سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے- خالد مسعود خان

اسے محض ایک لفظ سے نہیں ٹرخایا جا سکتا۔ یہ نااہلی‘ نالائقی‘ بے حسی‘ افراتفری‘ عدم منصوبہ بندی‘ بے توجہی‘ بے رحمی‘ لاپرواہی اور انسانی جان کی بے توقیری کا مجموعہ ہے جو کچھ ہماری نئی بننے والی موٹرویز پر ہو رہا ہے۔ کیا انسانی جان اتنی ارزاں اور بے قیمت ہے کہ افراتفری میں کیے گئے افتتاحوں کی نظر ہو جائے؟ حکمرانوں کو کسی چیز کی باقاعدہ اور مکمل تکمیل سے غرض نہیں۔ انہیں فیتے کاٹنے سے غرض ہے۔ انہیں ''پھٹیوں‘‘ کی نقاب کشائی سے دلچسپی ہے۔ سو‘ نامکمل اور ضروریاتِ زندگی سے محروم ایسی موٹرویز کے افتتاحی پروگرام جاری و ساری ہیں‘ جن پر نہ حفاظتی جنگلے مکمل ہیں اور نہ ہی حفاظتی انتظامات‘ جن میں سرفہرست موٹروے پولیس کی موجودگی ہے۔

ہمارے ہاں عوام جس قدر ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ہیں‘ وہ سب کو معلوم ہے‘ ایسے میں قانون کا سختی سے نفاذ‘ سب سے اہم چیز ہے اور وہی مفقود ہے۔
مورخہ ستائیس اکتوبر کو ملتان تا پنڈی بھٹیاں موٹروے ایم فور کے شام کوٹ (خانیوال) عبدالحکیم سیکشن کا افتتاح میرے پیارے شاہ محمود قریشی نے فرما دیا۔ میں اٹھائیس اکتوبر کی صبح ساڑھے چھ بجے موٹروے پر تھا۔ میں عین اسی مقام سے موٹروے پر چڑھا تھا‘ جہاں محض اٹھارہ گھنٹے قبل وفاقی وزیر خارجہ نے اس تیس کلو میٹر کے لگ بھگ فاصلے والے سیکشن کا افتتاح کیا تھا۔ میں اپنے ایک گزشتہ کالم میں اس سیکشن کی حالت کا تفصیلی ذکر کر چکا ہوں‘ لہٰذا اسے دہرانا اپنے اور قارئین کے وقت کا ضیاع ہے‘ لیکن فی الوقت اس کالم کے لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس عاجز نے کہا تھا کہ نامکمل موٹروے کو محض افتتاح کرنے‘ فیتہ کاٹنے‘ تصویری سیشن کرنے‘ اخباری خبر لگوانے اور نمبر ٹانکنے کی غرض سے کھولا جا رہا ہے‘ جبکہ اس تیس کلو میٹر کے سیکشن پر سب سے اہم اور ضروری چیز ہی موجود نہیں اور وہ ہے حفاظتی انتظامات۔ نہ جنگلے مکمل تھے‘ نہ سڑک کے کنارے والی ریلنگ۔ اردگرد کے لوگ باگ موٹروے پر چہل قدمی فرما رہے تھے۔ آر پار جا رہے تھے اور اس تیس کلو میٹر کے سفر کے دوران دو کتے مرے پڑے تھے ‘جو کسی گاڑی سے ٹکرانے کا نتیجہ تھا۔ یہ میری معلومات کے مطابق‘ دنیا کی واحد موٹروے تھی ‘جس پر انسان اور جانور یکساں آزادی کے ساتھ گھوم پھر رہے تھے۔

