سوال ذہنوں کا ہے اور ذہن بند ہیں- ایاز امیر

عوام کا ذہن نہیں، عوام کو تو جو راستہ دکھایا جائے گا اُسی پر چل پڑیں گے۔ ریاست نے جو بھی پالیسیاں بنائیں عوام نے اُن کا نعرہ لگایا۔ بند ذہن ہے تو ریاست کا۔ ریاست کی سوچ ایسی بن چکی ہے اور ریاست کی ترجیحات ایسی ہیں کہ اِن کے ہوتے ہوئے آپ لاکھ جتن کریں پاکستان اِس گرداب سے نہیں نکل سکتا جس میں وہ پھنسا ہوا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کو سُنیں تو ایسا لگتا ہے کہ پوری دنیا ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہے۔ دنیا کو اور کوئی کام نہیں سوائے پاکستان دشمنی کے۔ درحقیقت پاکستان کو بیرونی خطرہ کوئی نہیں۔ خطرہ کوئی ہے تو اندرونی ترجیحات کی وجہ سے۔ جیسے بارڈر ہمارے بند ہیں، نہ آمد و رفت ہندوستان کے ساتھ نہ وہ تعلقات افغانستان کے ساتھ جو ہونے چاہئیں، یہاں نہ سرمایہ کاری ہو سکتی ہے نہ کوئی ڈویلپمنٹ۔ معاشی مسائل تو ہیں ہی لیکن پاکستان دنیا کا واحد ملک نہیں جس کو ایسے مسائل کا سامنا ہے۔ دیگر ممالک میں پاکستان سے بڑے معاشی بحران آئے ہیں اور اُن ممالک نے اُن کا سامنا کیا ہے۔ لیکن ہماری مخصوص نفسیات بن چکی ہے۔ جب تک اُس میں تبدیلی نہ آئے اچھے راستے نہیں کھل سکتے۔ بغور جائزہ تو لیں سرکار کے کاموں سے لیکر روزمرّہ کی عادات تک، کوئی شائبہ نہیں ملتا کہ یہاں کے باسی ماڈرن دنیا میں رہتے ہیں۔ قوم کو آئی ایم ایف کے پیسوں کی اتنی ضرورت نہیں جتنا کہ کسی جھٹکے کی ضرورت ہے۔ ایسا جھٹکا جس سے لوگ سوچنے پہ مجبور ہو جائیں کہ اگر اپنے حالات بدلنے ہیں، اقوام عالم میں اپنا مقام بنانا ہے، تو ہمیں اپنی قومی عادات تبدیل کرنا پڑیں گی۔

دو چیزیں ہم کر لیں تو جھٹکے کی ابتدا ہو سکتی ہے۔ ایک تو جنرل ضیاء الحق کے چند مخصوص قوانین کو قانونی کتب سے نکال دیا جائے۔ جو ہمارے ہاں قوانین رائج ہیں سعودی عرب جیسے ملک میں تو ایسے ہوں گے لیکن جنہیں آپ ماڈرن یا روشن خیال معاشرے کہتے ہیں اُن میں نہیں ہیں۔ اِن قوانین کا نام کیا لینا۔ کئی چیزوں کے بارے میں ہماری حساسیت زیادہ ہے اورکھل کے بات ان پہ ہو نہیں سکتی۔ لیکن اتنا تو احساس ہمیں ہونا چاہیے کہ 1970ء کی دہائی کے آخر میں اور 1980ء کی دہائی کے شروع میں جو سماجی قسم کے قوانین بنائے گئے جب تک اُن کو مٹا نہ دیا جائے‘ ذہنی طور پہ پاکستان ایک آزاد اور روشن خیال مملکت نہیں ہو سکتی۔ ہم غلامی کی بات کرتے ہیں لیکن ایک عجیب قسم کی غلامی میں ہم نے اپنے آپ کو جکڑا ہوا ہے۔
افسوس اِس بات کا ہے کہ جنرل ضیاء کے بعد کسی حکمران میں یہ ہمت نہ ہوئی کہ مطلوبہ تبدیلیاں لا سکے۔ نام نہاد جمہوری لیڈران اپنے سایوں سے ڈرتے رہے‘ انہوں نے جنرل ضیاء کے ورثے کو کیا چھیڑنا تھا لیکن فوجی طاقت سے لیس حکمران جنرل پرویز مشرف جن کے پاس موقع تھا کہ بہت کچھ کرتے‘ وہ بھی اِن مخصوص قوانین پہ ہاتھ نہ رکھ سکے۔

