کشمیر لہو میں نہا رہا ہے اور کرتارپور پھولوں سے سج رہا ہے - حسین اصغر

جو یہ سمجھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا مولانا کی مرضی سے ہورہا ہے تو وہ اپنی غلط فہمی دور کر لیں مولانا تو کبھی گیلی زمین پر پاؤن نا رکھیں کچا کہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اسلام آباد پر دھرنا دے دیں اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا ایشو مولانا کے دھرنے نے دبا دیا تو زرا عمران خان کے اس کتاب کا مطالعہ کر لیں جس میں پاکستان کے نقشے سے کشمیر غائب ہے اور کشمیر انڈیا کا حصہ بتایا گیا ہے اور الیکشن سے پہلے عمران خان کا وہ بیاں پڑھ لیں جس میں کشمیر کے مسلے کا حل “تقسیم کشمیر “بتایا گیا ہے اور دوسری طرف سابق چیف آف اسٹاف کی وہ کانفرنس سن لیں جس میں وہ کمانڈوں سے خطاب کر کے فرمارہے ہیں کہ “پاکستان کو کشمیر ایشو سے جان چھڑا لینی چاہئے”۔

کچھ باتیں نوٹ کر لیں

1. اگر کشمیر ایشو واقعی حکمرانوں کے لئے اہم ہوتا تو اس اہم ایشو کو جمعہ جمعہ آدھے گھنٹے کھڑے رہنے ، کشمیر کے نام پر پارلیمنٹ میں درخت لگانے جیسے غیر سنجیدہ حرکتیں حکومت نہیں کرتی

2. اگر اسٹبلشمنٹ واقعی کشمیر کے ایشو کو اہم سمجھتی تو فض الرحمان کا دھرنا شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوچکا ہوتا اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو اسلام آباد میں لا کر نہیں بیٹھایا جاتا۔

3. کشمیر کا مسلہ انٹرنیشنل خواہش کے مطابق حل ہورہا ہے اور اس میں پاکستانی اسٹبلشمنٹ اور انڈیا کی رضامندی شامل ہے ورنہ یہ کسے ممکن ہے کہ کشمیر باڈر پر پاک بھارت کی اتنی ٹینشن ہے کہ کسی بھی وقت ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے اور مولانا فضل الرحمٰن کی وجہ سے کشمیر کا مسلہ دب گیا ورنہ جیسے اسٹبلشمنٹ اور عمران نیازی تو انڈیا پر حملہ کر چکا ہوتااور دوسری طرف کرتا پور باڈر پر پاک بھارت امن ساتوں آسمان کو چھو رہا ہے جہاں سے آمدورفت کے لئے ویزے جیسی لوازمات کی بھی ضرورت نہیں رہے گی اور مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا بھی اثر نہیں کر رہا

یہ بھی پڑھیں:   مولانا کا مارچ، چند تاثرات - محمد عامر خاکوانی

4. جن لوگوں کا حب وطنی کا جزبہ اس وقت جاگ جاتا ہے کہ مولانا کے دھرنے کی خبر انڈیا میڈیا کیوں دیکھا رہا ہے تو زرا اس وقت کا میڈیا بھی دیکھ لیں جب عمران خان نے دھرنا دیا تھا تو انڈیا میڈیا کیسی کوریج دے رہا تھا عمرانی دھرنے کا اور ایک ہی دن جب انڈیا میڈیا عمران خان کی کرتارپور باڈر کے حوالے سے تعاریفیں کر رہا ہوتا ہے تو اس وقت وہ حب وطن کہا سو جاتے ہیں کیوں نہیں کہتے کہ عمران غدار ہے ؟

کشمیر بیچنے کے بعد اس وقت اسٹبلشمنٹ اور حکومت کو یہ مسلہ درپیش ہے کہ کشمیر کی غداری کس کے سر ڈالی جائے اپوزیشن کے سر (جو اپنے مفاد کے لئے دھرنے میں شامل ہی نہیں ہوئی ہے اس لئے بچ گئی ) اب رہے جاتے ہیں فض الرحمن اس لئے آپ پورا پاکستانی میڈیا دیکھ لیں اس وقت کوئی یہ سوال اسٹبلشمنٹ اور عمران نیازی سے نہیں کر رہا کہ کشمیر کے لئے اب تک کیا کوشش کی جارہی ہے حکومت تو آپ لوگوں کی ہے ؟ بلکہ اسٹبلشمنٹ سمیت حکومت سب کا زور یہ ہے کہ اس کا الزام کس کے سر ڈالا جائے اور دوسری جانب عمران نیازی کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ کرتارپورباڈر ریکارڑ وقت میں مکمل ہوا ہے پورے سفارتی اور مالی وسائل استعمال کیا جارہا ہے اگرجتنی محنت جرنیلی حکومت نے کرتارپور میں سکھوں کے لئے کی اتنی اگر کشمیر کے لئے کرتے تو کم از کم کرفیو تو ختم ہو ہی جاتا۔

اس ساری صورت حال میں صرف جماعت اسلامی ہے جو سڑکوں سے لے کر پارلیمنٹ تک اکیلے موجود ہے جو کشمیر مسلہ کو زندگی اور موت کا مسلہ سمجھتی ہے جو بار بار اسٹبلشمنٹ کو بتارہی ہے کہ اگر ہم کشمیر ہارے تو یہ جنگ آزاد کشمیر میں لڑنی پڑھے گی اس لئے کہ انڈیا کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ آزاد کشمیر لیتے ہی نئے گورنرز لگادئیے گئے ہیں اور جو انڈیا نے نیا نقشہ دنیا کے سامنے رکھا ہے اس میں آزاد کشمیر سمیت لداغ کے سارے حصے کو بھی انڈیا کا حصہ بتایا گیا ہے۔
یہ بات طے ہے کہ اسٹبلشمنٹ اس بار پھر سانحہ بنگلادیش کی طرح سانحہ کشمیر کی زمہ دار ہے اور ایک بار پھر سانحہ بنگلادیش کا خالق “نیازی “ سانحہ کشمیر کا بھی سبب بناہے

یہ بھی پڑھیں:   مسافر خانے سے لنگر خانے تک - نسیم الحق زاہدی

یہ جو دس کروڑ ہیں

جہل کا نچوڑ ہیں

ان کی فکر سو گئی

ہر امید کی کرن

ظلمتوں میں کھو گئی

یہ خبر درست ہے

ان کی موت ہوگئی

بے شعور لوگ ہیں

زندگی کا روگ ہیں

جن کو تھا زباں پہ ناز

چُپ ہیں وہ زباں دراز

چین ہے سماج میں

بے مثال فرق ہے

کل میں اور آج میں

اپنے خرچ پر ہیں قید

لوگ تیرے راج میں

آدمی ہے وہ بڑا

در پہ جو رہے پڑا