جسٹن ٹروڈو کے ووٹ اور سیٹیں کم کیوں ہوئیں؟ - تزئین حسن

کینیڈا الیکشن رزلٹ کیا رہا؟ کینیڈا کے عوام نے ایک بار پھرجسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی کو کامیابی سے ہم کنار کروادیا ہے جس نے388 ممبرز کی پارلیمنٹ میں 157 سیٹیں حاصل کی ہیں- انکے حریف کنزرویٹوز نے 121 سیٹیں حاصل کیں- تاہم لبرلز اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں- اسکے لئے 170 سیٹیں درکار تھیں جبکہ انہوں نے تیرا سیٹیں کم حاصل کیں ہیں۔

لبرل پارٹی اپنی وزارت عظمیٰ اور حکومت بچانے میں کامیاب ہوگئی ہے لیکن جسٹن ٹروڈو کی جیت کو واضح فتح نہیں کہا جا سکتا- امید یہی ہے کہ یہ نیو ڈیموکرٹیک پارٹی یعنی این ڈی پی کے ساتھ حکومت بنائیں گے جس نے24 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس دفعہ تین پاکستانی نژاد کینیڈینز سمیت 12 مسلمان بھی فیڈرل پارلیمنٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ کینیڈا کی تاریخ میں پہلی باراقلیت سے تعلق رکھنے والا ایک سکھ ایک قومی سیاسی جماعت این ڈی پی کی قیادت کر رہا ہے- کینیڈا کی سیاست کو اگر مختصراً بیان کیا جائے تو اسکے اہم اشو آئل پائپ لائن کی تعمیرسے معیشت کو مستحکم کرنا ہے جو لبرلز اور کنزرویٹو دونوں چاہتے ہیں، میڈیکل پہلے ہی فری ہے لیکن لبرلز اور این ڈی پی نے دوائیں مفت کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے، کلائمیٹ چینج یعنی ماحولیات کے حوالے سے کنزرویٹوز سائنسی حقائق کا انکار کرتے ہیں لیکن لبرلزاین ڈی پی اور گرین پارٹی اس پرخرچ کرنا چاہتیں جس سے ٹیکسز بڑھ جائیں گے- امیگریشن کے اشو پر لبرل اور این ڈی پی متحد ہیں جبکہ کنزرویٹو اور بلاک کیوبیک پارٹی اسکے خلاف ہیں-

یہ دونوں جماعتیں اسلاموفوبیا اور سفید فام قوم پرستی کے فروغ سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں - حالیہ الیکشن میں کنزرویٹوووٹوں کی تعداد لبرل ووٹوں سے زائد ہے لیکن سیٹوں کی تعداد کےلحاظ سے ٹروڈو کی لبرل پارٹی سخت مقابلے کے بعد بازی لے گئی- اس سے زیادہ اہم حقیقت یہ کہ لبرلز کے ووٹوں میں کمی کی بڑی وجہ انکے حریف کنزرویٹو پارٹی نہیں بلکہ ماحولیات کے حق میں کام کرنے والی گرین پارٹی، کیوبیک کی علیحدگی کی حامی اسلاموفوبک 'بلاک کیوبیک پارٹی' اور خود امیگریشن سمیت بعض معاملات میں لبرلز سے ملتا جلتا موقف رکھنے این ڈی پی نے توڑے .
مسلم پارلیمنٹ ممبران : دلچسپ بات یہ کہ حالیہ انتخابات میں کینیڈین فیڈرل پارلیمنٹ میں 12مسلم ممبران منتخب ہوئے ہیں ۔ ان میں تین پاکستانی نژاد کینیڈین، دو لبنانی، دو ایرانی، ایک افغانی، ایک تنزانوی، ایک شامی کینیڈین، ایک یوگنڈن کینیڈین اور ایک صومالی کینیڈین شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ممبر 2015 ءکی پارلیمینٹ میں بھی موجود تھے اور2019ءمیں یہ اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ سب ممبران اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور یونیورسٹی کے ڈگری یافتہ ہیں ۔ایڈمنٹن کے زید ابو لطیف کے سوا باقی سب کا تعلق لبرل پارٹی سے ہے۔ ان میں چار خواتین ہیں، جن میں پاکستانی نژاد سلمیٰ زاہد واحد حجاب لینے والی خاتون ہیں جنہوں نے اپنی بیماری کے دوران حجاب لینے کا فیصلہ کیا اور بیماری کے بعد پہلی مرتبہ حجاب پہن کر پارلیمنٹ میں گئیں۔

