اقبال، مسجد اور راہ داری - عالیہ زاہد بھٹی

میں موبائل فون ہاتھ میں لۓ منتشر سوچوں کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہی تھی صبح سے اب تک تو میں یوم اقبال پر خان صاحب کے کرتار پور راہداری کے تحفے پر ہی حیران و پریشان بیٹھی تھی۔

سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیا اور بلاگرز کی دنیا میں طوفان آیا ہوا تھا اس طوفان نے بہت حوصلہ بھی دیا یہ مثبت بات سوچ کر کہ حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہو جائیں عوام جاگ رہی ہے اور جو قومیں بیدار ہوں نامساعد حالات ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے میں انہی سوچوں میں تھی کہ استادِ محترم کی طرف سے واٹس ایپ پر شورش کاشمیری کی ایک بہت پرانی تصنیف کردہ کتاب"عجمی اسرائیل"سے ایک اقتباس آیا کہ جس نے صبح سے اب تک کی پریشانی کو گویا اور ہوا دے دی اس اقتباس کے مطابق کرتار پور راہداری کی کڑیاں گریٹر اسرائیل کا نقطہ آغاز تو ہیں ہی پاکستان میں قادیانی ریاست کا نقطہ آغاز بھی ہے اور پنجاب کی علیحدگی کا خطرہ بھی ہلکورے لے رہا ہے۔

میں اس کتاب کے اقتباس کو پڑھ کر انگشت بدنداں رہ گئی کہ ہمارے اسلاف کیا لوگ تھے کیا ان کی بالغ نظری تھی کہ سوسالہ بعد کی ہونے والی تباہی ان کی نظر سے اوجھل نہیں ہوتی اس کے لئے بندے کا مومن ہونا ضروری ہے وہ مومن کہ جس کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی فراست سے دیکھتا ہے اور ایک ہم ہیں کہ یوم اقبال پر سکھوں کے ساتھ خیرسگالی کے ڈرامے میں اندھے حکمران جنہیں قوم نے دوران نماز کبھی سر پر ٹوپی لۓ نہیں دیکھا وہ سکھوں کے طرز پر اپنے سر ڈنھاپے تقریب میں جۓ عمران کے نعرے سن کر قرآن وسنت کی واضح تعلیمات کو بھلا بیٹھے ہیں کہ یہود وہنود کی دوستی سے بچنے اور انکے طرز عمل،یہاں تک کہ مشابہت تک سے بچنے کی کوشش پر مبنی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی قومی زبان اُردو:ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی خدمات - میر افسر امان

اور اس پر طرّہ یہ کہ آپ کی تمام تر گراوٹوں کے باوجود بھارتی حکومت عدالت اور میڈیا آپ کے اس نام نہاد خیرسگالی کے ڈرامے کو اپنی ٹھوکروں میں اڑا رہا ہے بہت دن سے بابری مسجد پر وہاں کی سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار تھا اور ان کو بھی شاید یوم اقبال کا انتظار تھا کہ جو مسجد قرطبہ کی خاموش پکار کے درد پر غمگین تھے عین انہی سے منسوب دن پر یہ فیصلہ گویا اقبال کے نظریے اور دکھ پر کھلا وار ہے۔

اس تابوت میں آخری کیل ہمارے حکمرانوں نے ٹھونکی قبرِاقبال کے قریب نظریہ اقبال کو پامال کرکے کہ تم اک مسجد کے دکھ پر روتے رہے تم نے مساجد بنانے کو پاکستان کا خواب دیکھا ہم اس میں گردوارے بنائیں گے روک سکو تو روک لو،ہے کوئی جو روکے ٹوکے یا کم از کم بول ہی دے۔