زندہ قومیں - سعدیہ رضوی

قوموں کی زندگی میں بعض لمحات انتہائی فیصلہ کن ہوتے ہیں جو اپنے نتائج اور اثرات کے اعتبار سے خاصے دورس اور تاریخ کا دھاوا موڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ مسلمانان برصغیر کی زندگی میں 23 مارچ 1940ء کو آیا جب لاہور کے ایک وسیع و عرض میدان جسے منٹو پارک کہا جاتا ہے، لاکھوں مسلمان اکھٹے ہوئے اور بنگال کے وزیر اعلیٰ مولوی فضل حق نے ایک قرار داد پیش کی جس کی تائید مسلمانوں نے دل و جان سے کی۔

23 مارچ وہ عظیم دن ہے جب انگریز کی غلامی سے نجات پانے کے لئے قرارداد پاکستان منظور کی گئی۔۔اس طرح ہمارا ملک پاکستان 14 اگست 1947 کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔۔۔جو کہ قائداعظم ، علامہ اقبال ، لیاقت علی خا ن ، چودھری رحمت علی، سرسیداحمدخان جیسے بہت سے عظیم رہنماؤں اور ہمارے بزرگوں کی دی گئی قربانیوں اور انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔۔۔۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جو کہ 1947 میں ہم لوگوں کے حوالے کیا گیا تھا۔۔۔۔کیا آج یہ وہی پاکستان ہے۔۔۔؟؟؟ جس کے لئے ہمارے بزرگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔جہاں عزت سے جینے اور مرنے کا حق دیا۔
6ستمبر 1965کی پاک بھارت جنگ کے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارت کے اس حملے کی پسپائی کا تذکرہ کیا جاتا ہے جس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا،ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائز لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے پاکستان نے وہ کون سا عنصر اورجذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی نا قابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔

تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار ، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار ،مزدور،کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ’’ اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘۔۔۔۔۔۔ 14 اگست ہماری زندگی کا سب سے اہم اور یادگار دن ہے۔اس کی عزت اور اس کی اہمیت ان کشمیریوں اور فلسطینیوں سے پوچھیں جو آزادی کی جنگ میں اپنے کتنے پیاروں کو منوں مٹی تلے دفنا چکے ہیں اور خود بھی آزادی کی جنگ لڑنے میں کتنی مصیبتوں،مشکلوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ 14 اگست محض ایک آزادی کا دن نہیں بلکہ یہ ایک نعمت ہے۔میری نئی نسل اس لحاظ سے خوش قسمت ہے جو آزاد ملک میں پیدا ہوئی۔جس کی آزادی کے لئے میرے بزرگوں نے اپنے تَن،مَن اور دَھن کی بازی لگا دی۔صبح آزادی کا سورج دیکھنے کے لئے اور ایک طویل جدوجہد کی اور آگ و خون کا دریا عبور کر کے اپنے وطن کی بنیادوں کو اپنے لہو سے سینچا۔۔۔
مگر افسوس!کہ ہم نے کیا کیا ۔۔۔؟؟؟
صوبائیت ،فرقہ واریت ، لسانی جھگڑے اور مسلکی تفرقہ بازیوں سے لے کر کرپشن ، ملکی وسائل کی لوٹ مار اور ذاتیات کی سیاست سمیت وہ اور کون سی بیماری ہوگی جو قائد کے پاکستان کو نہیں لگا چکے۔یہود و ہنود سازشوں،بکاؤ سیاستدانوں اور وطن فروش عناصر کی سازشیں آج اس کا امن غارت کرنے کے درپے ہیں۔۔۔
کاش! ہم یہ سوچیں کہ ایک آزاد مملکت ہمارے لئے کتنا بڑا انعام ہے۔صرف یہ کافی نہیں کہ قائد کے احسان،پاکستان اور قائد سے محبت کے اظہار کے لئے ان کا یومِ ولادت اور یومِ وفات یا 14 اگست منا کر مطمئن ہوجائیں۔۔۔۔بانی پاکستان محمد علی جناح نے ملکی معاملات میں ہمیشہ نوجوانوں سے امید رکھی اور انہیں اتحاد ، یقین اور تنظیم کا درس دیا۔۔۔۔قائد اعظم کے اس درس سے ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم کیسا پاکستان چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ اور کامیابی کے یقین کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے مسلسل جدوجہد کی صورت میں ہی منزل کا حصول ہے۔۔۔۔