سفر اعجاز ﷺ سے کرتار پور بارڈر تک - حسین اصغر

اس بوڑھی نمازی ماں اور باپ کو کوئی کیا بتائے جو سالوں سے پائی پائی جوڑ کر جمع کر رہی تھی اور اپنی عمر بھر کی کمائی کے بعد اب وہ اس امید سے تھی کہ اس بار ضرور اس کا نام قرعہ میں نکلے گااور اپنے عمر کے آخری حصے میں کعبہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوگی اور اپنی ڈوبتی آنکھوں سے کعبتہ اللہ اور زیارت مدینہ کر سکے گی.

مگر اب سب کا منہ تکتی ہے ہر آنے جانے والا اسے بتا رہا ہے کہ مدینہ کی ریاست کے “جھوٹے دعوے داروں “نے حج مہنگا کر دیا ہے اور فرمان جاری کیا ہے کہ جو سبسڈری حکومت دیتی تھی وہ احسان تھا اور جو اب قومی خزانہ پر بوجھ ہے اور یہ بوجھ مدینہ کی ریاست کے “جھوٹے دعوے داروں “کو قبول نہیں اور ساتھ ہی فرمان جاری کیا ہے کہ حج کونسا فرض ہے ! عوام کے لئے یہ ساری عبادتیں نماز ، روزہ ، صدقہ سب فری ہیں یہ عبادتیں کافی ہیں اور جس وقت ریاست حج سبسڈری کو قومی خزانے پر بوجھ بتارہی تھی تو اس ہی لمحے حکمران عمران خان عمرہ کی ادائیگی کے لئے عوام کے پیسہ پر چارٹرڈ جہاز پرسادگی کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے ساتھ کرپٹ نیب زدہ زلفی بخاری کو خلائی ائیر پورٹ سے لئے روانہ ہوگیا تھا اور سرکاری ٹی وی پر بتایا جارہا تھا کہ ان حکمرانوں کے لئے کعبہ کا دروازہ کھولا گیا ہے تو عرض ہے کہ ملوکیت اور بادشاہت میں کعبہ کے دروازے غلامان مصطفی کے لئے نہیں اغیار کے غلاموں کے لئے کھولے جاتے ہیں ۔

حکمرانوں کے اس قومی خزانے کا بہانہ تو پھر بھی اس بوڑھی ماں اور باپ کی طرح عوام بھی مان کر خاموش رہی کہ ہمارا حج نا صحیح پاکستان کی معیشیت ہی سنبھل جائے لیکن آج تو جیسے اس بوڑھی ماں اور باپ کی موت ہی واقعی ہوگئی ہوگی جب اس نے “ریاست مدینہ کے جھوٹے دعوے دار “کا یہ بیان پڑھا کہ
عمران خان ٹیوئیٹر پر فرماتے ہیں ۔
“کرتارپور زیارت کیلئے آنےوالے سکھوں کیلئے میں نے 2 شرائط ختم کردی ہیں: ‏
1.انہیں پاسپورٹ درکار نہیں ہوگا،محض درست شناخت ہی کافی ہوگی۔ ‏
2.انہیں 10 روز قبل اندراج کی زحمت بھی نہ اٹھانا ہوگی۔ ‏ مزید یہ کہ افتتاح اور گروجی کے550ویں جنم دن کےموقع پربھی کوئی واجبات وصول نہیں کئے جائیں گے۔”
“جب آپ مدینہ سے صرف 100 کلو میٹر دور ہوں لیکن جا نہ سکیں تو کیسا محسوس ہوگا؟ (عمران خان)
ساتھ ہی سکھوں کی انٹری اور ننکانہ تک ٹرانسپورٹ مفت کر دی گئیں اور دوسری طرف حج پر سبسڈی ختم کر کے حج اخراجات لاکھوں روپے بڑھا دیا گیا ہے
اب تو وہ بوڑھی ماں اور باپ یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ کاش وہ بھی سیکھ ہوتیں!

نیا نظام، نئی بندشیں، اعلان نیا، ہم فقط لشکرِ شاہی کے موافق سوچیں. صاحبِ وقت نےحکم کیا ہے جاری، اپنی نسلوں سے کہو میرے مطابق سوچیں. ایک طرف عمرانی حکومت کرتا پور راہداری کھول کر اپنی کامیابی کا ڈھول پیٹ رہی ہے تو دوسری طرف بھارتی حکومت بابری مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر کی تیاری کر رہی ہے ۔ یہ کوئی اتفاقی اقدامات نہیں ہیں کہ ایک طرف سکھوں کے نام سے سکے جاری ہو رہے ہیں،‏ قادیانیوں کے نام سے ٹکٹ نکل رہے ہیں،قائد اعظم کے یوم پیدائش پر کرسمس منائی جا رہی ہو اور علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر بابا گرو نانک کا جنم دن منایا جارہا ہو کرتاپور باڈر پر جشن سا سما ہو اور دوسری طرف کشمیر میں 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار کشمیر میں جاری “سو” دن سے زیادہ کرفیو پر قیامت سی خاموشی ہو تو عقل والوں کے لئے اس میں بہت کچھ ہے ۔
پاکستان میں اس وقت پاکستان کی آزادی اور اس کی مزہبی شناخت ختم کرنے کے لئے عین امریکن ایجنڈے کے مطابق کام تیزی سے جاری ہے اور یہ تیزی عمران کی دورہ امریکہ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران ملاقات کے بعد آئی ہے ۔

پاکستان اس وقت چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے اسٹبلشمنٹ اور حکمتی پالیسی سے ایک طرف مسلمان ملک افغانستان ہمارا دشمن بن گیا ہے تو دوسری طرف اب دو سمتوں سے انڈیا کا پریشر پاکستان کو برداشت کرنا پڑے گا اور جو غداری ہم نے اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کی ہے برا وقت آنے پر وہ بھی ہمارے نہیں بھارت کا ساتھ دیں گے ویسے ہی علیحدگی پسند تنظیمیں زور پکڑتی جارہی ہیں ۔
لگتا ہے جو لوگ عمران کو لائیں ہیں وہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل تک اسے اقتدار پر برجمع رکھیں گے اور جیسے ہیں کام مکمل ہوا عمران کی سیاست کا سورج بھی غروب ہوجائے گا اور مجھے ڈر ہے کہ یہ حکومت جاتے جاتے پاکستان کو حادثات کی نظر کر جائے گی جس سے نکلنا پاکستان کے لئے بہت مشکل اور کٹھن ہوگا-
اور آخر میں امریکی غلام حکمرانوں یاد رکھو یہ امریکی کسی کے نہیں ہوتے صدام حسین سے حسنی مبارک اور یاسر عرافات تک سب امریکی غلامی میں امریکی وفاداری کی تلاش میں رہے اور ان ہی کے ہاتھوں قبروں میں سلادیئے گئے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */