اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناوں ! - ماہین خان

٩ نومبر کو مفکر پاکستان ،شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یومِ ولادت بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ صبح اسی خوشی و جوش سے ٹی وی کھولا کے کوئی کلامِ اقبال سناجائے یا کوئی ڈاکومینٹری یا کوئی تقریب وغیرہ ۔۔۔۔کیونکہ یہ ہمارے تاریخی ورثے کا حصہ ہے .

بچپن سے نظمیں پڑھیں اسکول میں پروگرام ہوا تقاریر کیں ان کی شاعری پڑھی جو مسلمانوں کو بیدار کرنے کا اعلیٰ نمونہ ہے اور سب سے بڑھ کر اقبال کا عظیم کارنامہ "پاکستان کی تخلیق کا خواب"۔۔۔۔۔۔ لیکن ٹی وی کو کھولنے کے بعد یہ خوشی ماند پڑگئی۔ ہر جگہ گوردوارہ کرتار پور راہداری کی خبریں چھائی ہوئی تھیں۔ صرف یہی نہیں ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے ایک دل خراش اور المناک خبر بھی آگئی !! بابری مسجد کی متنازع زمین ہندووں کے قبضے میں دے دی گئی!
ہاں۔۔۔۔ وہی بابری مسجد جس کو ستائیس سال پہلے شہید کردیا گیا تھا صرف اس وجہ سے کہ ہندووں کا کہنا تھا یہ ان کے رام مندر کی جگہ ہے ۔۔جبکی مسجد وہاں پہلے سے تھی . یہ سب خبریں اس دن کی مناسبت سے افسوسناک اور لمحہ فکریہ تھیں۔ دل ایسے میں بھج گیا ان سکھوں کی طرح رومال باندھے اینکرز اور رپورٹرز کو دیکھتے ہوئے جو انہیں کے رنگ میں رنگے کرتارپور زیرو لائن سے براہ راست سکھوں کو مسلمانوں کے قلب و جوارمیں داخل ہوتے کوریج دے رہےتھے اور نیچے چلتی بابری مسجد کی بلیٹنز آرے چلا رہی تھیں ۔۔۔ اور صرف ایک ہی صدا حاوی تھی .

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناوں !!! بے شک ہمارے دین نے غیر مسلموں کو حقوق دینے کی بات کی ہمارے ملک پاکستان کے قانون میں بھی یہ بات شامل ہے لیکن ہمیں بحیثیت مسلمان اپنا رنگ نہیں بھولنا چاہئے ۔ آج بھارتی جارحیت ایک طرف کشمیر پر سو دن مکمل کرنے جارہی ہے تو دوسری طرف بابر مسجد کا فیصلہ بھی خاص طور پر انہیں دنوں میں دیا گیا۔ آج پاکستانی گورمنٹ نے حج اور عمرے جیسے مذہبی فریضوں کی ادائیگی کے لئے کتنی ہی پالیسیز اور ٹیکسز لگا دیئے ہیں لیکن ادھر سکھوں کے لئے ان کے گوردوارے کے قریب پورا ایک بفرزون آباد کردیا جہاں صرف بیس ڈالرز میں وہ پاکستان میں داخل ہوں گے۔ اقبال نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے . زمانے کے انداز بدل گئے - نیا راگ ہے، ساز بدل گئے
ہوا اس طرح فاش رازِفرنگ - کہ حیرت میں شیشہ بازِفرنگ