محبت ایک دن کی :حافظ امیرحمزہ سانگلوی

اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ’’ربیع الاوّل ‘‘جو کہ اپنے اختتام کی طرف رواں دواں ہے، اس مہینے میں ہر ایک مسلمان کا دل اس عظیم الشان ہستی،جس کا پوری کائنات میں کوئی ثانی نہیں، جس کی سیرت اور صورت کا کوئی کوشش کر کے مقابلہ کرنا چاہے تو بدبخت،بدنصیب ناکام و نامراد اور لعنت کا مستحق ٹھہرے گا اور ہرگز مقابلہ نہیں کر سکتا،وہ ہستی جس کے بارے میں رب العزت نے اپنے قرآن مجید میں تذکرہ فرمایا: کہ ’’مومنوں پر بہت بڑا احسان کیا ہے،کہ ان میں اپنا رسول (محمد صلی علیہ وآلہ وسلم) بھیجا ہے‘‘۔

وہ ایسا رسول، سید البشر اور محسن انسانیت کہ جس کی پوری حیات طیبہ کے روز و شب کو کائنات میں بسنے والے تمام لوگوں کے لیے نمونہ بنا دیااور پھر اسے اپنانے کے لیے کثرت سے قرآن مجید میں تلقین کرتے ہوئے اس انداز میں تذکرہ کیا ’’اطیعواالرسول ‘‘یعنی پیارے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو، عبادات و معاملات میں آپ کے طریقے کو اپنائو اور اگر حبیب کبریا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار کی بات کی جائے،تو وہ بھی اتنا عظیم تر کہ آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب جس کی حفاظت کا ذمہ خود رب العالمین نے لیا ہے،وہ لاریب کتاب ’’قرآن مجید‘‘ اس سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ ام المومنین سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کسی صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا کہ آپ کا اخلاق کیسا تھا؟ تو جواب ملا:’’کان خلقہ القرآن‘‘ قرآن مجید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق ہے۔باری تعالیٰ فرماتے ہیں:’’اور بلاشبہ یقیناً آپ صلی علیہ وسلم عظیم خلق پر ہیں‘‘اس عظیم ہستی رہبر کامل اور محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر کلمہ گو اس ربیع الاوّل کے مہینے میں خصوصی طور پر محبت و عقیدت کرتے ہوئے نئے سرے سے تازگی محسوس کرتا ہے۔ یہ وہ اہم مہینہ ہے جس میں پوری کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان سب سے عظیم تر اور ہمدرد مخلوقات، رحمۃ للعالمین پیغمبر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا کے آداب و فضیلت - رانا اعجاز حسین چوہان

شاعر اپنے انداز عقیدت میں کہتا ہے:

مبارک باد اے لوگوں کہ ختم المرسلین آیا

زمانے میں کوئی ان جیسا نہیں آیا نہیں آیا

مکیں خوش ہے مکاں خوش ہیں زمینوں آسماں خوش ہیں

زمانے میں کوئی ان جیسا نہیں آیا نہیں آیا

پیارے آقا ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری پر چاہے کوئی عام مسلمان ہے یا خاص، امام ہو یا خطیب، کوئی اعلیٰ عہدے پر ہے یا ادنی عہدے پر، الغرض ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے اس مہینے میں محبت و عقیدت کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔کیوں نا ایک مومن مسلمان پیارے حبیب سے محبت کرے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دل وجاں سے بڑھ کر محبت کو کامل ایمان والا ہونے کی نشانی قرار دیا گیاہے۔ جو آپ سرکار سے دل و جان سے محبت و عقیدت نہ کرے وہ بدنصیب کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا،اس کے مسلمان ہونے میں شک ہو سکتا ہے۔
محمد کی جس دل میں الفت نہ ہوگی
سمجھ لو کہ قسمت میں جنت نہ ہوگی

بھٹکتا رہا ہے بھٹکتا رہے گا

محمدسے جس کو عقیدت نہ ہو گی

حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تم اس وقت تک ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاوئں۔ایک حدیث مبارکہ میں ہے اس کی اپنی جان سے بھی بڑھ کر۔بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عقیدت کا اظہار تو علی الاعلان کرتے ہیں، محبت رسول و عشق رسول کا نعرہ تو دھوم دھام سے بلند کرتے ہیں لیکن آپ کے دین اسلام کو جو پوری انسانیت کے لیے آیا ہے اسے ضابطہ حیات بنانے کو تیار نہیں، آپ ﷺ کی آمد کے مقصد کو اپنانے کے لیے تیار نہیں، آپ کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے تیار نہیں، توحید و سنت کا پرچار کرنے کے لیے تیار نہیں۔حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا :
مصور کھینچ وہ نقشہ جس میں یہ صفائی ہو

یہ بھی پڑھیں:   دعا کے آداب و فضیلت - رانا اعجاز حسین چوہان

ادھر فرمان محمد ہو ادھر گردن جکائی ہو

جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے آپ کی ہر ہر بات کو اپنے سینے سے لگایا اور اسے لوگوں تک پہنچانے کے لیے نہ دن کی پرواہ کی ،نہ رات کی، بلکہ محبت وعقیدت ایسی کی کہ دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی، انھوں نے اپنے والدین، بیوی بچوں تک کو مشن مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر قربان کر دیا۔
12ربیع الاوّل کا دن تھا بازاروں میں ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا، ایسے محسوس ہو رہا تھا جسے نبی آخرالزماں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک دن کے لیے آئے تھے اور آ کر چلے گئے۔بلکہ ایک سچے مسلمان مومن کا ہر دن آمد مصطفٰی کی خوشی میں گزرنا چاہیے کہ رب العزت نے ہمیں اس عظیم ہستی کا امتی بنایا ہے کہ جسے امام الانبیاء کہا جاتا ہے۔

اب غور و فکر والی بات یہ ہے کہ ہر مسلمان داعی ہے اور و اپنے اپنے حلقہ احباب میں رہتے ہوئے مشن آمد مصطفی ﷺ کا پرچار کرے، جب تک ہماری بات اور دعووئں میں عمل کا وزن اور خلوص کی چاشنی نہیں ہوگی.....ہم اپنے اس دعوی’’محبت رسول‘‘اور’’ عشق رسول ﷺ ‘‘میں صحیح معنوں میں سچے ثابت نہیں ہوں گے۔