آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت داعی اعظم - امیرجان حقانی

بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم داعی اعظم ہیں۔یاد رہے کہ آپ ﷺ نے دعوت کا آغاز اپنے گھر اور قریبی دوستوں سے ہی کیا پھر پوری دنیا تک یہ کام پھیل گیا۔آپ کی زوجہ محترمہ خدیجۃ الکبریٰ، بھائی علی المرتضی ، دوست صدیق اکبر اور مولیٰ زید بن حارث نے دعوت پر لبیک کہا اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔

ان کے بعد سابقون الالون نے آپ ﷺعلیہ وسلم اور آپ کے اولین رفقاء تبلیغ کی آواز پر آمنا و صدقنا کہا اور دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔آپ ﷺ کی دعوت کے ابتدائی دنوں میں مسلمان پہاڑ کی گھاٹی میں جاکر نماز پڑھا کرتے تھے اور چھپ چھپ کر عبادات بجا لاتے۔

پھر آپ ﷺ کو دعوت اسلام کا اعلانیہ تبلیغ کا حکم ہوا۔اللہ نے ارشاد فرمایا
یا ایھاالمدثر، قم فانذر، وربک فکبر

اے کپڑے اوڑھنے والے،کھڑے ہوجا اور آگاہ کردے( گندے اعمال والوں کو) ،اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر
ان ایات کا مفہوم یہی ہے کہ اے پیارے رسول۔ اٹھ کھڑے ہوجاو اور اپنے گرد وپیش خواب غفلت میں پڑے لوگوں کوچونکا دو،۔انہیں خبر دار کرو کہ وہ کسی اندھیر نگری میں نہیں رہتے کہ جو چاہیں کرتے رہیںاور ان سے باز پرس نہ ہو۔ اور اپنے رب کی عظمت بیان کرے یہی ایک کسی نبی کا اولین کام ہے کہ اس دنیا میں بڑائی ایک خدا کے سوا کسی کی نہیں۔
معروف سیرت نگار قاضی سلیمان سلمان منصور پوری نے دعوت تبلیغ کے پنجگانہ مراتب بیان کیے ہیں۔

۱۔قریب کے رشتہ دار اور خاص احباب

۲۔ قوم اور شہر کے لوگ

۳۔ مکہ کے اطراف و جوانب کے قبیلے

۴۔ عرب کے جملہ حصص و قبائل

۵۔دنیا کی جملہ متمدنہ اقوام اور جملہ مشہور مذاہب

ان پانچ مراتب سے خوب اندازہ ہوتا ہے کہ اس غیر ترقی یافتہ دور میں بھی آپ ﷺ نے کس انداز میں دعوت و تبلیغ کا کام کیا۔آپ ﷺ نے اس تبلیغ کے لیے نہایت استحکام،استقلال اور نزہت خاطر سے ہر قسم کی مشکلات کا سامنا کیا اور اپنی تعلیم و تبلیغ کودلائل و براہین سے ثابت کردیکھایا اور آپ کا پیغام حق اطراف عالم میں پہنچ گیا۔آپ ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر دعوت حق دی۔ ہر محلہ اور گلی کوچے میں پہنچ کی توحید کی خوبیاں بیان کی اور بتوں کی پرستش سے روکا۔مختلف قبائل کی طرف دعوت اسلام کا پیغام لے کر سفر کیا۔ طائف میں بنوثقیف کو دعوت توحید دی۔قبیلہ بنو کندہ، قبیلہ بنو عامر میں تشریف لے گئے، دعوت اسلام دی ۔اس سفر میں آپ کے ساتھ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔غرض دعوت کا کام ساری زندگی جاری و ساری رکھا۔خطوط اور صحابہ کے وفود کے ذریعے اس دور کے ترقی یافتہ اور متمدن ممالک میں اسلام کا پیغام پہنچایا۔

ٓآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے چند ایک پہلو پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ایک داعی میں جتنی صفات ہونی چاہیے تھی وہ سب کی سب آپ ﷺ میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔مذاہب عالم اور ان کے بانیان پر تحقیق کرنے والے محققین اس بات پر متفق ہے کہ آپ ﷺ دنیا کے سب سے بڑے داعی ہیں اور آپ کا پیغام آپ ﷺ کی زندگی میں ہی اطراف عالم میں پہنچا تھا اور آج تک مسلسل پہنچ رہا ہے۔آپ کے اسلوب دعوت یہ ہیں۔

