سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیرون ملک علاج: ایئر ایمبولینس اتنی مہنگی کیوں؟

ابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کی غرض سے ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن لے جایا جائے گا۔ مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک لے جانے کے لیے ایئرایمبولینس کا انتظام کر لیا گیا ہے جو بدھ کو پاکستان پہنچ جائے گی۔مریم اورنگزیب کے مطابق سابق وزیر اعظم کی نازک صحت دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے ایئر ایمبولینس کا انتظام کرنے کے لیے کہا۔

ان کا کہنا تھا ’نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد قابل سفر سطح پر لانے کے لئے کل انھیں طبی طور پر تیار کریں گے۔ نواز شریف کی طبیعت ٹھیک نہیں، ان کی علالت کے حوالے سے ڈاکٹروں کی تشویش ہر لمحہ بڑھتی جا رہی ہے۔‘

ایئر ایمبولینس ہوتی کیا ہے؟
سول ایویشن اتھارٹی کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ عابد راؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک جہاز ہی ہوتا ہے جس میں ضرورت کے مطابق تمام میڈیکل کے آلات نصب کردیے جاتے ہیں۔ جس جہاز میں یہ سہولیات نہ ہوں اور وہ مریض لے کر جائے تو وہ کیریئر تو کہلا سکتا ہے لیکن اسے ایمبولینس نہیں کہا جا سکتا۔
دنیا کی مختلف کمپنیاں ایئر ایمبولینس کی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سعد ایدھی کے مطابق ایئر ایمبولینس ایک میڈیکل یونٹ کی طرح ہوتی ہے، جس میں مریض کے لیے ہر ممکن سہولت موجود ہوتی ہے۔ ایئر ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر تک موجود ہوتے ہیں۔

ایئر ایمبولینس میں بنیادی سہولیات کے علاوہ ڈاکٹر بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ اگر دوران سفر مریض کی طبعیت بگڑ جائے تو ایسی صورت میں فوری طور پر علاج شروع کردیتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایئر ایمبولینس ایک ہسپتال کی ایمرجنسی جیسی سہولت میں بدل جاتی ہے۔

کیا پاکستان میں یہ سہولت میسر ہے؟

عابد راؤ کے مطابق یہ بہت ہی مہنگا کام ہے اور پاکستان جیسا ملک یہ برداشت ہی نہیں کر سکتا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستان میں یہ کوئی استعمال نہیں کرتا۔ ان کے مطابق ’بلیو بک‘ کے مطابق پاکستان میں یہ سہولت کچھ اہم عہدیداران کو حاصل ہے جن میں صدر مملکت اور وزیر اعظم شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے سب سے مہنگی ایئر ایمبولینس اس وقت عرب ممالک کے حکمرانوں کے استعمال میں ہیں۔اس وقت پاکستان میں ایئرو میڈیکل یعنی ایئر ایمبولینس کی سہولت ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس ہے لیکن یہ صرف اندرون ملک ہی سفر کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شاہ محمود قریشی: پاکستان نے سی پیک پر امریکی موقف مسترد کردیا ہے

سعد ایدھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس چھوٹی ایئر ایمبولینسیں ہیں جو بیرون ملک سفر کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ ان تین ایئر ایمبولینسوں میں سے دو جہاز جبکہ ایک ہیلی کاپٹر ہے۔ان میں صرف چھ سیٹیں ہی ہوتی ہیں۔ عابد راؤ کے مطابق یہ کیریئر ہوتے ہیں انھیں ایمبولینس نہیں کہا جا سکتا۔سعد ایدھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کمپنیوں کی ایئر ایمبولنس میں سہولیات اور گنجائش زیادہ ہوتی ہے۔ وہ جیٹ انجن کی وجہ سے طویل سفر بھی کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے یہ کمپنیاں اپنی ایئر ایمبولینس دنیا کے مختلف ہوائی اڈوں پر کھڑا رکھتی ہیں۔

پاکستان سے قریب تر مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ایئر پورٹس پر یہ ایمبولینس دستیاب رہتی ہیں۔

خرچہ کتنا آتا ہے؟

ایدھی فاؤنڈیشن فی گھنٹہ 60 ہزار روپے کرایہ وصول کرتی ہے۔ سعد ایدھی کے مطابق بڑی ایئر ایمبولینس رکھنے والی کمپنیاں فاصلے کے علاوہ سہولیات اور گنجائش کے اعتبار سے بھی کرایہ وصول کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ طویل سفر طے کرنے والی زیادہ تر ایمبولینس میں سٹیچر کے علاوہ بارہ سیٹیں ہوتی ہیں۔عابد راؤ کے خیال میں چونکہ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سپریم کورٹ کی طرف سے نااہلی کے فیصلے کے نتیجے میں چھوڑنی پڑی اس وجہ سے جس پر جرم ثابت ہوجائے تو پھر وہ ایسی سہولیات کا حقدار نہیں رہتا۔

ان کے خیال میں اب نواز شریف کو یہ خرچہ خود ہی برداشت کرنا ہوگا۔ ابھی سرکاری طور پر اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا کہ کیا سابق وزیر اعظم کو علاج کی سہولت میسر ہو گی۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کے رکن شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ برادر اسلامی ملک کی ایئر ایمبولینس پاکستان پہنچ چکی ہے جو سابق وزیر اعظم کو علاج کے لیے بیرون ملک لے جائے گی۔عابد راؤ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا طیارہ اس وقت سب سے مہنگی ایئر ایمبولینس شمار کی جاتی ہے جس میں وہ نیو کلیئر کوڈ تک بھی لے کر گھوم رہا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ورکشاپ کا چھوٹا - سید طلعت حسین

پاکستان سے کون کون ایئر ایمبولینس پر بیرون ملک گیا؟

عابد راؤ کے مطابق کچھ کیسوں میں آرمی چیف ملک کے صدر بھی بنے اور انھوں نے ماضی میں ایسی تمام سہولتیں استعمال کی ہیں۔ سابق آرمی چیف میں جنرل ایوب خان، جنرل یحیٰ خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف پاکستان کے صدور بھی رہ چکے ہیں۔عام آدمی کے لیے علاج کی غرض سے ایئر ایمبولینس کا استعمال ممکن نہیں ہے۔ تاہم حکومت کی خصوصی دلچپسی سے یہ سب ممکن ہوسکتا ہے۔

ملالہ یوسفزئی کو 2012 میں سوات میں سکول سے واپسی پر پاکستانی طالبان نے سر پر گولیاں ماری تھیں جس سے وہ کومے میں چلی گئی تھیں۔ ملالہ کو راولپنڈی کے ایک ملٹری ہسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد مزید علاج کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن بھیجا گیا تھا۔ یہ ایئر ایمبولینس متحدہ عرب امارات کی جانب سے فراہم کی گئی تھی اور اس میں مکمل میڈیکل عملہ موجود تھا۔