مسابقت - ڈاکٹر بشری تسنیم

زندگی یا مہلت عمر اگر ایک کرنسی ہے اور یہی تجارت کے لیے راس المال ہے تو اس مال سے نفع بخش تجارت کا حصول بنیادی اصول و قواعد پہ عمل کرنے کی شرط کے ساتھ ہی کامیاب ہونے کی دلیل ہے۔ کسی بھی میدان عمل میں مسابقت کے امکانات ہی سے صلاحیتیں، قابلیتیں اجاگر ہوتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

اللہ رب العزت نے آدم اور حوا کو اس کاروبار دنیا میں اسی مسابقت کے میدان عمل میں اتارا۔ (الذی خلق الموت والحياة لیبلوکم ایکم أحسن عملا.. الملک 2 ) مسابقت کا ایک جزبہ تو آدم و حوا کے درمیان تھا کہ دونوں میں سے کون اپنی زندگی میں اپنے حصہ کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے مراحل میں اپنے رب کی رضا کو مقدم رکھنے میں زیادہ مستعد ہے۔ دوسرا مقابلہ انسان (آدم و حوا) اور شیطان کے درمیان تھا کہ شیطان راس المال کو چھین نہ لے یا خسارے کی تجارت میں نہ لگا دے۔شیطان کا مقابلہ دونوں نے مل کر کرنا ہے ایک دوسرے کا ہاتھ تھا مے رکھنا ہے اس لیے کہ دونوں کا دشمن ایک ہی ہے .اور ایک دلچسپ، اور خوشگوار دوستانہ مسابقہ دونوں اصناف کے درمیان ہے..اس مسابقت میں تنگ دلی، نفرت، دشمنی نہیں بلکہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے راستے (دنیا) کو آسان بنانا ہے، وسعت قلبی، محبت اور بشاشت کے ساتھ کہ دونوں کا محبوب حقیقی اور منزل ایک ہی ہے. جب دشمن بھی ایک ہی ہو اور منزل مراد بھی یکساں ہو تو ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ایک دوسرے کی معاونت میں لطف و سرور آجا تا ہے۔

"عہد الست" کے بعد پہلا عہد "نکاح" ہے جو اللہ سبحانہ وتعالى کے متعین کردہ قواعد و ضوابط کے تحت قائم کیا جاتا ہے۔ ساری انسانی معاشرت کی عمارت اسی بنیاد پہ استوار کی گئی ہے۔ اس عمارت کی بنیاد جیسی ہوگی ویسا ہی معاشرہ وجود میں آئے گا۔ جیسے قواعد وضوابط اس کے ہوں گے جیسی ترجیحات اس رشتے کو قائم کرنے اور نبھانے کی ہوں گی ویسے ہی نتائج سامنے آئیں گے۔ جانوروں اور انسانوں کی معاشرتی زندگی اور بقائے نسل کے سلسلے میں معاہدوں کا ہونا ہی دونوں کے درمیان امتیازی فرق ہوتا ہے۔ معاہدوں کو ایمان داری سے نبھا نے والے اور نہ نبھانے والے انسان کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ شریک زندگی کا انتخاب ہر انسان کی معاشرتی مجبوری ہے تو مومن کے لیے یہ انتخاب اپنی دائمی معاشرتی زندگی کو دائمی کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے۔ یہ سوچ شریک زندگی کے انتخاب کا رخ متعین کرتی اور اس کو ایفائے عہد و وفا کا حسن عطا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نکاح کی اہمیت ، ضرورت اور مقصد - مولانا عبدالمتین

اور حقیقت یہ ہے کہ سارے انسانی اوصاف کا امتحان اسی ایک رشتے میں مخفی ہوتا ہے۔ انسانی جزبات کے سارے اچھے برے اخلاق کے امکانات مرد اور عورت کو ودیعت کیے گئے۔ دونوں کو "فاستبقوا الخیرات" کا موقع برابر عطا کیا گیا۔ دونوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے وہی ایک نبی اور ہدایت اتاری دونوں کو ایک ہی زمین کا میدان عمل دیا گیا۔ دونوں کے لیے سزا اور جزا کا ایک ہی قانون اتارا گیا۔ دونوں کے نیک اعمال کا صلہ ضائع نہ ہوگا۔ دونوں سے "حیاۃطیبہ" کا وعدہ کیا گیا۔ دونوں کو برابر ایک جیسی جنت کی طرف دوڑنے کی ترغیب دلائی گئی۔ دونوں سے ہی اللہ سبحانہ وتعالى نے اپنی رضامندی (و رضوان اللہ اکبر) اور دیدار کرانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قدرت نے ہر شے کا جوڑا (زوج) بنایا، جو ایک دوسرے کی تکمیل ہے، اور مکمل کامیابی کے حصول کی واحد شکل یہ ہے کہ دونوں (زوج) ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔

اس عهد سے وفا کریں جو ان کے اور رب کے درمیان یے اور جو اسی رب کے نام پہ مرد و عورت کے درمیان قائم ہواہے جس کو اللہ الخالق نے اپنی نشانی بتایا ہے۔ (ومن آیتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمہ ان فی ذلک لایات لقوم یتفکرون ..سورہ الروم 21) اس مقدس رشتے میں خیانت اور منافقت نہ کریں. ایکم احسن عملا کا دوستانہ مسابقہ قائم کریں.رشتہ میاں بیوی کا ہو یا اس رشتے کی وجہ سے وجود میں آنے والے باقی سارے رشتے اختلافات ہونا عین فطری عمل ہے. جہاں بھی مزاجوں کا اختلاف ہو یا فرائض و حقوق کی جنگ اللہ تعالى نے یہ دیکھنا ہے کہ دونوں فریق کے بہتر عمل میں سےبھی احسن عمل کس کا ہے؟

احسن عمل کی کڑی عہد الست سے جڑی ہے۔ اور یہی اپنے رب سے وفا ہے۔ اپنے رب سے بے وفائی دنیا کے ساری وفاؤں کی نفی کر دیتی ہے۔ ایک عاقل بالغ انسان کی باعزت معاشرتی زندگی کی ضمانت اس کا اپنے زوج سے عہد نبھانا ہے۔ معاشرے کا سارا فساد نکاح کے عہد میں خیانت، بےایمانی اور بے وفائی ہے، جس گھر یا معاشرے میں زوجین کے درمیان عہد وفا (نکاح کی پاسداری) نہ رہے، وہاں باقی سارے معاشرتی معاہدوں اور معاملات کی پائیداری بےاصل ہوجاتی ہے. کھوکھلی بنیاد پہ عمارت قائم رکھنا آخر کب تک ممکن ہے؟ شیطان کا سب سے اہم ٹارگٹ یہی محاذ ہے۔ اس محاذ سے انسان کی پسپائی ایسا نقصان ہے کہ ساری دنیا کی فتحیابی بھی اس کا ازالہ نییں کر سکتی۔

فاعتبروا یا اولی الأبصار

یہ بھی پڑھیں:   لوگ اپنی زندگی کا کتنا حصہ ڈرائیونگ میں گزارتے ہیں؟

ربنا ھب لنا من ازواجنا وزریتنا قرۃاعين وجعلنا للمتقين إماما آمین