یہ ایک راہداری ہی نہیں- سجاد میر

مرے سامنے ایک دعوت نامہ کھلا پڑا ہے۔ یہ کرتار پور راہداری کے افتتاح میں شمولیت کا پروانہ ہے۔ مگر میں نہیں جا پائوں گا۔ اس کی وجہ کوئی سیاسی‘ مذہبی یا قومی نہیں‘ بلکہ یوں کہہ لیجیے اس سفر کی ہمت نہیں کر پائوں گا۔ پھر مرے شہر میں یوم اقبال کی مجلس سجنا ہے اور اس میں شمولیت ہر سال مجھے بہت عزیز رہتی ہے۔ ایک عجیب اتفاق ہے کہ دو دن مرے نبی آقارسولؐ کا یوم ولادت بھی ہے۔ شہر میں خوب روحانیت ہو گی۔ کرتار پور کے بارے میں مری عجیب کیفیت ہے اور مختلف سوال ہیں۔ایک طویل عرصے سے ہم نے سکھ برادری کو ان کے مذہب کے بانی کے اس مقدس مقام کی زیارت سے محروم کر رکھا تھا۔ سنا ہے وہ راوی کے کنارے کھڑے ہو کر بڑی حسرت سے سرحد کے اس پار اس گوردوارے کو دیکھتے تھے۔ صرف چند قدم جنہوں نے صدیوں کا فاصلہ قائم رکھا ہے۔ یہ بتایا جاتا تھا کہ اس سرحد کو کھولنا سکیورٹی رسک ہو گا۔ بالکل اس طرح ہم کراچی میں سنتے تھے کہ کھوکھرا پار کی سرحد کھولنا ملکی مفاد میں نہیں اور طعنے سننے تھے کہ آیا صرف واہگہ کے راستے آنا جانا قومی سلامتی کے پیمانوں پر پورا اترنا ہے۔ بہرحال کھوکھرا پار یا گنڈا پور کوئی مذہبی معاملہ نہیں۔ اب ہم نے کرتار پورکھولا ہے تو اعلان کیا ہے یہ سکھ برادری سے اظہار یکجہتی ہے۔ ہمارا بھی جواب نہیں۔ میں بھی اگر اس وقت اپنے سکھ بھائیوں سے اظہار یکجہتی نہ کر رہا ہوتا تو پھبتی کستا۔

سکھ ایسی قوم ہے جو اپنے اوپر پھبتی ہمیں کہہ لیتی ہے۔ مگر اس وقت احتیاط لازم ہے۔ اپنے اوپر پھبتی سہہ لینے کا یہ کلچر جو سکھوں سے منسوب ہے۔ ایک حد تک پنجاب کا کلچر ہے جو سکھوں میں اپنی انتہائی شکل میں ہے اور ان سے دوری کی وجہ سے لگتا ہے کہ شاید ہم اس سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ سکھ برادری سے ہمارا عجیب رشتہ رہا ہے۔ یہ نئے تعلقات شروع کرتے وقت ہمیں اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس مذہب کے بانی بابا گورونانک کے بارے میں اقبال تک نے یہ کہا: چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا مرا وطن وہی ہے ‘ مرا وطن وہی ہے بابا گرونانک کی توحید ہی نہیں بلکہ ہند میں جن ہندو زعما کے ہاں بھی اقبال کو توحید کا عکس نظر آیا‘ اقبال نے اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ بابا جی کی طرف جو گرنتھ صاحب منسوب ہے۔ اس میں بے شمار اشلوک ایسے ہیں جنہیں ایک روایت کے مطابق اس خطے میں اسلام کے اولین معمار حضرت بابا فرید الدین شکر گنج ؒ کے اشعاربتایا جاتا ہے۔ اگرچہ کچھ محققین اسے بارہ پشت بعد حضرت بابا صاحب کے ایک خوشہ چین ابراہیم فرید کا کمال فن قرار دیتے ہیں۔ پھر جب امرتسر کے دربار صاحب کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو بابا گرونانک نے اس زمانے کے عظیم ترین صوفی حضرت میاں میر ؒ کو دعوت دی۔ حضرت میاں میر کا مزار آج بھی لاہور میں مرجع خلائق ہے۔