دونوں اطراف سے گاڑیاں بلا روک ٹوک آ جا رہی تھیں اور موٹروے پولیس مفقود تھی۔ تین روز قبل اسی افراتفری میں افتتاح شدہ سیکشن پر ایک ٹریفک حادثے میں چار لوگ اپنی جان سے چلے گئے ہیں۔ اس حادثے سے چند روز قبل ایک حادثے میں ایک شخص جاں بحق ہوا ۔ آپ کو یہ بتانا نہایت ہی ضروری ہے کہ اُس ''باقاعدہ ادھورے‘‘ افتتاح سے قبل غیر سرکاری طور پر کھلنے کے دوران اسی مختصر سے سیکشن پر لگ بھگ دس کے قریب لوگ مختلف حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ یہ سارے ایکسیڈنٹ اس سیکشن پر پڑی ہوئی رکاوٹوں اور دوطرفہ ٹریفک کے باعث پیش آئے تھے۔ اب حالیہ حادثے کے بعد اچانک کسی سیانے کو خیال آیا ہے کہ اس سیکشن پر بھی موٹروے پولیس ہونی چاہیے۔ سو (مورخہ 8نومبر) ایس ایس پی موٹرویز M-3/M-4 نے اس سیکشن پر بعد از خرابی ٔبسیار موٹروے پولیس کو دو دن کے اندر اندر تعینات کرنے کا حکم جاری فرما دیا ہے۔ کیا اس حکم نامے سے جاں بحق ہونے والے پانچ افراد کی واپسی ممکن ہے؟ کیا ان کے گھر والوں کو ان کی کمی کا مداوا ہو جائے گا؟ آخر ہم یہ سب کچھ پانی سر سے گزر جانے کے بعد ہی کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ کام افتتاح سے پہلے نہیں ہو سکتا تھا؟ یا دوسرے لفظوں میں افتتاح اس کام کے بعد نہیں ہو سکتا تھا؟
چلیں اور سنیں! مورخہ پانچ نومبر کو ملتان تا سکھر موٹروے کا افتتاح بھی ہو گیا ہے۔

سی پیک کے کھاتے میں بننے والی یہ موٹروے M-5 ہے‘ اور فی الحال پاکستان کی سب سے طویل موٹروے ہے۔ اس کی ملتان تا سکھر لمبائی 392کلو میٹر ہے۔ الحمد للہ اس چار سو کلو میٹر لمبی موٹروے پر نہ ریسٹ ایریا ہی بنے ہیں اور نہ ہی پٹرول پمپ نامی کوئی شے موجود ہے۔ موٹرویز پر لکھا ہوتا ہے "Tiredness Kills" یعنی تھکن ہلاکت خیز ہے اور اس آٹھ کلو میٹر کم چار سو کلو میٹر طویل موٹروے پر نہ کوئی ریسٹ ایریا ہے اور نہ ہی سروس ایریا۔ سب کے سب نامکمل‘ ناموجود اور ادھورے ہیں۔ نہ دوران سفر پانی پینے کی سہولت ہے اور نہ ہی اپنے ذاتی بندوبست پر پیئے گئے پانی کے قدرتی اخراج کی کوئی معقول صورت ہے۔ اس موٹروے کے افتتاح کے ساتھ ہی ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے‘ جس کی چند دلچسپ اور ''عبرتناک‘‘ ہدایات درج ذیل ہیں:۔
o۔ ایم فائیو ٹریفک کے لیے کھل گئی ہے۔

o۔ اپنی گاڑی کا فیول ٹینک سکھر یا ملتان سے فل کروا لیں۔
o۔ ملتان میں یہ سہولت شاہ شمس انٹرچینج کے ''باہر‘‘ موجود ہے۔
o۔ پانی اور ریفریشمنٹ ہمراہ رکھیں۔
اور سب سے اہم ہدایت:
o۔ رات کو فیملی کے ساتھ سفر سے احتراز کریں۔
یعنی نہ کوئی سہولت ہے اور نہ ہی سکیورٹی اور موٹروے کھول دی گئی ہے۔

