ربیع الاول اور مشہور برانڈز کی سیل - قرةالعین

کل شام میری پڑوسن میر ے گھر آ ئی ۔خوب سار ے تھیلےاٹھاۓ ہانپتی کانپتی اور پسینے سے شرابور ... داخل ہو تے ہی پنکھے کی رفتار تیز کرنے کو کہا ۔میں جلدی سے شربت لے آئی۔۔کیوں کہ گرمی سے بہت بد حال ہو رہی تھی۔ پو چھنے پر بتایا خریداری کر کے آئی ہوں۔شاپر کھو لے! اور خریداری دیکھانے لگی سب کپڑے ایک خاص رنگ (سفید اور ہرے) تھے۔

سفید کاٹن جو لڑکوں کے لئےسفید چکن کے ساتھ خو بصورت ہرے دوپٹےسفید بنارسی جس پر ہر ے رنگ کی کڑھائی جو کہ اپنی اپنی جگہ بہت عمدہ تھے۔ میں نے پوچھا ؟؟؟ یہ ایک ہی رنگ کہ کیوں؟؟؟ جھٹ سے کہا ! آپ کو نہیں پتہ ربیع الاول ہے ۔بتانے لگی ویسے تو عیدین کے مو قع پر کپڑے اور جو تےوغیرہ فروخت کرنے والوں کا کاروبار چمکتا ہی ہے لیکن اب اس رجحان میں دیگر مذہبی مواقعوں پر بھی اضافہ ہو تا جارہا ہے۔خصو صا“ محرم کے بعد اب ربیع الاول میں تمام مشہور برانڈز بھی ان رنگوں کی تشہیر شروع کردیتی ہیں۔گذ شتہ چند سالوں سے دیکھنے میں آیا ہے کہ کپڑے فروخت کر نے والی کمپنیوں نےلو گو ں کے مذ ہبی جذ بات کو استعمال کر تے ہوۓان چیدہ رنگوں کیطرف راغب کروارہے ہیں۔جاتےہوۓ واپس پلٹی کہ ایک بات بتانا تو بھول گی کہ پارلرز میں بھی عید میلادالنبی کی وجہ سے ڈسکاوئنٹ پیکج مل رہاہے۔جاتے جاتے وہ ضمیر کو جھنجھوڑ گی کیسی خرفات میں ہم مبتلا ہو کر شرک اور بدعات کی دلدل میں پھنستے جارہے ہیں ۔آج کامسلمان صرف ذبانی جمع خرچ کاہے۔مسلمان ہونے کے ناطے نبیﷺ سے محبت اور عشق کاواویلہ کرتے ہیں لیکن درحقیقت ہم نے کبھی ان کی سیرت کے پہلووں کو نظام زندگی میں بدلنےکی ہمت نہیں کی ۔

آج کےمعاشرے میں بے راہ روی ، خصو صا نو جوانوں کی اپنے دین سے بغاوت ”والدین کے نافرمان“ اور غیر تہذیب کو اپنانا کر بیماریوں جسیے مسائل کا شکار ہے۔اسکی بنیادی وجہ اللہ اور اس کے رسولﷺ‎ کی اتباع اور اطاعت وفرمانبرداری سے مکمل دوری ہے۔“اے نبی کہہ دیجۓ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہّ تم سےمحبت کر ے گا”ہم تمام اہل ایمان آپ ﷺ‎ کی سیرت اور آپﷺ‎کی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر نہ صرف اپنی دنیا بلکہ اپنی آخرت بھی سنوار سکیں ۔کیونکہ نبی پاک ﷺ‎ سےگہرا تعلق ہی ہماری کامیابی کا ضامن ہے۔آے اس ربیع الاول پر اپنے اعمال حسنہ کافانوس نبیﷺ‎ کی سیرت کو اپناکر روشن کرے۔