھوٹے بچوں کی گھر میں موجودگی اس بات کی علامت ھے کہ گھرمیں تفریحی فراہم کرنے والا واحد میڈیم یعنی ٹی وی پر ان کی اجارہ داری ھوگی دوسری طرف میاں جی کو صبح اٹھتے ہی حالات حاضرہ سے آگاہی کے لئے خبریں مطلوب ھوتی ھیں جس کا فوری زریعہ بھی ٹی وی ہی ھے آج صبح جو کہ ہفتے کی صبح تھی چھٹی کے باعث چھوٹے بیٹے کے ہاتھ میں ریموٹ تھا اور کارٹون دیکھے جا رہے تھے کمرے میں داخل ہوتے ہی بیٹے کو آنکھیں دیکھاتے ھوئے نیوز لگانے کو کہا جو با دل نخواستہ لگا دی گئیں.

اس وقت جو خبر ٹی وی پر نشر ھو رھی تھی اس کو سنتے ہی ناشتے کا دستر خوان لگا تا میرا ہاتھ تھم گیا اور میری پوری توجہ ٹی وی اسکرین کی طرف ھو گئی اور دل زور زور سے دھڑکنے لگا بھارت کی عدالت میں بابری مسجد کا فیصلہ سنایا جانا تھا جس کی کاروائی کے دوران کچھ ایویڈنس کو قبول کر لیا گیا تھا قبول کئے جانے والے ایویڈنس آثار قدیمہ کی وہ رپوٹ تھی جس کے مطابق بابری مسجد جس زمین پر بنائی گئی تھی اس کے زیر زمین کبھی کوئی مندر موجود تھا اور۔ ساتھ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ اس جگہ مسجد موجود تھی فیصلہ آنے والا تھا اور ہمیں بھی با خوبی اندازہ تھا کہ فیصلہ کیا آ نا ھے اس فیصلے کا سوچ کر ہی دل خون کے آ نسو رورہا تھا اور ایک درد تھا جو اندر تک اتر رہا تھا اور پھر فیصلہ آ گیا بابری مسجد کے مقام پر دوبارہ مندر تعمیر کیا جائے گا سوچنے کا مقام یہ ھے جس ملک میں آثار قدیمہ کی رپوٹ پر فیصلہ سنائے جاتے ھیں انھیں زندہ کشمیری نظر نہی آ تے جو زندہ گواہی ھیں کہ وہ بھارت کا حصہ نہ تھے اور نہ بننا چاھتے ھیں اور اس سے بھی آ گے بڑھ کر غیروں کا کیا ! گلہ تو اپنوں سے ھے آ ج کی دنیا جہاں لوگ اپنے آثار قدیمہ کے تحفظ کے لئے اتنے حساس اتنے مشتعل اتنے سرگرم ھیں مگر ہم زندہ کشمیریوں کے لئے شاید خود مرے ھوئے ھیں اسی لئے کچھ نہی کر پا رہے ھیں ورنہ زندہ لوگ تو اتنے بے حسی اور بے بس نہی ھوتے