مادیت پرستانہ نظام - صائمہ وحید

مادیت پرست تہذیب کے علمبردار، نگھبان ہر زمانے میں موجود رہے۔مادہ پرست نظام مختلف اشکال میں آج بھی معاشرے موجود ہے۔بلکہ ستم یہ ہے کہ اسلام کے بن خوبصورت پیراہن میں لپیٹ کر مادہ پرست نظام کی تعمیر و توسیع کا عمل جاری ہے۔یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہے۔

مادہ پرست تہذیب کا دائرہ " اپنی ذات، اپنی خواہش، اپنے مفادات" کے گرد گھومتا ہے۔ معاشرے میں طبقاتی تقسیم پیدا کرتا ہے جاگیردار ، ذمیندار ، سرمایہ دار، مڈل کلاس، امیر غریب، طبقات کے درمیان خلیج بڑھتی ہے۔معاشرے میں اضطراب ، انتشار اور مختلف امراض پروان چڑھتے ہیں۔۔ تشدد کے نئے نئے طریقے ایجاد کئے جاتے ہیں۔خصوصا بچوں پر بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات افسوس ناک ہیں۔انتہا پسندی ، طاقت کا استعمال ، تکبر، ظلم ، ایذا رسانی نے ہمارے معاشرے میں وبائی امراض کی شکل اختیار کر لی ہے۔جان بچانے کے بجائے، جان لینا آسان ہوگیا ہے ۔مادیت پرست تہذیب کے منفی اثرات نے ہمارے تعلیمی ادارے،معاشی نظام،خاندانی نظام،ہمادے گھر وں کو متاثر کیا ہے۔اعلی اسٹیٹس کے خبط، اور بلند معیار زندگی کے حصول کی دوڑ نے حیا،اقدار و روایات کو فراموش کردیا ہے۔ ہر چیز کا ضیاع عام، آسان ہوگیا ہے۔موبائل، انٹرنیٹ پر معروفیت وقت کا ضیاع ، کھانا زیادہ پکانا ،گھر ، محفل، میں کھانے کا ضیاع۔۔شاپنگ، کپڑے ، پردے ، گھر کا سامان جلد بار بار تبدیل کرنا ، پرانا بیکار ، چیزیں اہم ، انسان بے توقیر۔۔انسانوں کی تحقیر کرنا آسان۔۔

مادہ پرستی انسان کو محدود سوچ کے دائرے میں مقید کر کے صرف اپنی خواہشات کی تسکین، راحت رسانی، نفس کا غلام بنا دیتی ہے۔معاشرے میں مادیت پرست تہذیب و تمدن کے فروغ کے خطرناک اثرات ، نقصانات ظاہر ہورہے ہیں ۔اس موذی تہذیب سے نجات کے لئے ضروری ہے کہ اخوت ، مساوات ، اعتدال ، رواداری پر مبنی اسلامی تہذیب ، طرز ذندگی بنتی کو اپنایا جائے ، ہر فرد مادیت پرستی کو کم کرنے ،سادگی،روحانیت کو اجاگر،اختیار کرے۔ایثار میانہ روی کو فروغ دینے میں اپنا حصہ ڈالےمادیت پرستی انسان کو دنیا پرستی،حرص و ہوس میں مبتلا رکھتی ہے ۔جبکہ سادگی ، قناعت ، میانہ روی خودی ، اعلی اخلاقی اقدار کو بیدار کرتی ہے۔۔نفسانفسی ختم کرنے۔اپنے اسلاف کی اقدار کو معاشرے میں سربلند کرنے کےلئے جدوجہد اپنے گھر سے شروع کریں۔اسی میں ہماری نسلوں کا محفوظ مستقبل،خاندانی نظام کی مضبوطی ، معاشرتی استحکام ، امن ، سلامتی مضمر ہے .