بحث یا عقائد کی تصیح؟ - سطوت اویس

آج اسکول میں ناظرہ کی کلاس میں یہ آیات پڑھائی گئیں۔ " تم اُن لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ، جو فرقوں میں بنٹ گئے اور جنہوں نے اپنے پاس واضح ہدایات آجانے کے بعد اختلاف کیا۔ انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے " (سورہ آل عمران۔ آیت ۱۰۵)

یہ آیت پڑھی ہی تھی کہ چھٹی کی گھنٹی بج گئی۔ گیارہ سالہ علی پورے راستے اسی آیت کو سوچتا ہوا گھر پُہنچا۔ اُسکا ذہن بہت اُلجھا اُلجھا تھا ، گھر پُہنچا اور والدہ کی آواز سنائی دی۔ بیٹا کپڑے بدل کر ہاتھ منہ دھو لو۔ میں کھانا لگا رہی ہوں۔ کھانے کی میز پر والدہ نے اسکی اُلجھن کو بھانپ لیا اور بڑی شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر اس سے وجہ دریافت کی۔ علی: امی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم اُن لوگوں کی طرح فرقوں میں نہ بٹ جانا، اسکا کیا مطلب ہوا؟ اسکا مطلب ہوا کہ اللہ کی طرف سے ایک ہی دین اترا تھا دین اسلام۔ سب اسی کے پیروکار تھے۔ لکن لوگوں نے اسے بدل کر علیحدہ علیحدہ نام دیدیئے۔دیکھا جائے تو ساری ہی قومیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتی تھیں یہاں تک کہ مشرکینِ مکّہ، یہودی، عیسائی سب ہی کہتے تھے تھے کے حضرت ابراہیم علیہ السلام انکے بڑے ہیں اور اپنے دین کو انہی کے دین کا حصہ تسلیم کرتے تھے انکے اس عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی تھے۔ وہ مسلمان تھے۔(آل عمران آیت ۶۷)

یعنی دین صرف اسلام ہی ہے جو خدا کی طرف سے اتارا گیا لیکن لوگوں نے خود اسمیں اپنی طرف سے ذاتی مفاد کے لیے بگاڑ پیدا کردیا جسک نتیجے کوئی یہودی بن گیا تو کوئی نصرانی تو کوئی عیسائی۔ جبکہ پیغمبروں کی تعلیمات کو ہی بھلا دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور انہوں نے سچے دین کی وضاحت کردی اور مسلمانوں کو اُنکا صحیح اور اصل دین دیدیا۔اور پھر اللہ نے سختی سے منع بھی کردیا کے واپس آپس میں جھگڑے کرکے دین کے ٹکڑے نہ کر بیٹھنا۔۔۔
تو پھر جب مسلمان سب کچھ جان چکے تھے وہ دوبارہ فرقوں میں کیوں تقسیم ہوگئے؟ ( علی جو والدہ کی باتیں ذہن نشین کررہا تھا انکی بات کاٹتے ہوئے بولا)
مسلک یا فرقوں میں مسلمان اچانک ہی نہیں بنٹے۔ شروع میں ایسا نہیں ہوا۔ جو ہمارے اسلاف یا عالمِ دین تھے انکی کوشش تو مسلمانوں کو دین سے جوڑے رکھنے کی تھیں اسکی مثال یوں سمجھو کہ جب انگریز اسلام کے خلاف سازشیں کررہے تھے کہ اس دین کو صفحہ ہستی سے مٹا دینگے اور اِسکے لئے اُنہونے مسلمانوں کی دینی کتابیں جلادیں، قرآنِ پاک کے نسخے جلا دیئے اور کیا کچھ نہیں کیا ہمارے دین کو نقصان پُہنچا نے کے لیے۔

تو وہاں کی ایک بستی کے علماء نے ہماری علمی وراثت کی حفاظت کے لئے ایک مدرسے کی بنیاد رکھی۔ اس بستي کا نام دیوبند تھا تو مدرسے کا نام دارل علوم دیوبند رکھ دیا۔ سوچو کتنی اچھی کوشش تھی اور لوگوں نے کس طرح اُسے بڑھا چڑھا کر پوری مسلک ہی بنا دیا۔ بلکل اسی طرح مولانا احمد رضا خان بریلوی نے ایک تحریک چلائی جسکا مقصد مسلمانوں کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اولین ترجیح دینا تھا اور انہوں نے مسلمانوں کو دوسری مجالس میں جانے سے روکنے کے لیے میلاد کا جلوس نکالا لیکن لوگوں نے اسکو بھی نہ جانے کیا سے کیا کردیا۔ بلکل اسی طرح شرک و بدعات کے خلاف علماء دین نے تحریک چلائی اور پھر وہی ہوا۔ اہل حدیث کے نام سے ایک نئی مسلک۔۔ تو کیا اب اسکا کوئی حل نہیں؟(ماں کے کاندھے پر سر رکھتے ہوئے علی نے گہری سوچ میں جاکر سوال کیا)۔
حل! ہوں۔۔ (ماں نے سوچتے ہوئے بولا) حل تو اس وقت تک ممکن نہیں کہ لوگ بڑی بحث کو چھوڑ کر اپنے بنیادی عقائد کی تصیح نہ کرلیں۔ جیسے جھوٹ، چوری، غیبت، حق تلفی، کم تولنا، دل دکھانا،کسی کی تذلیل کرنا اور اس طرح کی تمام دوسری برائیاں اپنے اندر سے نہ نکال پھینکیں۔

جب یہ برائیاں نہیں ہونگی تو لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور محبت کا جذبہ ہوگا اور وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے ایک دوسرے کے نکتہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرینگے اور آپس میں ہمدردی رکھینگے۔ اور یہی محبت امت کو جوڑنے کا سبب بنے گی کیوں کہ فرقہ یا مسلک جو بھی ہو سب کے بنیادی عقائد تو ایک ہی ہیں نا ۔ لیکن اتنا بڑا فرق آئیگا کیسے؟ ہاں اتنا بڑا فرق تو نہیں آئیگا۔ نہ کوئی لا سکتا ہے۔ لیکن ایسا ہوسکتا ہے کہ ہر انسان اپنے آپ پر توجہ دے۔ خود کو ٹھیک کرلے تو معاشرہ خود ہی ٹھیک ہوجائےگا۔ یاد رکھو۔ انفرادی قوت سے ہی اجتماعی قوت بنتی ہے۔ تم خود پر توجہ دو یا زیادہ سے زیادہ اپنے قرباء کو نصیحت کرنے کی کوشش کرو۔ لکن صرف کوشش کرنا۔ زبردستی نہیں۔ سمجھے۔(ماں نے ایک پیار کی تھپکی دیتے ہوئے کہا)
علی جو اُلجھا اور پریشان تھا اب کافی حد تک پر سکون نظر آرہا تھا۔۔ بولا ہاں میں سمجھ گیا ۔۔ میں آج سے اپنے آپ کو سچا مسلمان یعنی صرف اللہ کا مسلم بنانے کی کوشش کرونگا۔ اپنے بنیادی عقائد کو صحیح رکھونگا۔ پانچ وقت نماز با جماعت ادا کرو نگا۔ اور ہر برائی سے بچونگا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرو نگا۔اور ان فرقوں کی بحث سے دور رہونگا۔ ان شاء اللہ