جامعہ ملیہ سے "جامعی" تک کا سفر -حبیب الرحمن

ہمارے زمانے میں اسٹوڈنٹ یونینز بھی ہوا کرتی تھیں اور میں نے خود کراچی کے جس تعلیمی ادارے سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا وہاں کے بچوں کا تعلیمی شعور کرا چی کے اچھے سے اچھے تعلیمی اداروں سے بہت اعلیٰ تھا۔ سنہ ساٹھ اکسٹھ کا زمانہ لے لیا جائے اور پھر اس بات کا تصور کرنے کی کوشش کی جائے اس زمانے کے ایک غریب پاکستان میں کیا ایسا تعلیمی ادارہ بھی ممکنات میں سے ہو سکتا تھا۔

جہاں مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے بچے (پرائمری اسکول سے لیکر کالج کی سطح تک) پڑھنے آیا کرتے ہوں گے۔ وہاں ان کیلئے نہایت اعلیٰ عمارات ہونگی۔ان کے الگ الگ ہاسٹلز ہونگے اور ان کیلئے ہر قسم کے کھیل کے میدان موجود ہونگے، باقائدہ ایک میڈیکل سنٹر بھی ہوگا۔ ایک کافی وسیع مسجد بھی ہوگی اور وہاں پرائمری جماعت سے لیکر سیکنڈری جماعت اور کالج تک، باقائدہ الیکشن بھی ہوا کرتے ہونگے اور پھر وہی منتخب ہونے والے نمائندے اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق غیر تعلیمی سرگرمیوں کو بھی ترتیب دیا کرتے ہونگے۔ سب سے حیرت انگیز اور پوری دنیا کو متحیر کردینے والی بات یہ تھی سال میں ایک دن ایسا بھی آتا تھا کہ پرئمری جماعت سے لیکر کالج تک، پورا ادارہ طالبِ علموں کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ ایک پورا دن، چپڑاسی سے لیکر ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل تک صرف اور صرف طالب علموں کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔

اس دن کو "ایک دن کا مدرسہ" کا نام دیا گیا تھا۔ طالب علم ہی استاد ہوا کرتے تھے اور طالب علم ہی اکاؤنٹ اور ایڈمن سنبھالا کرتے تھے۔ پھر یہ بات بھی دنیا کو حیرت زدہ کردینے والی تھی کہ پرائمری اسکول پرائمری کے طالب علموں کے حوالے ہوتا، سیکنڈری اسکول سیکنڈری کے طالب علموں کے حوالے ہوتا اور کالج کالج کے طالب علموں کے حوالے ہوتا۔ باقائدہ کلاسیں لگتیں، پیریڈ تبدیل کرنے کیلئے مقررہ اوقات میں گھنٹیاں بجائی جاتیں، اساتذہ تبدیل ہوتے اور نظم و ضبط کا یہ عالم کہ اساتذہ کرام سمیت ہر قسم کا عملہ پکنک منانے چلاجاتا۔ دنیا پھر کے وفود اپنی غیر یقینی کی کیفیت دور کرنے کیلئے اس "ایک دن کے مدرسے" کو دیکھنے آیا کرتے اور یقین کے ساتھ آنکھیں پھاڑتے ہوئے اپنے اپنے ممالک چلے جایا کرتے اور پھر ہر ملک اپنے ہی انداز میں اس اعلیٰ نظم و ضبط کی رپورٹنگ بڑی حیرت و استعجاب کے ساتھ شائع کیا کرتا تھا۔