ان میں سے دو ممبر آغا خانی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ٹروڈو کے ووٹ کم کیوں ہوے؟ ٹروڈو کے خلاف انکے مخالفین کی تنقید
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق حالیہ الیکشن کو وزیر اعظم ٹروڈو کی وزارت عظمیٰ کے لئے ریفرنڈم بھی کہا جا رہا تھا۔ سینتالیس سالہ ٹروڈو کی حریف کنزرویٹو پارٹی نے پورے چار سال انہیں سخت وقت دیا- ٹروڈو کے خلاف شدید تنقید ان کے انڈیا کے ٢٠١٧ کے ناکام دورہ سے شروع ہوئی جس میں کینیڈا کو بحیثیت ایک ملک خفت اٹھانی پڑی۔ ان کے مخالفین نے انہیں نا تجربہ کاری اور شو آف کے طعنے دیئے۔ کینیڈین ایمبیسی نیو دہلی کی ایک تقریب میں ایک سکھ علیحدگی پسند نے ان کی اہلیہ کے ساتھ فوٹو بنوائی۔ اس علیحدگی پسند کو اتنے اہم دورے کی اہم ترین تقریب تک رسائی کیسے حاصل ہوئی، یہ ایک معمہ ہے- ٹروڈو کے حامیوں کا خیال ہے کہ یہ انکے سیاسی مخالفین کی کوئی سازش تھی جس میں انڈیا کی حکومت کے ملوث ہونے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا جو بجا طور پر انکی کیبنٹ میں تین سکھ منسٹرز کی شمولیت پر چراغ پا ہو سکتی تھی-

الیکشن سے کچھ عرصے قبل لبرل پارٹی کی ایک ممبر پارلیمنٹ نے انکے اسٹاف پر انہیں ایس این سی لولین، جو دنیا کی ایک بڑی تعمیراتی کمپنیوں میں سے ایک ہے، پر کرپشن کی تحقیقات کے حوالے سے دباؤ کا الزام لگایا - یہ الزام اتنا سخت تھا کہ اس موقع پر ٹروڈو کے قریب ترین سیاسی ساتھی کو مستعفی ہونا پڑا لیکن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ ایس این سی لیولین بہت بڑی تعداد میں عوام کو روز گار مہیا کرتی ہے- حکومتی اراکین نےانہیں بے روزگاری سے بچانے کی کوشش میں کمپنی کی حمایت کی- اس اسکینڈل نے ٹروڈو کو نقصان پہنچایا مگر انکے اصل ووٹ کنزرویٹو اور بلاک کیوبیک پارٹی نے اسلاموفوبیا کارڈ استعمال کر کے کاٹے- بلاک کیوبیک پارٹی فرانس کی طرح کا سیکولر ازم بل لیکر آئ جسکے مطابق پبلک اداروں میں مذہبی علامتوں کا استعمال خلاف قانون قرار دیا گیا- بظاہر یہ بل تمام مذاھب کی علامتوں کے خلاف ہے لیکن اسکا اصل ٹارگٹ مسلمان خواتین کا حجاب ہے- اس بل کے تحت پبلک اداروں میں خدمات دینے اور حاصل کرنے والوں کو نقاب کی اجازت نہیں ہو گی- تاہم کراس یا سلیب کو ثقافتی علامت کہہ کر اسے اس پابندی سے مبرا کیا گیا ہے-

