ایک شہر ممنوع کی کہانی- یاسر پیر زادہ

بیجنگ ایئر پورٹ سے باہر نکلتے ہی اِس بات کا احساس ہو گیا کہ چین کے دو نمبر مال کی طرح یہاں کی سردی بھی دو نمبر ہے، چھ ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی جیکٹ پہننے کو دل نہیں کرتا، پہن لو تو اتارنا مشکل لگتا ہے جبکہ بیجنگ والے ایسے چیسٹر اور اونی کوٹ پہن کر پھر رہے ہیں جیسے کسی بھی وقت برف باری ہو سکتی ہے۔

رات کو موسمی ویب سائٹ دیکھی تو معلوم ہوا کہ پارہ منفی ایک کو چھو رہا ہے، کمرے کی کھڑکی کھلی تھی، سوچا بند کردوں مگر آج پانچواں دن ہے کھڑکی بند کرنے کی نوبت اب تک نہیں آئی۔ اِن پانچ دنوں میں بیجنگ کی سردی کے بارے میں ہم نے کچھ زیادہ ہی ناشائستہ کلمات کہہ دیے سو جس روز ہم نے شہرِ ممنوع (Forbidden City) جانا تھا اُس روز ایسی ٹھنڈی ہوا چلی کہ لطف آگیا، سردی نے مزاج پوچھے، ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے۔

آج سے چھ سال پہلے جب میں بیجنگ آیا تھا تو یہاں کے کھانوں اور آب و ہوا نے بےحد مایوس کیا تھا، اِس مرتبہ حالات قدرے بہتر ہیں، موسم میں خنکی ہے، رومان ہے، پت جھڑ کا سماں ہے، اور کھانے میں اگر پانچ ڈشز بنی ہوں تو اِن میں سے دو آپ باآسانی کھا سکتے ہیں تاہم اگر جھینگو ں اور کیکڑوں سے شغف ہو تو ایک آدھ ڈش اِن کی بھی چکھی جا سکتی ہے بشرطیکہ کھاتے وقت آپ اپنی ناک بند کر لیں۔

عجیب بات ہے کہ یہاں کچھ لوگوں سے گفتگو کرتے وقت بھی یہ احتیاط کرنا پڑتی ہے۔ اپنی تمام تر کوشش کے باوجود میں اب تک اُس شے کو نہیں چکھ سکا جسے یہ عظیم قوم سوپ کے نام پر پیتی ہے، روٹی کی شکل اب تک نہیں دیکھی اور چاولوں کا یہ حال ہے کہ لگتا ہے گوند میں پکائے ہوں، مچھلی واحد چیز ہے جو یہاں آپ بےفکر ہو کر کھا سکتے ہیں۔

ایک چینی پروفیسر صاحبہ سے ملاقات ہوئی، فرمانے لگیں چین نے تین دہائیوں میں ناقابلِ یقین ترقی کی ہے، ہمارا نظام دنیا سے مختلف ہے مگر جمہوری ہے، یہاں آزادیٔ اظہار ہے، لوگ حکومت پر تنقید کر سکتے ہیں، حکومت اِس تنقید کی روشنی میں اپنی اصلاح کرتی ہے، یہاں یک جماعتی نظام میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر بندہ ہی اس کا رکن ہو جیسے میں اس کی رکن نہیں۔

میں نے خاتون پروفیسر سے پوچھا کہ فیس بک، گوگل، وٹس ایپ، جی میل، بی بی سی اور ٹویٹر سمیت لاتعداد سائٹس پر پابندی کے باوجود آپ سمجھتی ہیں کہ چین میں آزادیٔ اظہار ہے۔ جواب دینے کے بجائے محترمہ نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا، پاس ہی یونیورسٹی کا ملازم کھڑا اپنے دھیان میں مگن تصویریں بنا رہا تھا، وہ مجھے بازو سے کھینچ کر ذرا پرے لے گئیں اور کہنے لگیں کہ میں خود بھی ان پابندیوں کے حق میں نہیں مگر حکومت نے خواہ مخواہ لگا رکھی ہیں، دراصل جب یہ پابندیاں نہیں تھیں تو چین کے علیحدگی پسند گروہ ان ایپس کا کچھ زیادہ ہی استعمال کرکے تنقید کرتے تھے جو حکومت کو گوارا نہیں تھا۔