اس ادارے کا نام "جامعہ ملیہ" تھا جو آج بھی ہے لیکن اس کے وہ میدان، وہ رہائش گاہیں جو دنیا کیلئے نمونہ تھیں، تعلیم کا وہ معیار جو اس نے اپنایا ہوا تھا اور وہ نظم و ضبط جو اس ادارے کی پہچان تھا وہ دور دور تک نظر نہیں آتا بلکہ اگر سہل اردو میں اس ادارے کی حالت زار بیان کی جائے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہر میدان، وہ عمارتیں جن میں اعلیٰ و معیاری تعلیم دی جاتی تھی، وہ نظم و ضبط جس کا جائزہ لینے دنیا آتی تھی اور وہ رہائش گاہیں (ہاسٹلز) جن میں ملکی و غیر ملکی طالب علم رہائش پذیر رہا کرتے تھے، بھوت بنگلو کا نظارہ پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور مسجد کی شمالی سمت میں بنی اس ادارے کے بانی کی قبر بے بسی اور بے قدری کا ایک دردناک منظر پیش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔کراچی میں اور بھی کئی نامی گرامی تعلیمی ادارے تھے جن کا معیار تعلیم بین الاقوامی معیار تعلیم کے مطابق تھا اور اس دور میں ایسا کبھی نہیں سنا گیا کہ جو بھی یہاں سے فارغ التحصیل ہوکر یورپ یا امریکہ جاتا اسے وہاں کئی درجے پچھلی کلاسوں میں داخلہ لیکر ان کے معیار کے مطابق آنے کی ضرورت پڑی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے - شیخ خالد زاہد

پاکستان اس وقت ایک بہت ہی پُر آشوب دور سے گزررہا تھا۔ غربت تو تھی ہی لیکن تعلیم کے میدان میں بھی پاکستان بہت پیچھے تھا۔ ایک المیہ یہ بھی تھا کہ وہ افراد جو اس میدان میں مالی مدد کر سکتے تھے اور اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے تعلیم کو فروغ دے سکتے تھے وہ سب کے سب اس ملک میں تعلیم کے سب سے زیادہ مخالف تھے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آج بھی ان کے مزاج میں ذرہ برابر کوئی فرق نہیں آیا اور آج بھی وہ 72 برس پرانی سوچیں رکھتے ہیں تو یہ بات کسی بھی لحاظ سے جھوٹ میں شمار نہیں کی جاسکے گی۔ پورے پاکستان میں جہاں جہاں بھی وڈیرانہ، ملکانہ، چوہدریانہ، سردارانہ اور جاگیردارانہ نظام یا ان کا اثر و رسوخ ہے وہاں اب بھی عام فرد کو تعلیم حاصل کرنا اتنا ہی دشوار اور مشکل ہے جتنا آج سے 72 سال قبل ہوا کرتا تھا۔

وہ لوگ جن کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اپنے گاؤں دیہات میں رہنے والے ایک ایک طالب علم کیلئے پوری پوری یونیورسٹی بنا سکتے ہیں اور اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم کے اخراجات بصد آسانی پورے کر سکتے ہیں، وہاں اب تک یہ عالم ہے کہ ان کے علاقوں میں "چھتوں" والی تعلیم گاہیں میسر نہیں۔ وہاں کے بچے درختوں کے سائے میں یا کھلے آسمان کے نیچے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے پر مجبور ہیں اور صرف وہی کچھ پڑھنے کے پابند ہیں جس کی اجازت علاقے کے بڑے نے دے رکھی ہو۔ اگر ایسے علاقوں میں حکومت پاکستان نے بچوں کیلئے تعلیم گاہیں بنا بھی دی ہوں تو وہاں ان بااثر شخصیات کے مال مویشی، کتے بلیاں یا مرغیاں پل رہی ہوتی ہیں اور ہماری حکومت اتنی بے بس و لاچار ہے کہ ان بااثر شخصیات کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کر پاتی۔

کسی کا یہ خیال ہے کہ ایسا صرف ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں وڈیرہ شاہی یا جاگیردارانہ اثر رسوخ زیادہ ہے تو یہ اس کی بڑی بھول ہے کیونکہ ذہنی لحاظ سے پاکستان کا ایک ایک بچہ وڈیرہ اور جاگیر دار ہی ہے اور خاص طور سے وہ سارے محکمے جو حکومت پاکستان کے تحت کام کرتے ہیں وہ ہمارے وڈیرے اور جاگیر دار ہی ہیں۔ ان کا اندازِ فکر، کام نہ کرنے کا رجحان، کسی کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد خوش ہونا، کسی بھی اخلاق کو فروغ دینے کو گناہ تصور کرنا اور جائز ذرائع سے کام کرنے والے کیلئے رکاوٹیں ڈالنا ایک معمول کی بات ہے۔ وہ محکمہ جس کو محکمہ تعلیم کہا جاتا ہے، وہ تو ابوجہلوں سے بھرا پڑا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پورے پاکستان کے وہ اسکول جو حکومت پاکستان، یا صوبوں یا بلدیاتی نظام کے تحت کام کر رہے ہیں، ان کی حالت یہ ہے کہ ان میں صرف اور صرف جہالت کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں پڑھایا جارہا اور خاص طور سے وہ اسکول جن کا ذریعہ تعلیم "اردو" ہے، وہاں تو صرف اور صرف خاک دھول کے علاوہ کچھ بھی اڑتا اور نظر ہی نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکہ اور بھارت کے پیٹ کا مروڑ - شیراز علی‎