پتہ نہیں ہم اپنے سکولوں میں کیا پڑھاتے ہیں۔ چین سے دوستی پہ ہمیں بڑا ناز ہے۔ کچھ چینی انقلاب کے بارے میں ہی پڑھ لیں۔ چیئرمین ماؤ کی زندگی کا مطالعہ کر لیں۔ چینی معاشرہ ہم سے زیادہ پسماندہ تھا۔ چین کو افیمچی قوم کہا جاتا تھا۔ چیئرمین ماؤ اور چینی کمیونسٹ پارٹی نے اُس قوم کی ہیئت بدل ڈالی۔ چین خواہ مخواہ ترقی نہیں کر رہا۔ چینی انقلاب نہ آتا تو چین ایک سپر پاور بننے نہ جا رہا ہوتا۔ ہم نے چین سے کیا سیکھا ہے؟ ترقی کی پہلی شرط سڑکیں یا ریلوے لائنیں نہیں۔ پہلی شرط ذہنی آزادی ہے۔ پہلی شرط سوچ رکھنے کی صلاحیت ہے۔ وہ نہ ہو تو آپ ایک چھوڑ کر درجن سی پیک ترتیب دے ڈالیں قوم ذہنی پسماندگی سے نہیں نکل پائے گی۔
ترکی سے دوستی پہ بھی ہمیں بڑا ناز ہے۔ دوستی ہے تو ترکی کی تاریخ تو پڑھ لیں۔ مصطفی کمال کی زندگی کا مطالعہ کر لیں۔ میدان جنگ میں اپنا نام منوایا۔ پھر غیر ملکی تسلط کے خلاف جنگ کی کمان کی۔ اُسی پہ اکتفا نہ کیا۔ بطور لیڈر اپنی قوم کو گریبان سے پکڑ کر پرانی سوچوں میں سے نکال کر نئی دنیا میں لے آئے۔ قدامت پسند سلطنت تھی۔ اُسے ایک ماڈرن ری پبلک بنا دیا۔ اور تو اور اپنے دیس کا لباس، مردوں اور عورتوں کا، تبدیل کر ڈالا۔ ترکی زبان کی سکرپٹ تبدیل کر دی۔ اَتا تُرک نہ ہوتے تو ماڈرن ترکی معرضِ وجود میں نہ آتا۔ اَتا تُرک کا تشکیل کردہ ترکی نہ ہوتا تو طیب اردوان ایک بڑے لیڈر کی حیثیت سے نہ اُبھر سکتے۔

