شناخت - عالیہ زاہد بھٹی

لیکچر ختم کرتے ہی میں نے کلاس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اور اپنا مخصوص اختتامی جملہ دہرایا آج کا ٹاپک مکمل any question میں نے سوالیہ نگاہ سے اپنے اسٹوڈنٹس کو دیکھا تو ہمیشہ کی طرح ہی جواب آیا کہ "نو میم ! بہترین ہے" یہ اگلی نشست پر براجمان لڑکی نے بہت شان سے گویا مجھے آگاہ کیا .

میں ابھی اسے مسکرا کر دیکھ ہی رہی تھی کہ لڑکوں کی طرف سے بھی جواب آیا "میم ایسا لگ رہا ہے کہ فرسٹ ٹائم پاک اسٹڈی پڑھ رہے ہیں کسی نے اس طرح پڑھایا ہی نہیں تھا کبھی" میں ان تمام کمنٹس کو سنتے ہوئے اٹینڈس لگاتی رہی اور چونکہ اسی روم میں دوسرے اسٹوڈنٹس آنے تھے سو دوسرے دن گفتگو کرنے کا کہہ کر بات ختم کی اور باہر نکل آئی ابھی میں اپنے اسٹوڈنٹس کے کمنٹس کے حصار میں سیڑھیاں اتر ہی رہی تھی کہ اپنے قریب ہی دھیرے سے سلام کی آواز آئی میں نے چونک کر دیکھا اسلامک اسٹڈیز کے استاد مفتی صاحب برابر چلتے ہوئے نظر آئے میں نے سلام کے جواب کے ساتھ ہی خیر خیریت نمٹا دی اور قدم گیٹ کی طرف بڑھانے ہی لگی تھی کہ مفتی صاحب میرے مزاج کے پیشِ نظر جلدی سے بولے"میم بہت ضروری بات کرنی ہےآفس یا کیفے ٹیریا؟ "میری طرف سوالیہ نگاہ سے دیکھ کر بولے " نہ آفس نہ کیفےٹیریا "میں نے کہنے کے ساتھ ہی راہ داری میں ہی اک سائڈ پررک کر ان سے کہا آپ کہئیے میں سن رہی ہوں طویل تمہید کے بعد محترم نے جو کہا کچھ یوں تھا کہ آپ پر ایک "ایلیگیشن" {اردو میں کہیں تو قدغن} لگائی گئ ہے .

کہ آپ پاک اسٹڈی کو اسلامی انداز میں پڑھا رہی ہیں قصہ مختصر وہ چاہ رے تھے کہ یونیورسٹی کی لبرل لابی کو یہ انداز پسند نہیں آرہا میں نے کہا " کہ آپ پاکستان کی تاریخ سے لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ کا نعرہ نکال دیں میں پاکستان اسٹڈیز سے اسلام نکال دوں گی" ان کو تو میں جواب دے آئی مگر میں اس وقت سے گم صم سوچ رہی ہوں کہ آج میں اپنے ملک میں ہی نظریہ پاکستان کے نام پر کلمہ کا نظریہ دینے آزاد نہیں ہوں،میں اپنی شناخت کیا کہہ کر کرواؤں، اپنے بچوں کو نظریے کے نام پر کیا دوں آپ سے شیئر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ مجھے پاکستان کی شناخت اس کے قیام کے نظریے کے تحت مجھے بتا دیں کہ مجھے حوصلہ ہو کہ میں تنہا نہیں ہوں اس شناخت پریڈ میں میرے بہت سے اپنے بھی میرے ساتھ ہیں .