اس پابندی سے کیوبیک کے سرکاری اداروں میں خصوصاً اسکولوں کی میں مسلمان خواتین متاثر ہو سکتی ہیں- صوبے میں بڑی تعداد میں مسلمان باحجاب خواتین تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں جو اب حجاب کے ساتھ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتیں- ٹروڈو کا کہنا ہے 'یہ بل سیکولرزم کی بنیادوں کے خلاف ہے جسکے مطابق ہرانسان کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی ہونی چاہیے- اپنی مرضی کا لباس پہننے کی آزادی ہونی چاہئے-' ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کیوبیک کے فرنچ اسپیکنگ علیحدگی سیکولرازم کے ساتھ وہی کچھ کر رہ یہیں جو داعش نے اسلام کے ساتھ کیا- ٹروڈو کلائمیٹ چینج یعنی ماحولیات کے لئے بہت سنجیدہ ہیں- اور اسی حوالے سے کلائمیٹ چینج کے حامی عوام انکے کاربن ٹیکس لگانے کے اقدام سے بہت خوش تھے- لیکن انکے اس موقف کو اس وقت بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں البرٹا کی معیشت کے لئے آئل کی متنازعہ پائپ لائن کو خریدنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا جو ماحولیات کے لئے نقصان دہ تھی- ماحولیات کے خلاف اس اقدام کو دوغلا پن کہا گیا لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں کی معیشت اپنے قدرتی وسائل پر انحصار کرتی ہو یہ فیصلہ ناگزیر تھا-

انکے اس اقدام سے گرین پارٹی کو فائدہ ہوا، جسکا سب سے بڑا الیکشن اشو کلائمیٹ چینج تھا- گرین پارٹی بھی خلاف توقع تین سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی-
اس سے قبل پرنس کریم آغا خان کی دعوت پر لاطینی امریکا میں فیملی تعطیلات کے دوران ان کی ذاتی سیکورٹی پر آنے والے اخراجات کے حوالے سے بھی ان پر الزامات لگائے گئے۔ الیکشن سے ایک ماہ قبل اسکول کے زمانے میں کسی ڈرامے کے دوران ان کے سیاہ فام کردار ادا کرنے کی وڈیوز سامنے آئیں جس پر انہیں نسل پرستی کے فروغ کا الزام کا سامنا کرنا پڑا - اپنی غلطی پر ڈٹ جانے کے بجائے ٹروڈو نے یہ کہہ کر معافی مانگی کہ اس دور میں وہ ان معاملات کی باریکیاں نہیں سمجھتے تھے اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ۔لیکن ان پر سب سے بڑا الزام جو تواتر سے لگتا رہا ہے اور بڑی تعداد میں انکے ووٹ کم کرنے کا با عث بنا وہ مسلمانوں کی حمایت اور دہشت گردی کے مسئلے کو نظر انداز کرنے کا ہے۔ ان کی حریف امیگرینٹ مخالف کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے ان پر سب سے بڑا الزام یہی تھا جسکا ٹروڈو نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے اصولی موقف سے ایک انچ بھی نہ ہٹے۔ انکا کہنا تھا کہ کنزرویٹو پارٹی ڈر اور خوف اور نسل پرستی کی سیاست کر رہے ہیں-

یہ بات بھی ماننے کی ہے کہ کنزرویٹو پارٹی نے ان کے خلاف سفید فام کارڈ بہت کامیابی کے ساتھ کھیلا اور اپنا ووٹ بینک بڑھانے میں کامیاب ہو گئی- کنزرویٹو لیڈر اینڈریو شئیرز نے دہشت گردی، کاربن ٹیکس کی واپسی اور ٹیکس میں کمی کو اپنا الیکشن اشو بنایا-
کینیڈا تقسیم ہو گیا؟یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ الیکشن میں کینیڈا جغرافیائی لحاظ سے تقسیم ہو گیا ہے- اونٹاریو کا صوبہ لبرلز جبکہ البرٹا اور سسکیچون نے اپنا پورا وزن کنزرویٹوز کے پلڑے میں ڈالا ہے جو کلائمیٹ چینج کے خلاف ہیں اور آئل پائپ لائن کو مغربی کینیڈا کی معیشت کے لئے ضروری قرار دیتے ہیں- البرٹا اور سسکیچون سے لبرلز کو کوئی نمائندگی نہیں ملی جو انکے لئے تشویش کا با عث ہے- ٹروڈو کا اپنا صوبہ کیوبیک لبرلز اور بلاک کیوبیک میں تقسیم ہو گیا ہے- یہاں١٩٧٠ میں اور پھر دوبارہ چند سال پیشترکینیڈا سے علیحدگی کے حوالے سے ایک ریفرینڈم بھی ہو چکا ہے جو بہت تھوڑے سے مارجن سے فیڈریشن کے حامیوں نے جیت لیا تھا- لیکن اب بلاک کیوبیک کی مقبولیت بڑھنے سے یا سوال بھی ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ کیا کینیڈا کی علیحدگی کے حوالے سے یہاں کوئی دوسرا ریفرنڈم ہونے کے امکانات ہیں؟