۱۔وقفہ وقفہ سے نصیحت کرنا

ٓآپ ﷺ علیہ وسلم ہر وقت نصیحتیں نہیں کرتے اور نہ ہی چوبیس گھنٹے دعوت و تبلیغ میں لگے رہتے بلکہ مناسب وقت میں دعوت کا کام حکمت سے کرتے اور ایک ہی محفل میں سب کچھ بتاتے نہیں بلکہ وقفہ وقفہ سے توحید اور اسلام کا پیغام پہنچاتے اور سمجھاتے عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ’’کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یتخولنا بالموعظۃ فی الایام ، کراھۃ السامۃ علینا، (بخاری حدیث نمبر 68) کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے نصیحت کرنے کے لیے ہمیں کچھ دن مقرر کردیے تھے ا س ڈر سے کہ کہیں کبیدہ خاطر نہ ہوجائے'' یعنی وقفہ اور خاص وقت میں دعوت و تبلیغ کا اہتمام کی وجہ یہ تھی کہ ہر وقت اور روزانہ کی تبلیغ سے سامعین کی طبائع پر شاق نہ گزرے۔اور آپ ﷺ نفسیات کا بھی خاص خیال رکھتے کہ کب اور کس وقت سامعین کا ذہن و قلب قبول حق کے لیے حاضر ہے۔

۲۔ حکمت و سلیقہ اور مجادلہ

حکمت و سلیقہ آپ ﷺ کی دعوت کا خاص انداز تھا۔ ہر انسان کو جب دعوت دیتے تھے تو اس کے مزاج اور نفسیات کا بھرپور خیال کرتے تھے۔اسی طرح اگر دیگر مذاہب کے لوگ مباحثہ اور مجادلہ کی خواہش کرتے تواحسن انداز میں مجادلہ ومباحثہ اور مکالمہ کے ذریعے دین کی دعوت دیتے۔یہی حکم الہی بھی ہے۔طبرانی کی روایت ہے کہ ایک نوجوان آپ ﷺ کی محفل میں داخل ہوا اور آپ سے زنا کی اجازت چاہی، حاضرین محفل اس پر لپکنے والے تھے تو آپ ﷺ نے تعرض کرنے سے منع فرمایا۔اس نوجوان کو اپنے پاس بلایا اور ان سے پوچھا۔۔ اتحبک لامک یعنی کیا تم اپنی ماں کے لیے زنا پسند کروگے؟ اس نے جواب دیا بلکل بھی نہیں۔ پھر فرمایا کہ کیا آپ اپنی بیٹی کے لیے پسند کروگے۔پھر نفی میں جواب دیا۔کافی لمبا مکالمہ ہے ۔بالآخر وہ نوجوان اچھی طرح بات سمجھ گیا اور مان لیا۔ تو آپ ﷺ نے اس نوجوان کی مغفرت کے لیے دعا کی۔اس حکمت و سلیقہ اور بہترین مکالمے کا یہ اثر ہوا کہ وہ نوجوان گناہ سے ہمیشہ کے لیے تائب ہوا۔

۳۔ سامع کا لب و لہجہ اور مرتبہ کا خیال کرنا

آپ ﷺ تبلیغ کے دوران سننے والے کا لب و لہجہ، محاورات اور طرز ادا کا بھی خوب خیال کرتے۔اگر سامع فصاحت و بلاغت پر قدرت رکھتا توآپ ﷺ فصیح و بلیغ زبان گفتگو فرماتے تاہم، تیسیر آسانی اور تفہیم کو سب چیزوں پر مقدم جانتے

۴۔ بار بار بیان کرنا یعنی تکرار کرنا

آپ ﷺ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ کا یہ پہلو انتہائی قابل ذکر ہے کہ آپ ﷺ جب صحابہ کو کوئی بات سمجھانا چاہتے تھے تو تین بار اس کو دہراتے تاکہ یہ بات نہ صرف دل کی گہرائیوں میں اتر جائے بلکہ دل پر بھی مرتسم ہوجائے۔
خلاصہ کلام

ان باتوں کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ پیارے نبی کریم ﷺ کا انداز گفتگو،اسلوب دعوت اور تفہیم کر طریق کار بہت ہی دلنشیں اور دلربا ہوا کرتا تھا۔آپ ﷺ سامعین کو کبھی زبانی سمجھاتے تو کبھی زمین پر لکیریں ڈال کر ۔کبھی تاریخی واقعات کے ذریعے سمجھاتے تو کبھی اشاروں کنایوں سے تبلیغ و تفہیم کا حق ادا کرتے۔آپ ﷺ نے کبھی چیخ چیخ کر ، غصے میں، گلہ پھاڑ کر دعوت نہیں دیا۔انتہائی نرم انداز کو اپنایا۔

آپ ﷺ نے دعوت تبلیغ کے حوالے سے اللہ کا ارشاد ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ وجادلہم بالتی ھی احسن کا بھرپور خیال رکھا۔آپ ﷺ کے داعیانہ انداز کا ذکر سیرت کی کتابوں میں تو خوب ملتا ہے۔ آج کے دعاۃ اور مبلغین کی تحریروں اور تقریروں میں بھی اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے لیکن داعی اعظم کی ان صفات جلیلہ اور کمالات عالیہ کا عملی نمونہ دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں۔اللہ ہم سب کو ان عظیم عادات اور جلیل خصلات کو اپنانے کی توفیق دے۔

یہ تحریر ریڈیوپاکستان کے 2019کی ربیع الاول ٹرانسمیشن کے لیے خصوصی لکھی گئی ہے اور ریکارڈ کروائی گئی ہے۔ 2نومبر2019