بتائیے ہم میں وہ کونسی چیز ہے جو چین یا ترکی سے مماثلت رکھتی ہو؟ بس باتیں ہم کیے جاتے ہیں۔ سوچ اور عمل کا مکمل فقدان ہے۔ جمہوریت رہنی چاہیے، اِس پہ کبھی کوئی آنچ نہ آئے۔ لیکن اعلیٰ اقدار کی لیڈرشپ کی بھی ضرورت ہے۔ وہ کہاں سے آئے گی؟ ایسی قیادت جو قومی سوچ میں تبدیلی لا سکے۔ ہر اطراف کے جھگڑے ختم کرنے کی شروعات کرے۔ یہ کیا ہم نے اپنا قومی فلسفہ بنا رکھا ہے کہ ہمیں ہندوستان سے خطرہ ہے؟ ہندوستان کیا ہمارا کر سکتا ہے؟ ہماری فوج کوئی چھوٹی فوج نہیں ہے۔ اِس میں ملک و قوم کے دفاع کی پوری صلاحیت ہے۔ ہندوستان کی فوج ہم سے جتنی بھی بڑی ہو ‘ افواج پاکستان کی بھرپور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے سبب مشرقی بارڈر پہ دفاعی اعتبار سے ایک برابری کی حالت موجود ہے۔ ہندوستان کے پاس ٹینک کچھ زیادہ ہوں گے لیکن ہمارے پاس بھی کم نہیں۔ ایٹمی قوت اُن کے پاس ہے تو ہمارے پاس بھی ہے۔ تو ڈر پھر کس بات کا ہے؟ ہر چیز کو ہندوستان کے زاویے سے دیکھنا، یہ روش ہمیں ترک کر دینی چاہیے۔ ہندوستان دشمنی ہماری عالمی پہچان بن چکی ہے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ ہمیں اِس سے نکلنا چاہیے۔ اِس سے بڑھ کر ہمیں ہندوستان والا بارڈر نرم کرنا چاہیے تاکہ دونوں ملکوں میں آمدورفت بڑھے۔ نریندر مودی وہاں کے وزیر اعظم ہیں تو یہ حادثاتِ زمانہ کا حصہ ہے۔ لیڈر کوئی دائمی نہیں رہتا۔ ملک رہتے ہیں۔ جغرافیے کی اٹل حقیقت ہوتی ہے۔ ہم ہمسایے تبدیل نہیں کر سکتے اور یہ جو پکی دشمنی ہم نے بنا رکھی ہے اِس سے ہندوستان کو تو جو نقصان ہونا ہے ہو گا ہمیں بھی اِس کا بہت نقصان ہے۔ پاکستان نے خود کو محصور کر کے رکھا ہوا ہے۔ ماسوائے چین کے ہمارے سارے بارڈروں پہ تناؤ کی کیفیت ہے۔ اِس کیفیت سے پاکستان کو نکلنے کی ضرورت ہے۔

نہ صرف بارڈر نرم ہوں بلکہ تجارت کی ریل پیل ہندوستان سے لے کر وسطی ایشیاء اور چین تک ہو اور پاکستان اس تجارت کا کلیدی حصہ ہو۔ جس کو بھی کہیں جانا ہے یہاں سے گزر کے جانا ہو گا۔ اس میں ہمارا فائدہ ہے یا نقصان؟ اور یہ جو اقدام ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم پاکستان کے اوپر سے اُڑنا چاہیں اور ہم اجازت نہ دیں‘ ایسے اقدامات تنگ نظری کی علامت ہیں۔ اِن کے کرنے سے ہمارا قد بڑھتا نہیں۔ رہا کشمیر تو جذبات سے ہٹ کر دیکھنا یہ چاہیے کہ کون سی چیز ممکنات میں سے ہے۔ اظہارِ جذبات سے مسائل نے حل ہونا ہوتا تو مسئلہ کشمیر کب کا حل ہو چکا ہوتا۔ کشمیر پہ ہمارا مؤقف نہیں بدلنا چاہیے لیکن کشمیر کی وجہ سے اور راستے بند نہیں ہونے چاہئیں۔
ایسی رائے پاکستان میں مقبول نہیں۔ ہمارے حکمران طبقات میں یہ سوچ بہت گہری ہو چکی ہے کہ ہندوستان سے دائمی دشمنی رہنی چاہیے۔ اِس سوچ پہ نظرثانی کی ضرورت ہے۔ لیکن جرات اور سوچ رکھنے والا لیڈر ہی ایسا کر سکتا ہے۔ ہمارے جو حکمران آتے ہیں وہ تو اُن گرامو فون ریکارڈز کی مانند ہوتے ہیں جن پہ لکھا ہوتا تھا His Master's Voice۔ اگر اِن کی اپنی سوچ مختلف بھی رہی تو اُنہیں اِس کے اظہار کی ہمت نہ ہوئی۔

اِسی تناظر میں مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کی اہمیت ہے۔ وہ کیا کہہ رہے ہیں، اُن کا بنیادی نکتہ کیا ہے؟ کہ حکمرانی کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کو ہونا چاہیے۔ اور اِس حق پہ کوئی شب خون نہیں مارا جانا چاہیے۔ دیکھیے تو سہی‘ مولانا جن سے مخاطب ہیں اُن کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا کہیں۔ بات کرتے بھی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ دفاعی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ دھرنے سے کیا نکلتا ہے ہم نہیں کہہ سکتے‘ لیکن مولانا نے قومی گفتگو کو ایک نئی جہت دیدی ہے۔ یہ اُن کی بڑی کامیابی ہے۔