امیگرینٹ اشو : حسب توقع دوسرے مغربی ملکوں اور کینیڈا کے پچھلے الیکشن کی طرح یہ الیکشن بھی امیگرینٹ سیاست کے گرد گھومتا رہا- کنزرویٹو، بلاک کیوبیک اور پیپلز پارٹی نے لبرل پارٹی پر امیگریشن کے حوالے سے سخت تنقید کی اور امیگرنٹس سے متعلق اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کے بتایا- انڈیا اور امریکی الیکشن کی طرح یہاں بھی فیک یعنی جعلی خبروں کو پھیلا کر عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی-
سفید فام اکثریت کے ملک میں یہ افواہ اڑانے کی کوشش کی گئی کہ ٹروڈو اسلام قبول کر چکے ہیں اور مسلم امیگرنٹس کینیڈا میں غالب آ جائیں گے اور داعش کی طرح یہاں اپنی شریعت نافذ کریں گے- پیپلز پارٹی نے جس نکتے پر توجہ مرکوز رکھی وہ یہ تھی کہ پناہ گزینوں کی تعداد کے لحاظ سے مغربی دنیا میں کینیڈا پہلے نمبر پر آتا ہے- جبکہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا پناہ گزینوں کو آباد کرنے کے حوالے سے اس وقت بھی دسویں نمبر پر آتا ہے- یاد رہے پیپلز پارٹی ایک نشست بھی حاصل نہ کر سکی- یاد رہے مغربی دنیا اور صنعتی ممالک میں پچھلی کئی دھائیوں سے آبادی میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے-

آبادی میں اضافہ ترقی یافتہ ممالک کی بقا کے لئے ضروری ہے- شرح پیدائش میں اضافے کے لئے مغربی دنیا میں بے تحاشہ مالی فوائد اور سہولتیں دی جاتی ہیں لیکن آبادی میں کمی کا جن قابو میں نہیں آ رہا- اسکا دوسرا علاج امیگریشن ہو سکتا ہے- لیکن دائیں بازو کے نسل پرست سیاست دان عوام میں ڈر اور نفرت کی سیاست کر کہ امیگرنٹس کے داخلے کو بند کرنا چاہتے ہیں یا کم از کم اس مسئلے کو سیاسی فوائد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں- جبکہ مرکل اور ٹروڈو جیسے سنجیدہ سیاست دان ملکی ترقی اور بقا کے لئے مہاجرین کی اہمیت کو سمجھتے ہیں- ٢٠١٨ کی پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق لبرل حکومت کینیڈا میں اگلے تین سال میں ایک ملین امیگرنٹس کو آباد کرنے کا پلان ہے- یہ تعداد بتدریج بڑھانے کا پلان ہے لیکن یہ کنزرویٹوز کے ادوار میں امیگرینٹس کے داخلے سے بہت زیادہ نہیں-ٹروڈو اس سب کے باوجود کیسے جیتنے میں کامیاب ہوا؟ ان سب الزامات سے ایک بات تو ثابت ہے کہ باقی مغربی دنیا کی طرح کینیڈا میں بھی احتساب کا نظام بہت سخت ہے۔ ٹروڈو نے ہر الزام کا سامنا متانت سے کیا اور کئی مرتبہ غلطی پر ڈٹنے کے بجائے اپنی غلطی تسلیم کر کہ قوم سے معافی بھی مانگی- اور ہر مرحلے سے بخیر و خوبی کامیابی سے گزرتے رہے ہیں

