نجات دہندہ - زرین آصف

ایک شخص نےاپنی چھوٹی سی بچی کونہلادھلاکر تیارکروایا اوراپنےساتھ لےکرچل دیا۔ راستےمیں معصوم بچی نے بار ہا سوال کیا بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ لیکن اس نےکوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کے وہ ایک ویران جگہ پہنچ گئے وہاں اس نےایک گڑھا کھودنا شروع کیا جسمیں بچی اس کی مددکرتی رہی جب گڑھا تیار ہوگیا تو اس نے بچی کوگڑھے میں لٹا کرمٹی ڈال دی اور بچی چیختی رہی بابا ! بابا!

یہ اس دورکا واقعہ ہےجب بیٹی کا باپ ہونا باعث ذلت سمجھاجاتاتھا ۔کسی شخص کےانتقال کے بعد اسکی بیویوں وبیٹیوں کو وراثت میں تقسیم کرلیاجاتا تھا ۔باپ کے مرنے کے بعد بیٹےسوتیلی ماں سےنکاح کرلیتےتھے۔عورت کو جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھاجاتا جس کےلیےعورتیں مخصوص ہوتیں انکےگھروں پرجھنڈے لگے ہوتے تھے۔ عورت کو نہایت حقیرسمجھا جاتا تھا۔ایسےحالات میں نبیؐ عورتوں کے لیے عظیم محسن بن کرآئے آپؐ نے عورتوں کو ناصرف جینےکاحق دیا بلکہ بیٹی/ بہن کی پرورش تعلیم وتربیت پرجنت میں اپنی قربت کی بشارت بھی دی ۔ماں کےقدموں تلے جنت بتائی اور بیوی کی حیثیت سے شوہرکا لباس کہاگیا۔ جہاں نکاح کےلیے اس کی رضامندی اورمہر لازمی قرارپایا وہاں وراثت میں حصہ دیاجانےلگا۔ حجاب وستر کےاحکامات کےذریعہ اسکی حفاظت کااہتمام کیاگیا۔ہمارےنبیؐ نےمردوزن کےاختلاط کوناپسند کیا ہے خواہ مختلف ادارے ہوں یا محافل ۔ کیونکہ یہ تباہی کی طرف پہلا قدم ہے۔. عزت واحترام، تعلیم، خوراک ،لباس میں مرد کے برابر حقوق دیےگئے۔اب وہ پہلی والی عورت نہیں رہی تھی بلکہ باحیا ، پروقار، تعلیم یافتہ ،جرات مند اور خود اعتماد شخصیت کی حامل تھی۔

جسکا معاشرے کی تعمیروترقی میں کردار مرد سےکسی طورکم نہیں لیکن دائرہ عمل مختلف۔ عورت کوگھرداری اوربچوں کی تربیت جیسے بڑے کام کی ذمہ داری سونپی گئی اورمرد کو قوام بناکر اس گھر کوچلانےکیلیےمعاش کی ذمہ داری۔ یہاں تک کہ عورت کی ضروریات پوری کرنا بھی باپ بھائی شوہر بیٹے کی حیثیت سے مرد پر ہی لازم ہے اگران میں سے کوئی ناہوتو ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لِیکن افسوس آج عورت اپنےان نازونعم کو قید سمجھتے ہوئے کسی جگہ آزادی کا نعرہ لگارہی ہےتوکسی جگہ اسکو میراجسم میری مرضی کی ترغیب دی جارہی ہے۔یہ راستہ عورت کوبند گلی میں لےجاتاہے۔وہ بندگلی جس میں آج مغرب کی عورت ہے۔ جہاں ایک طرف عورت کومرد کے برابر لا کر معاش کا وہ بوجھ بھی اس کے سرڈال دیاگیا جومردکی ہی ذمہ داری تھی اوردوسری طرف ایک کھلونا سجھ لیاگیاہےکہ کھیلا جب دل بھرگیا توچھوڑ دیا۔ اس معاشرےمیں بیوی بچوں کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ وہاں ایک بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جن کےماں باپ کا کچھ پتانہیں ۔وہ معاشرہ ایک خوفناک طوفان کا روپ اختیارکرگیا ہے آج ان کےدرمیان سے ہی آوازیں اٹھنےلگی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فطرت طاقت کا سر چشمہ - عالیہ زاہد بھٹی

امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما کا کہنا ہے کہ"خدا کے واسطے گھر بناو مضبوط معاشرےکے لیے گھرضروری ہےاورمضبوط امریکہ کےلیے مضبوط معاشرہ ضروری ہے۔"
اسی طرح سوویت یونین کے صدر گورباچوف نےکہا کہ "ہمیں ایسی تحریک چلانی چاہیے کہ عورت کوگھر سے باہرنکال دیاگیاہے اس کو واپس گھر لایا جاسکے۔"
پس عورت کی کامیابی اس آزادی میں ہی پنہاں ہےجونبیؐ کی دی ہوئی ہے اسکےعلاوہ آزادی کا ہرتصور عورت کی تباہی ہے۔ کل کی عورت کی طرح آج کی عورت کےلیےبھی محمد ؐ کی ذات ہی نجات دہندہ ہے۔ آپؐ رہتی دنیا تک کی عورت کےمحسن ہیں۔ انکی اتباع ہی اس بات کی علامت ہےکہ ہم ان کو محسن سمجھتےہیں اور اللہ سےمحبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے۔"اے نبی! لوگوں سےکہہ دوکہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تومیری پیروی اختیارکرو اللہ تم سے محبت کرےگا اور تمہاری خطاوں سے درگزرفرمائےگا وہ بڑامعاف کرنےوالا اور رحیم ہے۔"