الیکٹرک وہیکل پالیسی: پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں کیسے آئیں گی؟

پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں اور موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں کو کابینہ کی منظور شدہ الیکٹرک وہیکل پالیسی کے ذریعے کچھ مراعات پیش کی گئی ہیں جن میں ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں رعایت شامل ہیں۔

پالیسی کی منظوری گذشتہ ہفتے منگل کو دی گئی جس میں کہا گیا کہ سنہ 2030 تک ملک کی 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی جبکہ کچھ مقامی سی این جی سٹیشنز کو الیکٹرک چارجنگ یونٹس بنایا جائے گا۔

تاہم الیکٹرک گاڑیوں کے لیے انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی کے باعث ماہرین ان اہداف کو ’غیر حقیقی‘ قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب ملک کی بڑی آٹو کمپنیوں نے تاحال اس پالیسی کی حمایت کا عندیہ نہیں دیا۔

عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور فضائی آلودگی کے پیش نظر کئی ممالک الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حمایت کر رہے ہیں۔

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں کیسے آئیں گی؟
منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بتایا کہ پاکستان میں کئی کمپنیاں الیکٹرک گاڑیاں اور موٹر سائیکلز بنانے کے لیے تیار ہیں اور وہ محض حکومتی پالیسی کی منتظر تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی صنعت کاروں کو دی گئی سہولیات سے الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں کو عام گاڑیوں کے برابر لایا جائے گا۔ ملک امین اسلم کے مطابق ’الیکٹرک گاڑیوں کا خرچہ ایک تہائی ہوتا ہے‘ جبکہ حکومت اس کے فروغ سے تیل کا امپورٹ بل کم کرنا چاہتی ہے۔

اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے ابتدائی مرحلے کے لیے استعمال شدہ الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کم کر دی گئی ہے۔


اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں رہنے والوں کے لیے اب باہر سے الیکٹرک گاڑی منگوانا اور یہاں کی سڑکوں پر چلانا پہلے کی نسبت آسان ہوجائے گا۔

الیکٹرک وہیکل پالیسی کی کچھ نمایاں خصوصیات
آئندہ چار سالوں میں ایک لاکھ گاڑیوں کو برقی ٹیکنالوجی پر لایا جائے گا جبکہ اسی دوران پانچ لاکھ موٹر سائیکل اور رکشے بجلی پر چلیں گے۔
الیکٹرک وہیکل کے پرزے اور بیٹری کی درآمد پر ایک فیصد کسٹم ڈیوٹی ہو گی جبکہ پاکستان میں بننے والی الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر ایک فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگایا جائے گا۔
پاکستان میں بننے والی الیکٹرک وہیکلز پر کوئی رجسٹریشن فیس اور ٹوکن ٹیکس نہیں ہو گا۔ ان کے لیے خاص رجسٹریشن پلیٹس متعارف کروائی جائیں گی۔
دو سال کے لیے استعمال شدہ الیکٹرک گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر 15 فیصد کسٹم ڈیوٹی ہو گی۔
ابتدائی مرحلے میں تین ہزار سی این جی سٹیشنز کو الیکٹرک وہیکل چارجنگ یونٹس بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ابتدائی ہدف کے طور پر 2030 تک ملک کی 30 فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے تیل کے امپورٹ بل میں دو ارب ڈالر کی بچت ہو گی۔
الیکٹرک گاڑیاں بنانے کے لیے سپیشل اکانومک زونز بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
چونکہ الیکٹرک گاڑیوں میں بیٹری کا مرکزی کردار ہوتا ہے، اس لیے ملک امین اسلم نے قسطوں پر الیکٹرک بیٹری فروخت کرنے کا ذکر کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت لوگ گاڑیوں کی بیٹری چارج کرنے کے لیے چارجنگ یونٹس کا استعمال کرسکیں گے یا اپنی بیٹری کو چارج کرنے کے بجائے پہلے سے چارج شدہ متبادل بیٹری حاصل کر سکیں گے۔

وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ الیکٹرک کاروں میں ڈلنے والی لیتھیم آئن بیٹری بنانے والی ایک کورین کمپنی نے پاکستان کے شہر لاہور میں اپنا پلانٹ لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔


’الیکٹرک وہیکل پالیسی کے اہداف غیر حقیقی ہیں‘
بی بی سی نے فرجیل جاوید سے بات کی ہے جو ’ایس اے پی‘ نامی ایک جرمن کمپنی کے ساتھ منسلک ہیں اور پاکستان میں پبلک سیکٹر ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق ملک میں انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی کے باعث اس پالیسی کے اہداف ’غیر حقیقی‘ ہیں۔ یہاں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی قابل ذکر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ دوسرے ممالک نے بھی ایسا کیا ہے لیکن تب تک وہ تکنیکی اعتبار سے ترقی کر چکے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ عام آدمی موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں انفرادی بچت کے بارے میں زیادہ فکرمند ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ پالیسی وزارت موسمیاتی تبدیلی نے بنائی ہے جبکہ اس میں وزارت صنعت اور موجودہ صنعت کاروں کو پوری طرح شامل نہیں کیا گیا۔‘

