سقوط کشمیر - عشرت سلطانہ

سقوط کشمیر ۔ ۔ ۔ یہ کیا ؟؟ میری آنکھیں یہ کیا پڑھ رہی ہیں ۔ ۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا دماغ کہہ رہا ہے کہ جو کچھ میں نے پڑھا درست ہے ۔ ۔ مگر دل اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ۔۔۔ کافی دیر دل و دماغ کی کش مکش چلتی رہی پھر ایک سناٹا سا اندر تک میں اتر گیا ۔ مایوسی ، بے بسی ، ندامت ، افسردگی اور ایسے ہی جزبات نے میرا گھیراؤ کر لیا سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اپنی اس کیفیت کو کیا نام دوں ۔
,
بچپن سے سنتے آ رہے تھے کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے تو اس شہ رگ کے کٹ جانے کے بعد ہم زندہ کیسے ہیں ۔ ۔ ۔ ہمارے وہ دعوے اہل کشمیر ہم تمہارے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم تمہارے لیے یہ کریں گے اور وہ کریں گے۔ہماری وہ پرجوش تقاریر ، وہ ہمارا کشمیر کی لیے ناچنا گانا سب بیکار چلا گیا . سوچنے کی بات یہ ہےکہ کیا آزادی کے لیے صرف تقاریر کرنس، مضامین لکھنا، ریلیاں نکالنا اور نغمے گانا کافی تھا۔۔۔۔نہیں نا؟۔۔۔۔اگر ان سب باتوں سے آزادی ملتی تو پاکستان کے حصول کے لیے اتنی قربانیاں نہ دینی پڑتیں۔اس کی بنیاد میں ان گنت لوگوں کا لہو شامل نہ ہوتا ۔ اے کشمیر کے باسیو ! میں اور میری قوم تم سے بہت شرمندہ ہے۔ تمہاری قوم کے ہر ہر فرد سے کہ ہم نے تمہارا وہ مان قائم نہ رکھا جو تمہیں ہم پر تھا۔ہم تمہارے بھائی ہونے کا حق ادا نہ کرسکے۔ ہم تو صرف زبانی کلامی باتیں بناتے رہے ،گانے گاتے رہے ، مظاہرے کرتے رہے، ریلیاں نکالتے رہے ۔ ۔ ۔ ہم نے تمہاری آزادی کے لیے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا۔ ہم تمہارے لیے کچھ نہ کرسکے ۔
ہم بہت شرمندہ ہیں ۔ ۔ ہم بہت شرمندہ ہیں