دل چاہتا ہے ان تحریکوں کا ذکرکروں جو باالخصوص ہندوئوں میں توحید کا علم بلند کرنے کے لئے اٹھی تھیں۔ یہ کوئی برصغیر کے اتحاد کی تحریکیں نہ تھیں۔ بلکہ شاید یہ بتانا مقصود تھا کہ تمام مذاہب کی اصل یہی عقیدہ توحید ہے اور وہ جو کہتے ہیں کہ التوحید واحدۃ تو جہاں بھی ذات باری کی وحدانیت کا عقیدہ ہو گا‘ وہ مسلمان کی کھوئی ہوئی میراث ہو گی۔ اسے جو بھی زندہ کرنا چاہے گا ایک سچے مسلمان سے اس کی داد پائے گا۔ فرانس کے ان عظیم فلسفی دانشوروں نے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا مثلاً رینے گہنوں(استاد عبدالواحدیحییٰ) سے لے کر شواںاور مارٹن کنگ تک وہ اسی عقیدے کے قائل ہیں کہ دنیا کی قدیم ترین روایت ایک ہے اور اس کی بنیاد توحید پر ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے چینی‘ ہندی اور اسلامی روایت کو کھنگالا ہے اور بالآخر اسلام کی عظمت نے انہیں اتنا قائل کیا کہ وہ مسلمان ہو گئے توحید ایسی متحد کر دینے والی قوت ہے۔ مرے سامنے سکھ مذہب کے بارے میں ابتدائی معلومات کی کتابیں دھری پڑی ہیں مگر اس وقت مرا اس سے کوئی علاقہ نہیں۔ سکھوں کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ اونچ نیچ کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ آغاز تو ایسا تھا کہ مسلمانوں کو ان کی توحید پرستی پسند آئی۔پھر وہ وقت آیا کہ آنے والے گرووں نے اس مذہب کو عسکری انداز میں منظم کیا۔

پھر وہ وقت آیا کہ ان کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا‘ خاص کر سرہند شریف میں پھر اس سرزمین پنجاب پر سکھوں کا راج قائم ہوا۔ آج بھی بہت سے لوگ رنجیت سنگھ کے طرز حکمرانی کے گن گاتے ہیں مگر یہ بھی ہوا کہ ان کے زمانے میں لاہور کی شاہی مسجد کو گھوڑوں کا اصطبل بنا دیا گیا۔ اس عہد نے مسلمانوں کو اتنا تنگ کر رکھا تھا کہ کہتے ہیں وہ انگریز کے خلاف اس لئے دیر سے اٹھے کہ ان پر جبر کی مشکیں کسی ہوئی تھیں۔ بعض تو انگریز کو سکھوں کے مقابلے میں مسیحا سمجھتے تھے۔ برصغیر کی شہرہ آفاق تحریک مزاحمت نے انگریز سے لڑنے کے بجائے سکھوں کے خلاف محاذ کھولنے کا عزم کیا اس کا یہی جواز پیش کیا جاتا ہے کہ سکھ انگریز سے زیادہ خطرناک ہے۔ شہیدان بالا کوٹ کا قصہ اسی طرح بیان کیا جاتا ہے۔ پھر تقسیم ہندکے زخم دیکھنا ہیں تو تاریخ کی کتابوں سے ڈھونڈنے کے بجائے اس زمانے کا لٹریچر دیکھیے۔ یوں لگتا ہے ہمارا تصادم ہندوئوں سے نہیں سکھوں سے تھا۔ یہ بھی مگر ایک دور تھا جو گزر گیا۔ جلد ہی دونوں طرف یہ احساس ہونے لگا کہ ان کو لڑایا گیا ہے۔ سکھوں کے لیڈر ماسٹر تارا سنگھ تو کہتے تھے کہ جناح ذہین آدمی تھے۔ اپنی قوم کے لئے بہت کچھ کر گئے۔ ہم مار کھا گئے اس وقت برصغیر کے لوگ پوری دنیا میں رہتے ہیں۔ ہر جگہ پاکستان کے مسلمانوں کے جو تعلق بھارت کے سکھوں سے ہیں وہ شاید برصغیر کی کسی اور قوم کے درمیان نہیں ہیں۔ یہ کیا کہانی ہے۔ وہ دن بھی آئے جب خالصتان کی تحریک نے زور پکڑا۔

