پھولوں کی حفاظت ۔ایمن طارق

بہت سکون ہے بھئ جیسے ہی اسکول سے آتے ہیں لنچ کروا کے تھوڑی دیر ٹی وی لگا دیتی ہوں اور پھر فورا ہی ٹیوشن ٹیچر آجاتی ہیں ۔ ان کے جانے کے بعد 20 منٹ فری پلے اور پھر مدرسہ ٹائم ہوجاتا ہے اور میں ڈراپ کرنے کے بعد وہیں گاڑی میں بیٹھ کر کچھ کالز کر لیتی ہوں ۔ واپس آتے آتے اسقدر تھکن ہو جاتی ہے کہ بس ہم کھانا کھاتے ہیں اور میں بچوں کو فوراً بیڈ پر بھیجتی ہوں ۔

کتاب ہاتھ میں دے دو کچھ دیر میں پڑھتے پڑھتے سو جاتے ہیں ۔ اس کے بعد چاۓ کا کپ لے کر سکون سے بیٹھ جاتی ہوں ۔ بچے چھوٹے ہوں تو بڑی زمہ داری ہے دماغ کھپ جاتا ہے ۔بچے بھی ایسے ہین آج کل سنتے ہی نہیں ۔ کسی سے ملنا جلنا نہیں چاہتے بس ٹی وی کے آگے بٹھا دو یا گیم ہاتھ مین دے دو ۔ یا فرمائشی پروگرام کہ یہ لے دیں وہ لے دیں ۔ یہ آپ کا روز کا روٹین ہے ؟؟ ہاں تقریباً یہی ہے ۔ بس ویک اینڈ پر ایکٹیویٹئ کلب ہیں، سوئمنگ گراسری آدھا دن تو وہیں نکل جاتا ہے ۔ پھر فری گیم یا ٹی وی ٹائم کیونکہ ویک کے دوران وقت نہیں ہوتا تو سب کو الگ الگ آئی پیڈ لے دیے کہ ہم بھی سکون سے اور بچے بھی اور بس کچھ دیر ریلیکس ، کبھی کہیں جانا یا کسی کا انا ہو تو اس میں وقت نکل گیا ۔۔ تو ان سب میں بچوں کے ساتھ آپ کا وقت کونسا ہے بھلا ؟؟ کیسا وقت بہن ؟ ان کے لیے کھانے بناتی ہوں ، جو کہیں لے دیتے ہیں ، پیسا پانی کی طرح بہا رہے ہیں ، اچھے کپڑے اچھے بیگ ، اچھے شوز ، گیم ، آئی پیڈ سب تو لے کر دے رکھا ہے ۔ ہلکان ہی ہو گے ہیں پھر بھی منہ سیدھا کر کے بات نہین کرتے ۔۔ڈانٹ اور دھمکی کے بغیر ہلتے نہیں ۔ واقعی یہ سب تو بڑی محنت ہے جو اپ دونوں اپنے بچون کو کامیاب کرنے کی ہی نیت سے کر رہے ہیں غالبا لیکن لیکن ۔۔

یہ بھی پڑھیں:   جنت کے پھول - ڈاکٹر بشری تسنیم

یہ اولاد تو اللہ کی امانت ہے ہمارے پاس کچھ وقت کے لیے یا ہماری زندگی کے آخر تک کے لیے جو جتنی مہلت اللہ نے لکھی ۔۔ یہ پھول ہیں لیکن بڑی جلدی مرجھاتے ہیں ، یہ خوشبو ہیں لیکن ایسی کہ جو قدر نہ کی جاۓ تو روٹھ جاۓ ، یہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں لیکن حفاظت نہ کرین تو چبھن بن جائیں۔ اور ان سے محبت ان کی حفاظت ان کا خیال ان کی نگہداشت ان کو وقت دینا ہے ۔ ان کو پانی دے کر ایسے ہی سینچنا ہے جیسے پودے کو ۔ ماں باپ آسمان سے تارے توڑ کر لادیں پیسہ بہا دیں ، دنیا قدموں میں ڈھیر کر دیں لیکن وقت نہ دیں ، معصوم پھولون کے چہرے کے تاثرات دیکھنے کو وقت نہ نکال پائیں ، تھکاوٹ سے بھرے ننھے زہنوں کو بے لچک روٹین تلے دبا دیں ۔ چھوٹے چھوٹے معصوم ہاتھوں کے لمس جھٹک کر اپنی توقعات پوری کرنے کے لیے انہیں روبوٹ بنا دیں تو بچے جسمانی طور پر بڑھ جاتے ہیں لیکن جزباتی طور پر کچلے جاتے ہیں ۔ کوئی اُن کی نہیں سنتا تو وہ بھی سننے کی عادت سے مانوس نہیں ہوتے ۔ کوئی ان کے آنسو پونچھتے ہوے ان کی انکھوں میں نہیں جھانکتا تو وہ بھی درد دوسروں کا محسوس کرنے کی حس سے عاری ہو جاتے ہیں ۔ اُن کی سنو جو سید الانبیاء تھے ۔ دعوت دین کی فکر جن کا اوڑھنا بچھونا تھی ۔

سیرت کے واقعات دیکھیں تو یہ خوبصورت تصویر نظر آتی ہے کہ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرتے وہ اُن سے بات کرتے اُن کا حال پوچھتے۔ روایات میں ملتا ہے کہ رحمت للعلمین صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں شامل تھا حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے کھیلنا اور جب وہ دونوں طرف سے اپ سے آکر لپٹتے، اپ لیٹے ہوتے آپ کے ہاتھ اور گھٹنوں پر چلتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم محبت سے فرماتے کہ تمہین کیسا اچھا اونٹ ملا ہے اور کیسے اچھے سوار ہو تم ۔
جبیر بن سمورا سے روایت ہے کہ : مین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے بچپن کا واقعہ روائت کیا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی نماز پڑھی ۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف گۓ اور میں بھی ساتھ گیا اور راستے میں جب وہ کچھ بچون سے ملے تو انہوں نے ان سب کے گالوں پر ہاتھ پھیرا ۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا : اور میں ؟؟تو اللہ کے رسول نے مجھے بھی ایسے ہی شفقت سے ہاتھ پھیرا ۔ اور میں نے اُن کے ہاتھ کی ایسی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی جیسے کسی خوشبو بیچنے والے کی خوشبو سے آتی ہے ۔
یہ کردار تھا اُس ہستی کا جس کے پاس دنیا کی امامت تھی لیکن معصوم بچوں کے لیے پھر بھی وقت اور توجہ تھی ۔ جن کی محبت کا ہمیں دعوئ ہے وہی ہمارے لیے مثال اور رول ماڈل ۔۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.