میں نے پوچھا کہ جمہوریت میں تو سب کو اظہارِ رائے کی آزادی ہوتی ہے، ووٹ کا برابر حق ہوتا ہے، ان کے بغیر آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ چین میں جمہوریت ہے، اِس پر بیچاری پروفیسر نے چینی جمہوریت کا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ ہم لوگوں کے لیے یہی جمہوریت ہے۔

چین میں جمہوریت ہے یا نہیں یہ چین کا مسئلہ ہے، میرا فوری مسئلہ یہ ہے کہ ان ایپس کے بغیر میرا چین میں رہنا محال ہے، چینیوں نے تو فیس بک، گوگل، اوبر، ٹویٹر کا متبادل نکال رکھا ہے، ان کی اپنی ایپس ہیں جو یہ استعمال کرتے ہیں، مثلاً وٹس ایپ کی جگہ وی چیٹ اور گوگل کی جگہ سوگو مگر غیر ملکیوں کے لیے یہاں زبان سب سے بڑا عذاب ہے، کسی کو انگریزی نہیں آتی، اب اگر آپ نے کہیں جانا ہے تو راستہ پوچھ نہیں سکتے اور گوگل میپ چلتا نہیں۔

یوں تو اب پوری دنیا میں ہی سیکورٹی کا خاصا اہتمام کیا جاتا ہے، جا بجا کیمرے لگائے جاتے ہیں مگر جتنے کیمرے بیجنگ میں لگے دیکھے اتنے شاید ہی کسی اور شہر میں ہوں۔ چوراہوں پر، عمارتوں کے اندر باہر، عوامی مقامات پر، غرض ہر جگہ حکومت نے آنکھ رکھی ہوئی ہے، اس کا مقصد سیکورٹی ضرور ہے مگر ساتھ ہی جاسوسی بھی ہے۔

بیجنگ میں ٹریفک بہت ہے اور کسی حد تک لوگ قوانین کا خیال بھی کرتے ہیں خاص طور سے شہر کی مرکزی شاہراہوں پر لیکن یورپ والی کوئی بات نہیں، بےتکان اشارہ کاٹتے ہیں، زیبرا کراسنگ کی پروا نہیں کرتے، سڑک کے عین بیچ موٹر سائیکل روک کر موبائل فون دیکھنے لگ جاتے ہیں، حتیٰ کہ ایک ہاتھ سے موٹر سائیکل چلاتے ہیں اور دوسرے ہاتھ میں موبائل ہوتا ہے، اس کا استعمال مریضانہ حد تک بڑھا ہوا ہے، موبائل فون سے نظر ہی نہیں اٹھاتے۔ کیمروں کا مقصد اگر قوانین کی خلاف ورزی پر پکڑنا ہوتا تو یہاں کوئی ٹریفک سگنل توڑنے کی جرات نہ کرے۔

بیجنگ میں حاصلِ سفر تیامن اسکوائر اور شہرِ ممنوع کی سیر تھا۔ یہ وہ محلات ہیں جو چینی شہنشاہوں نے چھ سو سال قبل اپنے لیے تعمیر کروائے تھے، شہنشاہوں کا غالباً خیال یہ تھا کہ انہوں نے کبھی فوت نہیں ہونا، جیسا کہ ہر حکمران کا ہوتا ہے، مگر یہ تمام شہنشاہ عام آدمی کی طرح فوت ہوئے۔

بیجنگ دو کروڑ لوگو ں کا شہر ہے، یہاں کی سب وے (میٹرو ٹرین) میں سفر کرتے ہوئے جب میں نے کھڑکی سے باہر شہر پر نظر دوڑائی تو جا بجا فلیٹ دکھائی دیے، ایک لمحے کے لیے مجھے یوں لگے جیسے لاکھوں لوگ ان فلیٹوں میں مقید ہیں، فوراً میں نے اپنے سر کو جھٹک کر کہا کہ میں خواہ مخواہ انہیں قیدی سمجھ بیٹھا ہوں، حالانکہ ہم سب ہی غلام ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ہمیں دوسروں کے پاؤں میں زنجیر نظر آتی ہے مگر اپنے پاؤں میں بیڑیاں نظر نہیں آتیں۔

بیجنگ میں خزاں ہے، زرد پتے بکھرے ہیں، درختوں کی شاخیں کہیں سرخ ہیں اور کہیں سبز، جاڑے کا موسم ہے، کمی ہے تو بس ایک محبوب کی، وہ ہم لاہور میں چھوڑ آئے ہیں۔