درسگاہیں بنی رقص گاہیں اور برقعے کا نیا استعمال - محمد عاصم حفیظ

ملک کے سب سے بڑے نجی کالجز کے نیٹ ورک "پنجاب گروپ" کے منڈی بہاوالدین کیمپس نے گزشتہ روز طلباء کے لئے میوزیکل کنسرٹ منعقد کیا ۔تعلیمی اداروں اور خاص کر نجی تعلیمی اداروں میں میوزکل کنسرٹ کا انعقاد اب تو گویا نصاب کا لازمی جزو بن چکا ہے جس کے بغیر کورس ہی مکمل نہیں ہوتا ۔

یہ سب اب معمول کا حصہ ہے ۔ اس پر اب بات نہیں ہوتی کیونکہ یہ اب لازمی ہو چکا ۔لیکن منڈی بہاوالدین کیمپس نے کچھ خاص کرنے کا سوچا اور اپنے میوزیکل کنسرٹ میں رقص کے لئے "برقعے" کے استعمال کا فیصلہ کیا. جی ہاں ہمارے ہاں پردے و حجاب کی علامت سمجھے جانیوالے برقعے کا یہ نیا استعمال ہے جو کہ ایک تعلیمی ادارے نے متعارف کرایا ہے ۔ دوسری جانب آج ہی عالمی میڈیا پر ایک اور خبر نشر ہوئی ہے کہ کینیڈا کی کچھ ریاستوں نے حجاب پر پابندی کی قانون سازی کا عمل شروع کیا ہے ۔یورپ کے کئی ممالک پہلے ہی حجاب پر پابندی لگا چکے ہیں یقین مانیں مجھے تو اب مغربی ممالک کی حجاب کے خلاف مہم کچھ اتنی بری نہیں لگی کیونکہ کم سے کم برقعے کو رقص کے لئے استعمال کرنے کا آئیڈیا ان کے ذہن میں بھی نہیں آیا۔ انہوں نے تو پہننے پر ہی پابندی لگا دی ۔

ارض پاکستان میں ہر ایک کو اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے کی خوب آزادی ہے ۔ کوئی قانون نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی ادارہ نہیں اور نہ ہی معاشرتی طور پر کوئی بھی ایسی رکاوٹ ہے کہ جو آپ کو اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے سے روک سکے۔ دوسری جانب اگر کوئی ادارہ ذرا سی بھی لباس کے حوالے سے ہدایت جاری کرے کرے مثلا انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور اور کئی نجی اداروں نے صرف اتنا نوٹیفیکشن نکالا کہ طالبات مناسب لباس زیب تن کیا کریں تو اس پر لبرل و مغرب زدہ طبقے نے اس قدر شور مچایا کہ چند گھنٹوں بعد ہی یہ نوٹیفیکیشن واپس لینے پڑے ۔ حتیٰ کہ خیبرپختونخواہ کے ایک ضلعی ایجوکیشن آفیسر نے سکول طالبات کو محض چادر اوڑھنے کی ہدایت جاری کی تو پورا دن الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ایسا منظر پیش کیا گیا کہ جیسے کوئی بہت بڑا سانحہ ہوگیا ہو۔ وزیر اعلی نے نے خود معذرت کی اور فوری طور پر وہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں:   آزادی کی قیمت - ایم سرورصدیقی

لیکن یہاں برقعے کی تضحیک اور پردے کا مذاق اڑانے اور اسے رقص کے لیے استعمال کرنے کی مکمل آزادی ہے اس پر کوئی ایکشن نہیں لے گا اس پر کوئی میڈیا نہیں بولے گا اس پر کسی آفیسر کی ناراضگی نہیں ہوگی اس پر کوئی آواز بلند نہیں ہوگی۔ جب درسگاہوں کو رقص گاہیں بنا دیا جائے اور طلبہ و طالبات کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے تو پھر کون پردے کی بات کرے گا کس کق برقعے کی فکر ہوگی اور کیوں کر کسی کو ضرورت ہوگی کہ وہ وہ اسلامی شعار کی تضحیک پہ بات کر سکے۔جی ہاں ہاں بلکہ کہ کو استعمال کرکے برقعہ ایونجلز نامی کارٹون بھی بن سکتے ہیں سرکاری اشتہارات میں داڑھی والے کو دہشت گرد بھی دکھایا جا سکتا ہے فلموں میں مولوی کا کردار منفی بھی دکھایا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی شخص یا ادارہ غلطی سے بھی پردے کے اسلامی احکامات کی بات کر دے صرف لباس کو مہذب بنانے تک کی جسارت کر لے تو اس کے خلاف بھرپور مہم چلا کر اسکا جینا محال بنا دیا جاتا ہے۔

ترقی کا یہ سفر جاری رہا ہاں تو اگلے سال آپ احرام میں بھی ڈانس دیکھیں گے ۔ کون روکے گا کس کی جرات اس پر بات کر سکے ۔ یہی تو آزادی ہے جو تعلیمی اداروں کے ذریعے نوجوان نسل کو منتقل کی جا رہی ہے اور یہ سفر جاری ہے۔۔ آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا۔