تکبر اور عزیمت: آمنے سامنے- خورشید ندیم

تکبر اور عزیمت ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں۔ دیکھیے، اس معرکے کا فاتح کون ہے؟
اقتدار بھی کیا چیز ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ وہ خدا ہے۔ وہ گمان کرتا ہے کہ زندگی اور موت اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔
خدا کے آخری الہام نے نمرود اور سیدنا ابراہیمؑ کا ایک مکالمہ نقل کیا ہے ''کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں حجت کرنا چاہی، اس لیے کہ اللہ نے اسے اقتدار عطا فرمایا تھا؟

اس وقت جب ابراہیم نے اس سے کہا کہ میرا پروردگار تو وہ ہے جو مارتا اور جِلاتا ہے۔ اس نے جواب دیا، میں بھی مارتا اور جِلاتا ہوں۔ ابراہیم نے فوراً کہا: اچھا تو یوں ہے کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم ذرا اسے مغرب سے نکال لاؤ۔ (یہ سن کر) وہ منکرِ خدا بالکل حیران رہ گیا۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) اس طرح کے ظالموں کو اللہ کبھی ہدایت نہیں دیتا‘‘ (البقرہ:258)
نواز شریف کا معاملہ بہت سادہ ہے۔ پاکستان میں ان کی بیماری کی تشخیص ممکن ہے نہ علاج۔ حکومت خود اس کا اعتراف کر رہی ہے۔ عدالت بھی اسی بنیاد پر ضمانت دے چکی۔ حکومت یہ اختیار رکھتی ہے کہ انہیں ملک سے باہر جانے دے۔ اس قصے میں کوئی ابہام نہیں۔ اس کے باوجود معاملے کو التوا کی نذر کر دیا گیا۔ اس تاخیر کے سیاسی مضمرات سے بے خبری ایک طرف، کیا یہ اقتدار کے تکبر کے علاوہ بھی کچھ ہے جو نواز شریف کے سفر میں مزاحم ہے؟
وزرا نے جو استدلال تراشا ہے، وہ ایسا مضحکہ خیز ہے کہ عقل کی اس کم مائیگی پر صرف ماتم کیا جا سکتا ہے۔ ''نواز شریف ایک قیدی ہے۔ اگر انہیں یہ سہولت میسر ہے تو دوسروں کو کیوں نہیں؟... عمران خان ایک پاکستان بنائیں گے، دو نہیں‘‘۔ یہ اس سارے مقدمے کا خلاصہ ہے۔ پہلے نکتے پہ ذرا غور کیجیے! دوسرے قیدیوں کو سہولت دینا کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کی ذمہ داری بھی تو حکومت پر ہے۔ آپ ان کو یہ سہولت دیں، کون آپ کا ہاتھ پکڑ رہا ہے؟

اب آئیے 'ایک پاکستان‘ کی طرف۔ سیاست میں اس سے بڑا دھوکہ آج تک ایجاد نہیں ہوا۔ مساوات کا یہ تصور انسانی سماج میں کبھی حقیقت بنا ہے، نہ بن سکتا ہے۔ آج عمران خان صاحب کے حفاظت پر سینکڑوں لوگ مامور ہیں۔ بنی گالہ کے گھر پر سرکاری خزانے سے خصوصی باڑ لگائی گئی ہے۔ آخر کیوں؟ یہ سہولت ایک عام پاکستانی کو کیوں میسر نہیں؟ کیا عمران خان صاحب کی جان ایک عام پاکستانی کی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟

فواد چوہدری صاحب اور فیصل واوڈا صاحب کو سرکاری گاڑی، دفتر، گھر، معلوم نہیں کیا کچھ ملا ہے۔ ایک عام پاکستانی کو یہ کیوں نہیں ملتا؟ اگر نہیں ملتا اور یقیناً نہیں ملتا تو پھر یہ ایک پاکستان ہے یا دو؟ جسٹس ثاقب نثار صاحب جیسے جج صاحبان کی پینشن لاکھوں میں ہے اور ان کو تعلیم دینے والے استاد کی پینشن چند ہزار۔ آخر یہاں دو پاکستان کیوں ہیں، ایک کیوں نہیں؟ آج ایک عام سرکاری اہل کار اور سیکرٹری صاحب کی تنخواہ یکساں کیوں نہیں ہے؟
ہم سب کے پاس ان سوالات کے جواب موجود ہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ سوال غیر حقیقی اور بے معنی ہیں۔ اگر عمران خان صاحب کی حفاظت پر سینکڑوں لوگ تعینات ہیں تو یہ کسی فردِ واحد نہیں بلکہ ایک منصب کی حفاظت کا اہتمام ہے اور یہ ریاست کی ضرورت ہے۔ کل اگر وہ اس منصب پر نہیں رہیں گے تو اس حفاظتی حصار سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ اسی پر قیاس کیجیے تو دیگر سوالوں کے جواب بھی مل جائیں گے۔