اندرا گاندھی نے امرتسر کے دربار صاحب میں داخل ہو کر جس طرح سکھوں کے لیڈر بھنڈرا والا کو قتل کیا‘ اس نے سکھوں میں ایک آگ لگا دی۔ انجام یہ ہوا کہ اندرا گاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھوں ماری گئی۔ پھر دہلی میں سکھوں کا جو قتل عام ہوا اسے شاید سکھ برادری کبھی بھول نہ سکے۔ پھر وہ وقت آیا جب ہماری ایک وزیر اعظم نے یہ کہا کہ ہم نے خالصتان کا مسئلہ دبانے کے لئے ہندوستان کی مدد کی ہے۔ یہ بہت چونکا دینے والی بات ہے۔ الزام تو پہلے سے لگ رہا تھا کہ پاکستان کے ایک نامور دانشور وزیر داخلہ نے بھارت کو بے نظیر کے کہنے پر سکھوں کی خفیہ فہرستیں فراہم کی تھیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ ظلم عظیم ہے۔ سکھوں کے ساتھ ہی نہیں‘ خود اپنے ساتھ بھی۔ خالصتان کی تحریک زور پکڑ رہی تھی تو کشمیر کے اندر بھی آزادی کی تحریک کو قوت مل رہی تھی۔ بھارت کا کشمیر جانے والا واحد راستہ خطرناک ہوتا جا رہا تھا۔ بہرحال اتنا ہی کہنا کافی ہے۔ اب اس وقت اس بارڈر کا کھل جانا بہت سے سوال اٹھاتا ہے۔ ہم نے بڑی فراخدلی سے یہ راستہ کھولا ہے۔ بھارت کے بھی اپنے عزائم ہوں گے۔ یہاں آسانی کے ساتھ بھارت سے سکھ یاتری ہی نہیں۔ دوسرے بھارتی شہر ی بھی زیارت کے لئے آ جا سکیں گے۔ وہ مگر وہیں سے واپس جائیں گے۔

ہم بھی وہاں جا سکیں گے مگر سرحد عبور نہیں کریں گے۔ بعض لوگ اس پر دوسرے عقائد کے لوگوں کی آمد و رفت کی بات کرتے ہیں جو اس علاقے میں اپنے عزیزوں سے مل سکیں گے۔ مگر زیادہ وسیع تناظر میں دیکھیں تو دنیا میں ایسے علاقے خفیہ جاسوسوں کا ٹھکانہ ہوا کرتے ہیں۔ یورپ جنگوںمیں مبتلا تھا عظیم جنگوں میں۔ سوئٹزر لینڈ مگر نیوٹریل تھا۔ روس ‘ امریکہ اور جانے کس کس ملک کے جاسوس یہاں آیا جایا کرتے تھے۔ اس پر کتابیں ہی کتابیں لکھی گئی ہیں۔پہلے یہ کام کبھی دوبئی‘ نیپال‘ کبھی کسی اور جگہ سے کیا جاتا تھا۔ اب یہ گھر آنگن کی بات ہو گی یہ انتباہ اس لئے نہیں کہ ہم اس سہولت کے بارے میں چونک جائیں‘ صرف محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ یہ سہولت دی ہے تو اس کے تقاضوں سے بھی باخبر رہنا ہو گا۔ بھارت یقینا چوکنا ہو گا۔ ہم بھی ہشیار ہو جائیں۔ ڈر کر بھاگنا زیب نہیں دیتا مگر بہادری کا مطلب بے وقوفی نہیں۔ ہمیں اس علاقے کی حساسیت سے واقف رہنا چاہیے اور باخبر بھی ان معنوں میں فائدہ بھی ہو سکتا ہے اور نقصان بھی۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے باخبر حلقے اس سے آگاہ نہ ہوں۔