ٹروڈو کی پارٹی کو سفید فام قوم پرستی اور اسلاموفوبیا کے بعد سب سے زیادہ نقصان ایس این سی لاویلین اسکینڈل نے پہنچایا لیکن اسکے باوجود لبرلز سیٹوں کی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی- اسکی وجہ انکا اپنے الیکشن وعدوں پر قائم رہنا بھی ہو سکتا ہے جسکا انڈیکس غیر جانبدار اسکالرز نے ٥٢ فیصد لگایا ہے جو کینیڈا کی تاریخ میں اب تک کسی حکومت کا بلند ترین انڈیکس ہے- اور بلا شبہ انکی مقبولیت میں انکی کرشماتی اور عوام میں گھل مل جانے والی شخصیت نے بھی کردار ادا کیا ہے- اب دیکھنا یہ ہے کہ انہیں اپنی دوسری ٹرم میں کن مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ اس سے کیسے نمٹتے ہیں- امید یہ ہے کہ انکی مخالف پارٹیاں اسلاموفوبیا اور اینٹی امیگرینٹ کارڈ کھیلتی رہیں گی- کلائمیٹ چینج کے موقف کو بھی چیلنج کیا جاتا رہے گا- کینیڈا کے مقامی قبائل کے حق میں ٹروڈو کے جو وعدے ہیں انکے حوالے سے بھی انکی راہ میں بھی کنزرویٹو حائل رہے ہیں اور مستقبل میں بھی یہی اندیشہ ہے- ٹروڈو کی صلاحیت کا اصل امتحان اب ہے کہ یہ کس طرح اقلیتی حکومت کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے ان چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں-

باکس اسٹوری : کینیڈا کے الیکشن میں سیٹیں کیسے تقسیم ہوتی ہیں؟ جگمیت سنگھ کینیڈا کی تیسری بڑی جماعت کی قیادت کیسے حاصل کی؟
کینیڈا کے الیکشن میں سیٹیں پارٹی کے بڑوں کے فیصلے کے مطابق تقسیم نہیں ہوتیں بلکہ ان کے لئے الیکشن سے قبل اندرونی الیکشن ہوتے ہیں جن میں پارٹی کے رجسٹرڈ ووٹر ووٹ دے کر اپنے امیدواریعنی نمائندے کو منتخب کرتے ہیں۔ یہ نمائندہ کسی بھی نسل یا مذہب سے تعلق رکھنے والا ہوسکتا ہے۔ عام طور سے اقلیتیں اگر کسی علاقے میں بڑی تعداد میں مقیم ہوں تو ان کے لئے اپنے نمائندے چننا آسان ہوتا ہے۔ این ڈی پی کے لیڈر جگ میت سنگھ کو جو روایتی سکھوں کی طرح پگڑی اور داڑھی رکھتے ہیں برٹش کولمبیا اور بریمپٹن کے این ڈی پی ممبران نے بڑی تعداد میں ووٹ دیکراس پارٹی کا لیڈر چنا۔ یہ دونوں علاقے سکھ اکثریت کے علاقے ہیں۔

اس طرح انہوں نے میریٹ پر اقلیت سے تعلق رکھنے والے کینیڈا کے پہلے لیڈر کا مقام حاصل کیا جو کسی فیڈرل پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں- اہم بات یہ ہے کہ ان کی قیادت میں این ڈی پی پچھلے الیکشن کے مقابلے میں 13فیصد ووٹوں جبکہ18 سیٹوں سے محروم ہوئی۔ یہ کینیڈا کی تیسری مقبول پارٹی کا اسٹیٹس کھو کرچوتھی بڑی پارٹی کی جگہ آگئی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ سفید فام اکثریتی ووٹر پر ان کے اقلیت سے تعلق رکھنے، ان کے مذہب اور نسلی بیک گراو ¿نڈ کا کتنا اثر ہوا ہو گا لیکن الیکشن نتائج کے مطابق ان کی پارٹی نے بلا شبہ ان کی قیادت میں نقصان اٹھایا ہے لیکن الیکشن نتائج آنے پر ان کی تقریر پر ان کے ووٹرز کی خوشی دیدنی تھی۔ راقم کو محسوس ہوا کہ یہ لبرل پارٹی سے زیادہ خوش ہیں جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ لبرل پارٹی کا ان سے اتحاد ہونے کا بہت زیادہ امکان ہے کیونکہ دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں این ڈی پی اپنے ایجنڈا کے لہذ سے لبرلز کے زیادہ قریب ہے اور اب این ڈی پی پہلی مرتبہ اوٹاوا میں حکومتی نشستوں پر بیٹھنے کے امکانات ہیں۔ جگمیت سنگھ کو نائب وزیراعظم کا عہدہ دینے کی باتیں بھی کی جا رہی تھیں۔