ادھر مولانا فضل الرحمن کا دھرنا کئی چیزوں پر حاوی آ گیا ہے اور بہت سے معاملات کو کھا گیا ہے۔ کشمیر ایشو تو خیر سے اس ساری مہم جوئی کا سب سے بڑا ''مقتول‘‘ ہے‘ تیز گام کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے 75 مسافر بھی اس دھرنے کا رزق بن گئے ہیں اور(مورخہ 9نومبر) کے اخبار میں اس حادثے سے متعلق چھوٹی سی ایک کالمی خبر اخبار کی زینت تھی کہ سانحہ تیز گام کے زخمیوں میں سے ایک زخمی مسافر نشتر ہسپتال سے ڈسچارج ہو گیا ہے۔ اب صرف ایک زخمی زیر علاج ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ ادھر بے حسی اور بے شرمی کا یہ عالم ہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید اس سانحے پر مستعفی ہونے کی بجائے بڑے فخر سے اپنی پیش گوئیوں کے سچ ہونے پر پھولے نہیں سما رہے کہ میں نے کئی ماہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نواز شریف سے ایک پیسہ بھی وصول نہیں ہوگا اور نواز شریف کو انسانی بنیاد پر ضمانت ملی‘ ڈھیل یا ڈیل نہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔

عجب زمانہ آ گیا ہے کہ مثال دینے کے لئے بھی کوئی مثال نہیں مل رہی کہ ہمیں کس قبیل کے وزیر ملے ہیں؟ کسی کو بھی اپنے کام سے‘ اپنے محکمے سے‘ اپنی ذمہ داری سے اور اپنی وزارت کے معاملات سے کوئی غرض نہیں۔ دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانے سے اور محض بیان بازی سے کسی وزیر کو فرصت نہیں مل رہی۔ عمران خان ٹرین حادثات پر وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبات کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر میں ہوتا تو استعفیٰ دے دیتا۔ غالباً اس وقت انہیں یقین نہیں تھا کہ پاکستان پر ایسا برا وقت بھی آ سکتا ہے۔شیخ رشید کو سانحہ تیز گام پر نہ کوئی ملال ہے اور نہ ہی شرمندگی۔ ظاہر ہے یہ ان لوگوں کا قصور ہے‘ جنہوں نے گاڑی میں چولہا جلایا۔ ان لوگوں کی نااہلی ہے‘ جنہوں نے چولہے اور سلنڈر گاڑی میں جانے دیئے۔ بھلا وزیر کا کیا کام کہ وہ مسافروں کی سامان کی تلاشی لیتا پھرے۔ حسب ِسابق ایک انکوائری ہوگی۔ دو چار نچلے درجے کے ملازموں کو سزا ہوگی اور پھر راوی چین لکھے گا۔ فی الحال وزیر ریلوے کو دھرنے کی پڑی ہوئی ہے۔ اپنی پیش گوئیوں کے درست ہونے کی سرشاری چڑھی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو جگتیں مارنا بھلا کون سا آسان کام ہے‘ جو وہ کر رہے ہیں۔

عمران خان کو کرتار پور راہداری کی پڑی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو وزیراعظم کے استعفے کی پڑی ہوئی ہے۔ شیخ رشید کو ریلوے کی بجائے سیاسی بیانات اور مستقبل کی پیش گوئیوں کی پڑی ہوئی ہے اور ریلوے ‘گزشتہ ایک سال سے حادثات کا ایک نیا ریکارڈ قائم کر چکا ہے۔ اس ساری مارا ماری اور افراتفری میں عوام بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ اسے مہنگائی‘ بے روزگاری‘ عدم مساوات‘ طبقاتی تقسیم‘ عدم تحفظ اور عدل و انصاف سے محرومی کی پڑی ہوئی ہے‘ لیکن سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ کسی کو کسی دوسرے کی رتی برابر فکر نہیں۔
کاش! سب کو اپنی اپنی کی بجائے کسی دوسرے کی پڑی ہوتی۔