پھر اس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں- محمد اظہارالحق

وہ آفاقی اور لازوال پیغام کے ذریعے ملت کو کہکشائوں سے بلند اوجِ ثریا کے مقامِ آشنائی کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم امت کی سربلندی اور آبائو اجداد کے تفاخر کی صورت بیان کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی نوجوان جماعت نئے نظام کی تعمیر و ترقی کے لئے نئی روح پھونک دے۔‘‘ یہ ’’آسان‘‘ اور ’’مختصر‘‘جملہ اقبال کے بارے میں اس کتاب سے لیا گیا ہے جو ہمارے ہاں مہنگے انگریزی سکولوں میں رائج ہے اور جو’’کیمبرج بورڈ 2021ء کے لئے جدید سلیبس کے عین مطابق ہے‘‘ کیمبرج بورڈ کی (اگر کوئی ہے تو) دلچسپی اگر اردو سلیبس میں سنجیدگی کے ساتھ ہوتی تو وہ اردو کے ماہر اور تجربہ کار اساتذہ کی کمیٹی بناتا اور ان کی رہنمائی میں ایک ایسی کتاب مرتب کراتا جو ان تمام سکولوں کے لئے لازمی ہوتی جو کیمبرج سسٹم کے ساتھ ملحق ہیں۔ جو کتاب ہمیں دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اس میں اقبال کی ایک مشکل نظم شامل کی گئی ہے جس میں فارسی کا بھی شعر ہے جو یوں لکھا گیا ہے ؎ چہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابے دل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتاب جو اس طرح لکھا جانا چاہیے تھا ؎ چہ باید مرد راہ طبع بلندی‘ مشرب نابی دل گرمی‘ نگاہ پاک بینی‘ جان بیتابی اقبال کا تعارف جو اس کتاب میں موجود ہے اس میں ان کے حالات زندگی کی طرف ہلکا سا اشارہ بھی نہیں! ان کی تصانیف کے نام بھی مفقود ہیں۔

یہ ایک مثال ہے اس سلوک کی جو اقبال کے ساتھ اس ملک میں روا رکھا جا رہا ہے۔ اقبال کے طفیل اداروں کے ادارے قائم ہیں۔ فنڈنگ ہو رہی ہے۔ خاندانوں کے خاندان پل رہے ہیں کچھ نے ان اداروں کی نظامت سنبھالی تو سب سے زیادہ تشہیر اپنی اور اپنی تصانیف کی کی۔ کچھ نے تو عملی صوفی کا بھی بزبان خود اعلان کیا۔ مگر اقبال کا کلام کسی منظم سنجیدہ کوشش سے محروم ہی رہا۔ اقبال ڈے منانے کا فیشن بھی خوب ہے۔ اس دن تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ نشستیں ہوتی ہیں۔ جلسے کئے جاتے ہیں۔ اقبال کے تصور خودی پر لمبے‘ خواب آور مقالے پڑھے جاتے ہیں، اقبال کے شاہین پر تقریریں ہوتی ہیں۔ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اقبال کو پڑھا کیسے جائے!ضمیر جعفری نے کہا تھا ؎ بپا ہم سال میں اک مجلس اقبال کرتے ہیں پھر اس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں اور یہ بھی کہ ؎ حضرت اقبال کا شاہیں تو کب کا اڑ چکا اب کوئی اپنا مقامی جانور پیدا کرو ستر برس ہو گئے اس ملک کو وجود میں آئے ہوئے۔ ابھی تک علامہ اقبال کی مستند قابل اعتماد‘ سوانح حیات نہیں لکھی یا لکھوائی گئی۔ یہی سلوک قائد اعظم کے ساتھ کیا گیا۔ سرحد پار بھارت میں گاندھی اور نہرو تو خیر پہلی صف کے رہنما تھے۔ پٹیل تک کی سوانح حیات موجود ہے۔