سماج کا معاملہ بھی یہی ہوتا کہ اس میں سب برابر نہیں ہوتے۔ اگر کسی فرد کو سیاسی یا مذہبی عصبیت حاصل ہو جائے تو پھر اس کا معاملہ ریاستی منصب پر فائز کسی آدمی کی طرح خاص ہو جاتا ہے۔ اگر اس کی جان کو کوئی خطرہ لاحق ہو جائے تو یہ کئی جانوں کو خطرات میں مبتلا کر سکتا ہے۔ لہٰذا ایسی بہت سے جانوں کو بچانے کے لیے اس ایک جان کو بچانا لازم ہو جاتا ہے۔ یہی نہیں، ایسے لوگوں کے ساتھ ملکوں کا جغرافیہ اور مستقبل جڑا ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی حادثے کا شکار ہو جائیں یا ان کے بارے میں یہ تاثر پھیل جائے کہ کوئی ان کی جان کے درپے ہے تو دنیا کا جغرافیہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں دانش اور بصیرت رکھنے والوں کا اقتدار ہوتا ہے، وہ ملک اور قوم کو متحد رکھنے کے لیے ایسے لوگوں کی جان کو خاص طور پر تحفظ دیتے ہیں۔ قانون پر عمل داری اس سے مختلف عمل ہے جس کو الگ سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس بات کا تعلق عقلِ عام سے بھی ہے۔ جو آدمی ریاست کے نظام کو سرسری طور پر بھی جانتا ہے وہ اس بات کو سمجھ سکتا ہے۔ ایک اے سی کو معلوم ہوتا ہے کہ ایک تحصیل میں کون لوگ ہیں جنہیں سیاسی یا مذہبی حوالے سے خاص حیثیت حاصل ہے۔ وہ علاقے میں امن کے قیام کے لیے ان کی حفاظت کا خاص خیال رکھا ہے۔ اس سوچ سے دو طرح کے لوگ عاری ہو سکتے ہیں۔ ایک ریاستی ڈھانچے اور سیاسی حرکیات سے نا واقف اور دوسرے متکبر۔

جو لوگ نواز شریف صاحب کو سخت نا پسند کرتے ہیں، ان میں گجرات کے چوہدری نمایاں تر ہیں لیکن وہ سیاسی حرکیات سے واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ نواز شریف کو سیاسی عصبیت حاصل ہے۔ اسی لیے وہ دُھائی دے رہے کہ ان کی صحت کے ساتھ حکومتی سطح پر کھلواڑ نہ کیا جائے۔ اگر خدا نہ کرے، انہیں کچھ ہوا تو اس کے نتائج پر قابو پانا خود حکومت کے بس کی بات نہیں ہو گی۔

اس وقت نواز شریف صاحب کے باہر جانے کو جس طرح مشروط کیا جا رہا ہے، یہ اقتدار کے تکبر کا اظہار ہے۔ پس پردہ یہ زعم بول رہا ہے کہ زندگی اور موت اب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اس تکبر کا سامنا کوئی صاحبِ عزیمت ہی کر سکتا ہے۔ نواز شریف کے پاس رخصت کا راستہ موجود ہے۔ وہ مشروط آزادی کو بھی قبول کر سکتے ہیں کہ علاج ان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس وقت لیکن انہیں عزیمت کا راستہ ہی زیبا ہے۔زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ علاج کی کوشش انسان کو کرنی چاہیے کہ اس کا تعلق تدبیر سے ہے۔ نواز شریف نے ہر ممکن تدبیر کر لی۔ اب ان کا معاملہ گوشت پوست کے عام انسانوں سے نہیں، زمین کے خداؤں سے ہے۔ اس مرحلے پر انہیں زمین و آسمان کے حقیقی خدا کی طرف دیکھنا چاہیے۔ وہی جو ابراہیمؑ کا خدا ہے۔ جو مارتا ہے اور جِلاتا ہے۔ آج نواز شریف نے مشروط اجازت قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ انکار انشااللہ ان کے لیے زندگی کا پیغام بن جائے گا۔

انسانی رشتے، مجھے معلوم ہے کہ آدمی کو مجبور کر دیتے ہیں۔ ماں، بھائی اور بیٹی کا اصرار اپنی جگہ۔ ان کے کہنے پر وہ یہاں تک آ گئے۔ لیکن انہیں یہاں اب رک جانا ہو گا۔ اب انہیں رشتوں اور تاریخ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ میں انہیں اس موقع پر مولانا محمد علی جوہر کی یاد دلانا چاہتا ہوں۔ وہ جیل میں تھے کہ ان کی بیٹی آمنہ شدید بیمار ہو گئی۔ حکومت نے ملنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ انگریزوں کی حکومت تھی‘ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کس کی حکومت تھی۔ مولانا جوہر نے بیٹی کی محبت پر تاریخ میں زندہ رہنے کو ترجیح دی۔ منت سماجت سے انکار کیا۔ بیٹی کی محبت نے جوش مارا تو جذبات اشعار میں ڈھل گئے۔ کاش کوئی جائے اور مولانا کے پوری نظم نہ سہی، یہ اشعار نواز شریف صاحب اور مریم نواز کو سنا دے۔ ان میں حوصلہ بھی ہے اور خدا سے امید بھی۔

میں ہوں مجبور پر اللہ تو مجبور نہیں
تجھ سے میں دور سہی، وہ تو مگر دور نہیں
تیری صحت ہمیں مطلوب ہے لیکن اس کو
نہیں منظور تو پھر ہم کو بھی منظور نہیں
تیری قدرت سے خدایا تیری رحمت نہیں کم
آمنہ بھی جو شفا پائے تو کچھ دور نہیں