ایک اُس دور کو سامنے رکھا جائے جب پاکستان بااعتبار پیدائش، ابھی نوزائدگی کی عمر میں تھا، اس وقت کے کراچی کے تعلیمی اداروں کے معیار کا کیا عالم تھا اور پھر ایک آج کا دن جب پاکستان ادھیر عمر کے دور سے گزر کر بڑھاپے کی منزل میں داخل ہو چکا ہے، دونوں میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ وہ فرق جس کو اعلیٰ ترین بلندی پر ہونا چاہیے تھا وہ زمین کی اتھاہ گہرائیوں کی جانب محو سفر ہے۔ حکومت کے بنائے سارے تعلیمی ادارے شکستگی کا شکار ہیں اور ان میں تعلیم اپنی آخری سانسیں لیتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ان میں جو جو بھی زیر تعلیم ہے وہ عالم بننے کی جائے جہالت کا نمونہ بنتا جارہا ہے اور وہ اساتذہ جو بچوں کو تعلیم دینے کی تنخواہیں وصول کر رہے ہیں وہ اپنے اندر کی سارے وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ سوچ کا زہر ان سب کی رگ و پے میں اتارتے چلے جارہے ہیں لیکن نہ تو حکومت پاکستان اس جانب کوئی توجہ دیتی نظر آرہی ہے اور نہ ہی وہ لوگ جو فہم و ادراک رکھتے ہیں، سیاسی سوجھ بوجھ کے حامل ہیں، دانا کہلاتے ہیں، دانشور سمجھے جاتے ہیں اور مصلحانِ قوم میں شمار کئے جاتے ہیں، وہ اس سلسلے میں کسی درد کا مظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا ادارہ جو 1953 میں وجود میں آیا، جس میں میں نے 1961 میں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ جو اُس وقت شہر کراچی کے ایک جنگل میں شمار کیا جاتا تھا۔ جہاں کسی بھی قسم کی کوئی ٹراسپورٹ نہیں جایا کرتی تھی۔ جو کسی بھی قریب ترین بستی سے ڈیڑھ سے دو کلو میٹر کی دوری پر تھا۔ جس کا راستہ کیکر، ببول، جنگل جلیبی اور تھور کے درختوں کے درمیان سے گزرتا تھا۔ جس کے راستے میں سانپ، بچھو اور دیگر موزی ہوا کرتے تھے۔ دور دور تک کوئی بستی نہیں تھی۔ اگر اس ادارے میں پاکستان کے ہیرے موتی تراشے جا سکتے تھے اور اتنی پر خطر جگہ میں لوگ اپنے معصوم بچے اور بچیوں کو بلا خوف و خطر بھیج دیا کرتے تھے تو آخر جب آج ہم ایک تاریک اور غریب دور سے گزرنے کے بعد روشن اور اُس زمانے کے مقابلے میں زیادہ خوشحال دور میں موجود ہیں تو کوئی ایک ادارہ بھی اتنا مثالی بنانے میں کیوں ناکام ہیں ۔

جہاں کا پڑھنے والا فخر کے ساتھ "جامعی" کہلا سکے اور جب وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں جائے تو نہ صرف وہ اپنا تعلیمی سفر وہاں سے آگے شروع کر سکے جہاں سے وہ پاکستان میں چھوڑ کر آیا تھا بلکہ دنیا اسے "جامعی" کے نام سے بھی پکارے۔ ارباب اقتدار و اختیار کیلئے یہ بات ایک لمحہ فکریہ ہے اور جب تک اس بنیادی بات پر غوروفکر سے کام نہیں لیا جائے گا اس وقت تک ہماری ترقی کا سفر شروع نہیں ہو سکے گا۔