کون سا طبقہ ہے جس نے اقبال سے فائدہ نہیں اٹھایا؟ گویا ؎ مرے لاشے کے ٹکڑے دفن کرنا سو مزاروں میں بنے گا کوئی تو تیغِ ستم کی یادگاروں میں جو پیر پرستی کے مخالف تھے ‘ انہیں یہ قطع راس آیا ؎ گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی جو بزرگوں کی تقدیس و کرامات کے قائل ہیں انہوں نے یہ شعر ڈھونڈ نکالا ؎ تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی مُلا کے مخالفن کی تو چاندی ہی ہو گئی ع دینِ مُلا فی سبیل اللہ فساد اور ؎ میں جانتا ہوں انجام اس کا /جس معرکے میں ملا ہوں غازی اور یہ بھی کہ ؎ مُلا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد مد مقابل جو کھڑے تھے انہوں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ؎ افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج ملا کو اس کے کوہ د امن سے نکال دو اشتراکیت کے ہم نوائوں کو اقبال کے ہاں سے گویا خزانہ مل گیا ؎ تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات اور یہ بھی کہ ؎ جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر گوشہ گندم کو جلا دو کمیونزم کے مخالفین کو بھی کچھ نہ کچھ مل ہی گیا ؎ تری کتابوںمیں اے حکیم معاش رکھا ہی کیا ہے آخر خطوط خمدار کی نمائش ‘ مریز و کجدار کی نمائش مگر اقبال نے ان سب سے دامن بچایا اور اپنے آپ کو الگ مقام دیا۔

کبھی اعلان کیا ؎ کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق/نے ابلہِ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند/اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش/میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند کبھی بتایا کہ ؎ نہ میں اعجمی نہ ہندی نہ عراقی و حجازی/کہ خودی سے میں نے سیکھی دو جہاں سے بے نیازی کبھی سیدِ کونین سے انصاف کی بھیک مانگتے ہیں ؎ من ای میرِ امم! داد از تو خواہم/مرا یاران غزل خوانی شمر دند کہ اے امتوں کے سردار! آپ سے انصاف چاہتا ہوں! یاروں نے مجھے (محض) غزل گو سمجھا۔ کبھی سمجھانے کی کوشش کی کہ ؎ نہ بینی خیر از آن مردِ فرودست/کہ برمن تہمتِ شعرو و سخن بست/بکوئی دلبران کاری ندارم/دل زاری غم یاری ندارم کہ مجھ پر شعرو سخن کی تہمت باندھنے والے، کم رتبہ شخص سے اچھی امید نہ رکھو۔ معشوقوں کے کوچے میں میرا کیا کام!غم یار ہے میرے پاس نہ دلِ زار! کلام اقبال ایک سمندر ہے اور ہم اس کے کنارے پر بیٹھے ہیں۔ اقبال کی فارسی کی تصانیف کو تو چھوڑ ہی دیجیے۔ جاوید نامہ۔ پیام مشرق۔زبور عجم ارمغان حجاز اسرار و رموز‘ پس چہ باید کرد‘ مسافر تو یوں بھی ہماری دسترس سے باہر ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ جو تصانیف علامہ کی اردو میں ہیں ان سے بھی ہم محروم ہیں۔ ذرا نوجوان نسل کے کسی نمائندے سے تصانیف کے عنوانات ہی پوچھ کر دیکھ لیجیے۔ اکثریت خلا میں جھانکنے لگے گی یا منہ کھول کر آپ کی شکل دیکھے گی۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو تعطیلات میں بچوں کو کلام اقبال پڑھاتے ہیں؟ سنا ہے تاجکستان میں کلام اقبال ٹی وی پر سبقاً سبقاً پڑھایا جاتا ہے۔ ہم تو آج تک کلیات اقبال اس معیار کی شائع تک نہیں کر سکے جس معیار کی ایرانیوں نے شائع کی ہے! کبھی کبھی انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اقبال جیسے بطلِ جلیل کے، اقبال جیسے نابغہ کے ہم مستحق بھی تھے یا نہیں؟