سرکار کے دیوانے - ہاجرہ یوسف

آج آپ جہاں نکلیں ایک ہی صدا سنائی دے گی سرکار کے دیوانے خوشیاں منا رہی ہیں جھنڈے لگا رہے ہیں۔ دیوانے تو وہ ہوتے ہیں جو سرکار حکم دیں.. اس پر جی سرکار کہہ کر عمل کریں مگر ان دیوانوں کے بھی کیا کہنے بس جھومے جا رہے ہیں ان کی مثال کچھ ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے ملنگ ہوتے ہیں کچھ پتہ ہی نہیں کیا کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں بس جھوم رہے ہیں۔

ایک اور نعت سنی اس میں کچھ یوں الفاظ تھے گستاخ نبی کی ایک سزا سر تن سے جدا سر تن سے جدا ...اور واقعی ہونا تو ایسا ہی چاہئے لیکن کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اس وقت نہیں ہوتی جب ہم اپنے عمل سے روز سنت رسول مسمار کرتے ہیں ۔ ربیع الاوّل کے 12 دن اب کچھ یوں معلوم ہوتے ہیں
جیسے پہلے محرم کے دن ہوا کرتے تھے ۔ حیرت ہے صحابہ کرام خلفاءراشدین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار نہیں کیا ؟ وہ بھی تو دین کی سربلندی کا الم اٹھائے بغیر بس نعتیں پڑھ لیتے۔ نا جہاد کرتے نا دوسرے امور پر عمل کرتے نا مظلوم کی آواز پر لبیک کہتے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بس خوشیاں مناتے جھومتے گاتے اور جنت میں چلے جاتے۔ آج ہم باہر کا منظر دیکھیں تو ہر طرف گھر سجے ہیں۔۔۔کیا یہ دین اسلام ہے ؟ یا یہ سنت رسول ہے؟ پردہ تو دور کی بات بے دوپٹہ خواتین گھروں کے باہر جھنڈا لگاتی نظر آتی ہیں تو میں سوچ میں پڑ جاتی ہوں کہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے تو اپنا جنازہ بھی رات کو اٹھوایا تاکہ کوئی غیر محرم کے ان کے جنازے کو نہ دیکھے۔تو یہ کیسی محبت ہے؟ جو ہم سنتوں کو چھوڑ کر بس جھومے جارہے ہیں۔ اگر واقعی نبی سے محبت ہے تو سنت پر عمل کرو۔
نبی سے محبت ہے تو اپنے اخلاق درست کرو۔ نبی سے محبت عبادات میں اخلاص پیدا کرو تاکہ قیامت کے دن وہ بھی خوشی سے تمہارا استقبال کریں کہ یہ ہیں میری امت کے لوگ۔۔...