دوسری طرف لاہور میں قائم الیکٹرک موٹرسائیکل کمپنی اوج ٹیکنالوجیز کے سی ای او عثمان شیخ نے اس پالیسی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے اس پر اپنے تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجموعی طور پر یہ پالیسی اچھی ہے لیکن اگر اس میں شمسی توانائی کی طرح سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی کو صفر پر لایا جاتا تو اور بھی اچھا ہوتا۔

’اگر (الیکٹرک موٹر سائیکلز اور گاڑیوں کے) خریداروں کے لیے مراعات کا اعلان ہو جائے، جیسے ٹول ٹیکس اور ایکسائز ٹیکس کی معافی، تو لوگوں کے لیے اس ٹیکنالوجی کو اپنانا مزید آسان ہو جائے گا۔‘

عثمان شیخ کہتے ہیں کہ لوگ تیزی سے الیکٹرک وہیکلز کی طرف صرف اسی صورت آ سکیں گے اگر انھیں اس میں فوری فائدہ نظر آئے گا۔


سی این جی سٹیشن اور الیکٹرک چارجنگ یونٹ
وزیراعظم کے مشیر نے کہا ہے کہ موجودہ انفراسٹرکچر کو الیکٹرک گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے شفٹ کیا جا سکتا ہے۔

پالیسی میں کچھ پٹرول پمپس اور سی این جی سٹیشنز کو الیکٹرک چارجنگ یونٹس بنانے تجویز دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تین ہزار سی این جی سٹیشن اس وقت بند ہیں کیونکہ گیس کی بندش اور کمی ہے۔ ان تمام سٹیشنز کو الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشن میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘

سمارٹ گورننس کے ایڈوائزر فرجیل جاوید نے بتایا ہے کہ جب الیکٹرک موٹر سائیکل اور گاڑیاں عام ہونا شروع ہوں گی تو لوگوں کو جگہ جگہ چارجنگ کی ضرورت پیش آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’الیکٹرک کاروں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر بہت اہم ہے ورنہ پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی ناکام ہو جائے گی۔‘


وہ کہتے ہیں کہ اس پالیسی کے تحت لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں پائلٹ منصوبہ متعارف کروایا جائے گا اور سی این جی ایسوسی ایشن کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے۔

ان کے مطابق ان سی این جی سٹیشنز میں پہلے سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے اور پالیسی میں حکومتی اداروں کو بجلی فراہم کرنے اور اس کی قیمت تعین کرنے کی ذمہ داری گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سٹیٹ بنک کو کہا گیا ہے کہ آپ (گیس سٹیشن مالکان کی) مالی معاونت اور سبسڈی پر کام کریں۔‘

فرجیل جاوید کے مطابق ان سہولیات سے مالکان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کو باآسانی اپنا سکیں۔

الیکٹرک موٹرسائیکل کمپنی اوج ٹیکنالوجیز کے سی ای او عثمان شیخ کے مطابق سی این جی سٹیشنز کو الیکٹرک چارجنگ یونٹ میں تبدیل کرنے کے لیے محض ان میں چارجنگ کی سہولت درکار ہو گی۔

وہ کہتے ہیں کہ فاسٹ چارجنگ کی مدد سے موٹر سائیکل یا رکشے کو کم از کم 10 سے 15 منٹ میں چارج کیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق ان کی کمپنی کی موٹر سائیکل ایک بار چارج ہونے پر تقریباً 70 کلومیٹر تک چل سکتی ہے۔ تاہم الیکٹرک گاڑی کی چارجنگ کا دار و مدار بیٹری کے سائز پر ہوتا ہے اور اس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔


’ہم سے مشاورت نہیں کی گئی‘
پاکستان میں گاڑیوں کے پرزے بنانے والی تنظیم ’پاپام‘ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی پالیسی سے مزید افراتفری پیدا ہو گی۔

آٹو کمپنیوں کا اعتراض ہے کہ پچھلی حکومت نے سنہ 2016 تا 2021 کے لیے آٹوموٹو ڈیولپمنٹ پالیسی دی تھی جس میں مقامی صنعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے حوالے سے اقدامات متعارف کر وائے گئے تھے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ الیکٹرک وہیکل پالیسی کی منظوری سے قبل مقامی آٹو کمپنیوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔

الیکٹرک وہیکل پالیسی میں سی این جی سٹیشنز کے استعمال کی تجویز پر جب بی بی سی نے سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین غیاث پراچہ سے بات کی تو انھوں نے بھی کچھ یہی جواب دیا۔ ’حکومت پاکستان نے یہ پالیسی بنانے سے پہلے ہم سے کسی قسم کا کوئی مشورہ نہیں کیا۔‘

تاہم انھوں نے کہا ہے کہ اگر حکومت غیر فعال سی این جی سٹیشنز کو الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے تو وہ ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